میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے شہری نظم و نسق کو مؤثر بنانے اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر کرنے کے لیے ایک اہم اقدام کے تحت کے ایم سی کے مختلف محکموں میں نئی ہیوی وہیکلز کو بیڑے شامل کر دیا ہے، اس اقدام کا مقصد بلدیاتی امور کی انجام دہی میں نقل و حرکت اور کارکردگی کو بہتر بنانا اور کے ایم سی کے اپنے وسائل کے خودمختار استعمال کو فروغ دینا ہے، ان وہیکلز کی خریداری پرانی اور ناکارہ گاڑیوں کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے کی گئی جس کے تحت ماؤنٹ ٹرکس سمیت ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں کی خریداری کے لیے 110 ملین روپے کی منظوری دی گئی، کے ایم سی ہیڈ آفس میں گاڑیوں کی تقسیم کی منعقدہ تقریب میں میئر کراچی نے باضابطہ طور پر یہ گاڑیاں مختلف محکموں میں محکمہ انجینئرنگ، محکمہ اینٹی انکروچمنٹ، محکمہ پارکس اور محکمہ ویٹرنری کے حوالے کیں،اس موقع پرکے ایم سی سٹی کونسل میں پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی، ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، کے ایم سی افسران سمیت دیگر عملہ بھی موجود تھا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اپنے وسائل اور اپنے بجٹ سے شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اخراجات کر رہی ہے،مثبت حکمت عملی کے ذریعے کے ایم سی کے ریونیو میں اضافہ کیا گیا ہے اور دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ گلی محلوں سے لے کر بڑے ترقیاتی منصوبوں تک بیک وقت کام کیا جاسکتا ہے،میئر کراچی نے بتایا کہ کے ایم سی کونسل سے اجازت لے کر غیر استعمال شدہ اور اسکریپ سامان کی نیلامی کا فیصلہ کیا گیا

، جس کے نتیجے میں 227 ملین روپے حاصل ہوئے، انہی رقوم سے پانچ نئی ہیوی گاڑیاں خریدی گئیں،دو گاڑیاں ای این ایم، جبکہ ایک ایک گاڑی محکمہ اینٹی انکروچمنٹ، پارکس اور ویٹرنری ڈپارٹمنٹ کو دی جا رہی ہے، مزید پانچ گاڑیاں مختلف محکموں کے لیے جلد خریدی جائیں گی جبکہ پانچ بسوں کی مرمت بھی مکمل کر لی گئی ہے،میئر کراچی نے کہا کہ نئی ہیوی وہیکلز فیلڈ آپریشنز میں مؤثر ثابت ہوں گی، شہر میں تجاوزات کے خاتمے کے عمل میں تیزی آئے گی اور پارکس و شہری خوبصورتی سے متعلق کام مزید بہتر ہوں گے، ان اقدامات سے کے ایم سی کے محکموں کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی،ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ جہانگیر روڈ اور ناتھا خان پل کی متبادل سڑک پر کام جاری ہے اور وہ خود ان منصوبوں کا دورہ کریں گے، بھینس کالونی فلائی اوور پر بھی تیزی سے کام ہو رہا ہے اور امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہ دیرینہ مسئلہ ملیر کے عوام کے لیے حل ہو جائے گا، انہوں نے اعلان کیا کہ شاہراہ بھٹو سے ایئرپورٹ کے راستے پر ایک نیا فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا جبکہ ہدف یہ ہے کہ سو دن میں جاری ترقیاتی کام مکمل کیے جائیں،میئر کراچی نے کہا کہ یہ سال ترقیاتی کاموں کا سال ہے اور بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر پر 46 ارب روپے خرچ کرنے جا رہی ہے، شہر کے ہر ضلع اور ہر علاقے میں ترقیاتی سرگرمیاں جاری ہیں اور کام ہوتا ہوا واضح نظر آ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ اولڈ سٹی ایریا میں 60 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے جس سے جوڑیا بازار، لی مارکیٹ اور نیپئر روڈ کے رہائشی مستفید ہوں گے جبکہ شاہراہ لیاقت پر جاری کام بھی جلد مکمل کر لیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ کورنگی کازوے برج جلد شہریوں کے لیے کھول دیا جائے گا، ای بی ایم کازوے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نمائندوں نے مکمل کیا ہے جبکہ بلوچ کالونی ایکسپریس وے، مرغی خانہ فلائی اوور اور دیگر منصوبے بھی جلد شہریوں کے لیے تحفے کے طور پر پیش کیے جائیں گے، ریڈ لائن منصوبے کے مختلف فیز مارچ اور جولائی میں عوام کے لیے کھولنے کا بھی اعلان کیا گیا، ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کراچی آ رہے ہیں، انہیں مکمل سیکورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا تاہم شہر کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، انہوں نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں پر کوئی اعتراض نہیں، بس شہر کے ٹریفک کو مفلوج نہ کیا جائے،انہوں نے آوارہ کتوں کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نیوٹرنگ کریں تو ایک طبقہ ناراض ہو جاتا ہے اور کلنگ کریں تو دوسرا، تاہم وہ اینیمل رائٹس کے حامی ہیں اور اس مسئلے کا انسانی اور متوازن حل نکالا جائے گا،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے، وسائل شہر کی بہتری پر لگائے جائیں گے اور آنے والا وقت کراچی کے شہریوں کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔






