وزیراعلی مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس،آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ کے لئے اہم فیصلے

وزیراعلی مریم نوازشریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا،جس میں آتشزدگی کے واقعات سے بچاؤ کے لئے اہم فیصلے کیے گئے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ویڈیو لنک پر کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرزسے خطاب کیا اوراہم احکامات جاری کیے۔ وزیراعلی مریم نوازشریف نے 9ڈویژن کے 1157مقامات پر واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں ریسکیو 1122میں نیا فائر انسپکٹوریٹ یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیااور آتشزدگی کے سدباب کیلئے جدید ترین ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹرکے استعمال کا بھی فیصلہ کیا۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے بڑی عمارتوں میں سموگ ڈیکٹیٹر،سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کا حکم دیا۔فرسٹ ایڈ اورآکسیجن سلنڈر بھی بڑی کمرشل عمارتوں میں لازمی قرار دیا۔کیمیکل،گتا،کپڑا اورسلنڈر وغیرہ کی مارکیٹ میں آتشزدگی سے نمٹنے کیلئے سپیشلائزڈ ٹریننگ کا فیصلہ کیا۔ہر ملٹی سٹوری بلڈنگ میں واٹر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کا حکم دیا۔ایمرجنسی انخلاء کیلئے ہر عمارت میں بیرونی حصے میں ہوادار سڑھیاں لازمی قراردیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واٹر ہائیڈرنٹ کے نرخ تین ماہ کےلئے لاک کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ سمیت گنجان مارکیٹوں میں تجاوزات اوررکاوٹیں ختم کرنے اورتمام اضلاع میں ہر ماہ آتشزدگی کی تیاری کیلئے فرضی مشقیں کرنے کی ہدایت بھی کی۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے نجی اورسرکاری بلڈنگ میں آگ بجانے والے آلات کی موجودگی لازمی قرار،ایکسپائری چیک کرنے کی ہدایت کی۔ہدایات پر عمل نہ کرنے پر بلڈنگ سیل اورمالکان کے خلاف کارروائی اور فائر سیفٹی اقدامات پر فوری عملدر آمد شروع کرنے کی ہدایت کی۔فائر سیفٹی ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کمشنرز اورڈپٹی کمشنرز کے کے پی آئیز میں شامل ہے۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ گل پلازہ سانحہ پر افسوس ہے،دکھ کی گھڑی میں حکومت سندھ،کراچی کے عوام اورسوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ گل پلازہ سانحہ پر پنجاب ہر قسم کی معاونت اورتعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔لاہور میں آتشزدگی کے وقت ہوٹل کی 25منزلہ عمارت میں 300افراد موجود تھے۔ لاہورمیں بہت بڑی ٹریجڈی رونما ہونے سے بچنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بروقت ایس او پیز کی تشکیل اورعملدر آمد کی وجہ سے تباہی سے بچ گئے،300لوگوں کا مطلب 300خاندان ہے۔ریسکیو ٹیمیں اورڈی جی ریسکیو ڈاکٹر رضوان خود پانچ منٹ میں موقع پر پہنچ گئے،سب کو شاباش دیتی ہوں۔انہوں نے کہا کہ کمرشل عمارتوں میں ایمرجنسی خارجی راستوں کاغلط استعمال انتہائی افسوسناک ہے۔ہوٹل کی عمارت کے بیسمنٹ میں بھی آتشزدگی کے وقت بہت سے لوگ موجود تھے۔ہوٹل کی عمارت میں آتشزدگی کے سدباب اورلوگوں کے بروقت انخلاء کے آپریشن کی سیف سٹی کیمرے سے مانیٹرنگ کی۔منسٹر انرجی اورچیف سیکرٹری سمیت دیگرافسران بھی فوری طورپر پہنچ گئے۔آتشزدگی واقعہ میں پوری ٹیم نے فلڈ آپریشن کی طرح ایک یونٹ بن کر کام کیا۔آتشزدگی سے بچاؤ کیلئے ضروری قواعدو ضوابط کو ہر دن فالو کرنا ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ نے کہا کہ فائر سیفٹی اقدمات پر عملدرآمد کیلئے دکھاوے کی حد تک کام نہیں رہنا چاہیے۔ریسکیو 1122بہت اہم ادارہ ہے،درکار آلات،کپیسٹی بلڈنگ اورٹریننگ کیلئے وسائل مہیا کریں گے۔ہوٹل میں تباہی قریبی فائر ہائیڈرنٹ آپریشنل ہونے کی وجہ سے ٹل گئی۔آگ بجانے کیلئے ہائی ایکسپنشن فوم جنریٹرجیسی جدید ٹیکنالوجی بھی استعمال میں لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہوٹل مالکان سانحہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کو زرتلافی ایک کروڑ روپے فی کس زرتلافی ادا کریں۔ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی قابل تحسین ہے،رسپانس ٹائم اچھا تھا،پورے پنجاب میں یہی رسپانس ٹائم ہونا چاہیے۔ڈویلپمنٹ اتھارٹی بلڈنگ کی تعمیر کے دوران سیفٹی ریگولیشن کا نفاذ یقینی بنائیں۔ہر عمارت میں فائر سیفٹی آلات موجود بلکہ فنکشنل بھی ہوں۔بدقسمتی سے جنریٹر،تیل اورپلاسٹک وغیرہ اوردیگر آتشزدگی مٹیریل ایک ہی جگہ سٹور ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام مارکٹیوں کے داخلی اورخارجی راستوں پربالخصوص تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔ڈپٹی کمشنر انسپکشن کی تصاویر اورویڈیو ارسال کریں،کمرشل عمارتوں میں ایک ماہ میں فائر ہائیڈرنٹ کی تنصیب یقینی بنائیں۔آگ بجانے کے آلات کی ایکسپائری ڈیٹ اورفائر آلارم چیک کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جگہ جگہ بے ہنگم لٹکتے ہوئے تار نہ صرف آتشزدگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بارش میں بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہا کہ سہ منزلہ عمارتوں کے بیسمنٹ میں کے چند بوائلر اورآتشزدگی موادسٹورکرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بوائلرپھٹنے سے مزدور مرتا ہے تو گویا خاندان مرتا ہے،کسی بھی مزدور کا جلنا یا مرنا قطعا ًبرداشت نہیں۔وزیراعلی نے ہدایت کی کہ صوبہ بھر میں سلنڈرانسپکشن کی جائے،غیر معیاری سلنڈر بنانے اوربیچنے والے ادارے سیل کیے جائیں۔ہر عمارت میں آٹو میٹک سپرینکل سسٹم ہونا چا ہیے۔ویلڈنگ بھی محفوظ جگہ پر کی جائے،ویلڈنگ کے دوران اڑنے والی چنگاری بھی آتشزدگی کا سبب بن سکتی ہے۔کمرشل عمارتوں میں فائر ہائیڈرنٹ نصب کرنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت ہے،پھر کارروائی ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button