وزیراعلٰی محمد سہیل آفریدی نے پاکستان سٹیزن پورٹل کی اصلاح اور فعالیت میں اضافے کا باضابطہ آغاز کر دیا

خیبر پختونخوا میں ”عوام کا احساس“ وژن کے تحت پاکستان سٹیزن پورٹل کی فعالیت میں مؤثر اضافہ، وزیراعلٰی محمد سہیل آفریدی نے پاکستان سٹیزن پورٹل کی اصلاح اور فعالیت میں اضافے کا باضابطہ آغاز کر دیا۔وزیراعلٰی محمد سہیل آفریدی نے پاکستان سٹیزن پورٹل کی براہ راست ذاتی نگرانی کرنے کا اعلان بھی کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے شہری، سمندر پار پاکستانی پورٹل پر آئیں،شکایات کا بروقت ازالہ کیا جائے گا، نئی اصلاحات کے باعث دور دراز علاقوں کے عوام اور انٹرنیٹ تک رسائی نہ رکھنے والے شہری دستی طور پر بھی شکایات درج کرا سکیں گے۔ صوبے بھر کے تمام اضلاع میں 2354 ڈیش بورڈز پر شہریوں کو دستی طور پر شکایات درج کرانے کی سہولت موجود ہوگی، تمام متعلقہ حکام شکایات کے بروقت ازالہ کے ذمہ دار ہونگے، غفلت ناقابل برداشت ہو گی، جو شکایت ایک دن میں حل ہو سکتی ہے اس پر ہفتہ لگتا ہے تو یہ غفلت ہو گی، ذمہ داران جوابدہ ہوں گے۔ ای گورننس کے تحت وضع کی گئی تمام ایپس کو پورٹل کے تحت یکجا کیا جائے گا، وزیراعلی سیکرٹریٹ سے آن لائن کھلی کچہریوں کا آغاز کر چکا، دیگر محکمے بھی آن لائن کھلی کچہریوں کا انعقاد کریں، کھلی کچہریوں میں موصول ہونے والی شکایات کو مؤثر نگرانی کے لیے پاکستان سٹیزن پورٹل پر ڈالا جائے۔ ہم اپنے قائد عمران خان کے وژن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سٹیزن پورٹل کے ذریعے ای گورننس کی عملی مثال قائم کی، ہمارا مقصد ہے کہ عمران خان کا احساس ہر دل میں اتر جائے، ہر سطح پر نظر آئے، جب تک عوام کے درد کا احساس نہ ہو، مؤثر ڈیلیوری ممکن نہیں۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ عوام کی اداروں تک آسان رسائی کے لیے تمام متعلقہ ایپس کو پورٹل کے تحت یکجا کیا جائے گا، اداروں کی عوام تک رسائی کے لیے آن لائن کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جائے گا، تیسری سطح پر شکایات کے از خود ازالہ کا مؤثر نظام وضع کیا جائے گا، پاکستان سٹیزن پورٹل پر صوبے کے ساڑھے 7 لاکھ سے زائد افراد رجسٹرڈ ہیں۔ مرکز میں پی ٹی آئی حکومت خاتمے کے باوجود گزشتہ 3 سال میں 2 لاکھ 15 ہزار افراد نے رجسٹریشن کی. صوبے میں پورٹل کے تحت شہریوں کے اطمینان کی شرح 54 فیصد، ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے، بحال شدہ نظام کے تحت مجموعی کارکردگی اور اطمینان کی شرح میں نمایاں بہتری آئے گی۔

جواب دیں

Back to top button