وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب کا پہلا اعزازیہ کارڈ برائے امام مسجد صاحب لانچ کردیا۔ آئمہ کرام کے اعزاز میں سی ایم ہاؤس کے لان میں پروقار تقریب کا انعقادکیا گیا۔ پنجاب میں پہلی بار66ہزار سے زائدامام مسجد صاحبان کوماہانہ اعزازیہ دیا جائے گا۔ رجسٹرڈ آئمہ کرام کو ماہانہ 25ہزار روپے اعزازیہ پیش کیا جائے گا۔پراجیکٹ پر 20ارب روپے صرف ہوں گے۔ شفافیت یقینی بنانے کیلئے آئمہ کرام کو براہ راست ڈیجیٹل ادائیگی ہوگی۔ آئمہ کرام اعزازیہ کار ڈ کے ذریعے اے ٹی ایم سے رقم وصول کرسکتے ہیں۔ فروری سے آئمہ کرام کو وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ کے ذریعے مستقل ادائیگی ہوگی۔ تقریب میں وزیراعلیٰ پنجاب اعزازیہ کارڈ پراجیکٹ کے بارے میں خصوصی ڈاکو مینٹری چلائی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئمہ کرام کو سٹیج پر بلا کر اعزازیہ کارڈ پیش کیے۔ اٹک سے رفیق مغل، فیصل آباد سے رضوان کوثر، ملتان سے نادر رضا جعفری،لاہور سے عبدالوحید، بھکر سے غلام مصطفی، پاکپتن سے اویس منظور، مظفر گڑھ سے سید محمد عون، ڈی جی خان سے عطاالرحمن کو اعزازیہ کارڈ پیش کیے گئے۔ صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے وزیراعلیٰ اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب پراجیکٹ کے اغراض ومقاصد پیش کیے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئمہ کرام کی آمد کو حکومت پنجاب کے لئے اعزاز قرار دیا

۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ آئمہ کرام معاشرے کے ستون اور دین کے علمبردار ہیں۔آئمہ کرام کے لئے اعزازیہ کی خدمت کا موقع ملنے کو اپنا اعزاز سمجھتی ہوں۔ہر غم یا خوشی کی تقریب میں علماء کرام ہی سے رہنمائی لی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب پراجیکٹ لانچنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اعزازیہ کارڈ کے اجراء پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی اور پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ آئمہ کرام قابل احترام ہیں، کوئی مسئلہ ہوتو ان کی طرف دیکھا جاتا ہے کہا جاتا امام مسجد سے فیصلہ کرالیں۔سن کر دکھ ہوا کہ علماء کرام کی تنخواہ کے لئے ہر ماہ چندے کی آواز لگائی جاتی ہے مل ملاکر پانچ سے 10ہزار ہی بنتے ہیں۔ علماء کرام دین کا روشن چہرہ ہیں، صدا لگا کر خرچ اکٹھا کرنا افسوسناک ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ آج 2026ء میں بھی بہت سے مساجد کے امام کو صرف پانچ ہزار روپے پیش کیے جاتے ہیں۔عام انسان کی طرح امام مسجد صاحب کو بھی ضروری اخراجات درپیش ہوتے ہیں۔بہت کم آمدن میں روزمرہ کے اخراجات پورے کرنا مشکل امر ہے۔آئمہ کرام کو 15ہزار روپے دینے کا فیصلہ کیا تونواز شریف نے کم از کم 25ہزار کرنے کی ہدایت کی۔ تھوڑی سی رقم سے اگر آئمہ کرام کے لئے آسودگی پیدا ہوسکتی ہے تو اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی۔ معاشرے میں آئمہ کرام کو ان کا مقام نہ دینا افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہاعزازیہ پروگرام کا آغاز کیا تو منفی پروپیگنڈا شروع ہوگیالیکن آئمہ کرام کی طرف سے مثبت رسپانس آیا۔پنجاب میں تقریباً 80ہزار مساجد ہیں، 70ہزار مساجد سے مثبت جواب ملے، رجسٹریشن بدستور جاری ہے۔ اس ماہ آئمہ کرام کو پے آرڈر کے ذریعے ادائیگی ہوگی.اگلے ماہ سے مستقلاً اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کی جائے گی۔ 25ہزار زیادہ نہیں،میڈیا کی وساطت سے مساجد انتظامیہ کو ریگولر معاونت جاری رکھنے کی اپیل کرتی ہوں۔ اعزازیہ کارڈ سے ڈیجیٹل ادائیگی کا مقصد شفافیت اور آسانی ہے۔آئمہ کرام حکمرانوں اور عوام کی تربیت کرتے ہیں، حقوق اللہ کو بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔ اعزازیہ حقیر سا نذرانہ اور تحفہ ہے،حکومت اور آئمہ کا قریبی رابطہ ہونا چاہیے۔ حکومت امور میں بہتری کے لئے آئمہ کرام کی معاونت اور مشاورت کی ضرورت ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ آئمہ کرام کو بیماری، بچوں کی فیس یا کوئی بھی مسئلہ درپیش ہو تو حکومت حاضر ہے۔ نماز پڑھنے والے امام کی بات سنتے ہیں، آپ حکومت کی آواز کو لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر قائم ہوا۔ امن و آشتی کے فروغ کے لئے حکومتی آواز کو آئمہ کرام کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ دوسرے مذاہب کے لوگ یہاں بستے ہیں کیا وہ خوف میں زندگی گزاریں۔دوسرے مذاہب کے لوگ اس خوف میں نہ رہے کوئی کسی وقت آکر ہمارا گھر جلا سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ ہرا قلیت بے خوف ہوکر اپنی زندگی گزار سکیں۔ حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر کوئی کسی غیر مسلم کے ساتھ زیادتی کرے گا تو قیامت کے دن اس کا وکیل ہوں گا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ کسی بھی مذہب کو برا مت کہو تاکہ کوئی تمہارے مذہب کو برا مت جانیں۔معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے مذہبی منافرت اورتقسیم روکنا علماء کی ذمہ داری ہے۔بعض لوگ مذہب کے نام پر فتنہ کو فروغ دیتے ر ہے۔بے رحمی سے معاشرے کو تار تار کیا گیا،پولیس اوررینجر ز کے جوانوں کو شہید اورمارا پیٹا گیا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نوجوان آپ کی جان و مال کی حفاظت کیلئے کھڑے ہوتے ہیں۔ شہید ہونے والے جوانوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ستھرا پنجاب کی گاڑیاں جلا دی گئی۔املاک کو تباہ کیاگیا،روزگار بند ہوئے،گھروں کو ویران کیا گیا اوروہ خود کو مذہبی جماعت کہتے ہیں۔لوگوں کی زندگی کو تنگ کردینا اورسرکاری املاک کو نقصان پہنچا فتنہ نہیں تو کیا ہے۔کسی فتنے کو فروغ دینا اورنام دین کا استعمال کرنا، امانت میں خیانت نہیں۔دل میں برائی کو برا جاننا ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔مشکلات آنے پر لوگ دین کی طرف رجوع کرتے ہیں،امام صاحب سے رہنمائی لیتے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ادب سے گزارش کرتی ہوں کہ فتنہ،ظلم اورذیادتی کسی بھی رنگ و نسل سے ہو برداشت نہیں۔ظالم کو کٹہرے میں لاکر مظلوم کو انصاف دلانا ریاست کا فرض ہے۔ریاست اپنے شہدا ء کے خون کا حساب لے گی۔ریاست کبھی ملک کی سلامتی کیساتھ کھلواڑ کی اجازت نہیں دے گی۔پنجاب سے ڈالہ کلچر،خواتین بچوں کی بے حرمتی اوردن دیہاڑے قتل ختم کیے۔پنجاب میں کسی فتنے کو پنپنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔پنجاب کی سرزمین فتنے،ظالم اورمافیا کے لئے تنگ کردی گئی ہے۔لوگ آئمہ کرام کی بات سنتے ہیں اورمعاشرے کی اصلاح دینی فریضہ ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ علمائے کرام لوگوں کو دین کی تعلیم کی طرف لاتے ہیں۔ملک و قوم کی خدمت اورحفاظت صرف حکومت ہی نہیں سب کی ذمہ داری ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کو احترام سب پر فرض ہے۔ٹریفک قوانین میں سختی پر خوش نہیں لیکن عوام کی حفاظت کیلئے ضروری ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہیلمٹ انسانی جان کی حفاظت کیلئے ضروری ہے،تاکہ کسی کا باپ،بیٹا یا بھائی نہ بچھڑے۔نشے،برائی،قبضے،جرم کی روک تھام اورقانون کا احترام ضروری ہے۔حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی،لیکن امام مسجد کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے۔ہمیں اپنے معاشرے کو قابل تقلید معاشرہ بنانا چاہیے۔ناحق قبضے،ماں باپ کی تکریم،حلال حرام کی تفریق کے بارے میں بتانا ضروری ہے۔ایک ایسا معاشرہ بنانا چاہتے ہیں جس پر سب کو فخر ہو۔امام مسجد کیلئے اعزازیہ کار ڈ آغازہے،چاہتے ہیں کہ ان کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا۔






