*سی ڈی اے کا سیکٹر D-12 کی پراپرٹیز کے حوالے سے مکمل ڈیجیٹائزیشن نظام کا نفاذ*

وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے مطابق اور چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی ہدایت پر سی ڈی اے نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا۔ سی ڈی اے نے جائیدادوں سے متعلقہ معاملات کی باقاعدہ ڈیجیٹل پراسیسنگ کا آغاز کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے جمعرات کے روز اس سہولت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، متعلقہ افسران اور شہریوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔پہلے مرحلے میں سی ڈی اے نے سیکٹر D-12 کی پراپرٹیز کی مکمل طور پر باقاعدہ ڈیجیٹل پراسیسنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے کو اس نئے ڈیجیٹل سسٹم سے متعلق مکمل ڈیمو اور بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ اقدام روایتی فائلنگ سسٹم سے ہٹ کر ایک منظم اور جدید ڈیجیٹل ورک فلو نظام کی طرف سی ڈی اے کی پہلی باضابطہ منتقلی ہے اور اس نئے اور جدید نظام کے تحت سیکٹر D-12 کیلئے آن لائن جمع کرائی جانے والی ہر درخواست کو اب الیکٹرانک طریقہ کار سے پراسیس کیا جائیگا۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیکٹر D-12 کی پراپرٹیز سے متعلق سی ڈی اے ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر اور آسان خدمت مرکز میں جمع کروائی جانے والی درخواستوں کو نئے نظام کے تحت نمٹایا جائیگا۔ اسی طرح یہ ڈیجیٹل ورک فلو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے شفافیت، رفتار اور احتساب کو یقینی بنائیگا۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نئے نظام کی سب سے نمایاں خصوصیات میں آن لائن درخواستوں کی رئیل ٹائم ٹریکنگ بھی شامل ہے جسکے تحت درخواست گزار کسی بھی وقت اپنی درخواست کی حیثیت، اسکا اسٹیٹس اور کارروائی کے مرحلے سے آگاہ ہوسکے گا۔علاوہ ازیں، بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مینوئل مداخلت میں نمایاں کمی کے باعث پراسیسنگ میں تاخیر کے امکانات بھی کم ہو جائینگے۔ اسی طرح محکمانہ احتساب کو ممکن اور پراپرٹیز سے متعلق کیسوں کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس نظام کے تحت تمام لینڈ ریکارڈ کو محفوظ انداز میں ڈیجیٹائزڈ کیا گیا ہے جس سے نہ صرف ڈیٹا کے گمشدگی یا نقصان کا خطرہ کم ہوگا بلکہ مختلف شعبہ جات کے درمیان ہم آہنگی اور کوآرڈینیشن بھی بہتر سطح پر ممکن ہوسکے گی۔چیئرمین سی ڈی اے کو بتایا گیا کہ اس آٹومیشن سسٹم کے باعث انسانی غلطیوں کے امکانات کم سے کم ہو جائیں گے اور سروس ڈیلوری کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ اس نظام کی ایک اور اہم خوبی اعلیٰ سطح پر مؤثر مانیٹرنگ ہے۔ اس جدید نظام کے تحت ادارے کے متعلقہ اعلیٰ افسران مقررہ ٹائم لائنز کے اندر کیسز کی پراسیسنگ کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل نگرانی بھی کرسکیں گے۔چیئرمین سی ڈی اے کو بتایا گیا کہ اس سسٹم کے تحت تمام ادائیگیاں کیش لیس کی جاسکیں گی اور اس سسٹم کے تحت تمام ٹرانزیکشنز کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ساتھ رئیل ٹائم مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائیگا۔ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کیش لیس پیمنٹ میکنزم سی ڈی اے نے اپنے ان ہاؤس وسائل سے تیار کیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے کو بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر یہ ڈیجیٹل نظام صرف سیکٹر D-12 کے کیسز کیلئے فعال کیا گیا ہے تاہم مستقبل قریب میں دیگر سیکٹرز کو بھی بتدریج اس نظام میں شامل کرلیا جائیگا تاکہ شہریوں کو معیاری، شفاف اور بروقت سہولیات فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس جدید نظام کے تحت شہری سنگل کلک کے ذریعے تمام متعلقہ معلومات تک بآسانی رسائی حاصل کرسکیں گے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے متعلقہ افسران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے تحت سروس ڈیلیوری میں ای- گورننس کے فروغ کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا بلکہ کرپٹ عناصر اور سست روی کے خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر میں آنے والے شہریوں سے انکی فیڈ بیک بھی لی۔ ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر میں آنے والے شہریوں نے سی ڈی اے کے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسطرح کے اقدامات سے ادارے اور شہریوں دونوں کے ٹائم میں بچت ہوگی۔ شہریوں نے درخواست کی کہ سیکٹر D-12 کی طرح دیگر سیکٹرز کیلئے بھی اسطرح کا جدید ترین سسٹم جلد از جلد نافذ العمل کیا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے کہا کہ ہمارا مقصد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شہریوں کو بہتر سے بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

جواب دیں

Back to top button