سندھ کو موسمیاتی مزاحم اور عوام پر مبنی بحالی کے عالمی ماڈل کے طور پر نمایاں کیا گیا، جب صوبائی حکومت نے تین روزہ ایشیا پیسیفک شیلٹر اینڈ سیٹلمنٹس فورم (اے پی ایس ایس ایف) 2026 کی میزبانی کی، جس میں خطے اور دنیا بھر سے رہنما، پالیسی ساز اور انسانی ہمدردی کے ماہرین شریک ہوئے۔سندھ کابینہ کے ارکان، چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ، اعلیٰ سرکاری افسران، مختلف ممالک کے سفارت کار، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، عطیہ دہندگان، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے نمائندگان نے جمعرات کو مقامی ہوٹل میں رہائش اور آبادکاری سے متعلق سب سے بڑے علاقائی اجتماع میں شرکت کی۔خاتونِ اول پاکستان بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محفوظ رہائش صرف ایک جسمانی ڈھانچہ نہیں بلکہ عزت، تحفظ اور مواقع کی بنیاد ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت نے ثابت کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر بحالی، سماجی شمولیت اور موسمیاتی مزاحمت ایک ساتھ ممکن ہے اور صوبے کا سیلاب کے بعد ہاؤسنگ پروگرام عالمی ماڈل بن چکا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’مضبوطی عوام کے ساتھ مل کر بنتی
ہے، عوام کے لیے نہیں۔ جب کمیونٹیز پر اعتماد کیا جائے اور انہیں بااختیار بنایا جائے تو بحالی کا عمل تیز، مضبوط اور پائیدار ہو جاتا ہے۔‘‘خاتونِ اول نے کہا، ’’رہائش صرف سر پر چھت کا نام نہیں بلکہ وہ جگہ ہے جہاں خاندان نقصان سے سنبھلتے ہیں، بچے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں اور کمیونٹیز آگے بڑھنے کی طاقت حاصل کرتی ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی مزاحم اور جامع رہائش کو بنیادی انسانی حق سمجھا جانا چاہیے، خاص طور پر ان خطوں میں جو موسمیاتی خطرات سے دوچار ہیں۔بی بی آصفہ نے ایشیا پیسیفک خطے میں موسمیاتی تبدیلی، تیز رفتار شہری آبادی میں اضافہ اور عدم مساوات کے بڑھتے چیلنجز کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ رہائش کی عدم دستیابی نہ صرف مادی مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ عزت اور استحکام بھی متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر خواتین اور بچوں کے لیے۔ خواتین کو ترقی کا مرکز بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب خواتین کو رہائشی منصوبوں میں مرکزی حیثیت دی جاتی ہے تو اس کے فوائد پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز (ایس پی ایچ ایف) پروگرام پر روشنی ڈالی جو 2022 کے تباہ کن مون سون سیلاب کے بعد شروع کیا گیا، جس میں صوبے کا تقریباً 70 فیصد حصہ زیر آب آیا اور 21 لاکھ سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دنیا کے بڑے آفات کے بعد تعمیرِ نو کے پروگراموں میں شامل ہے، جس کا مقصد سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے 21 لاکھ سے زائد موسمیاتی مزاحم گھر تعمیر کرنا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت گھروں اور زمین کی ملکیت خواتین کے نام پر دی جا رہی ہے، جس سے ملکیت، عزت اور مالی شمولیت کو فروغ مل رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے، جس میں ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا لاڑکانہ میں ایس پی ایچ ایف کے گھروں کا حالیہ دورہ بھی شامل ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا، ’’ہم جہاں بھی گئے، متاثرہ خاندانوں نے صرف ایک مطالبہ کیا کہ ہمیں ہمارے گھر واپس دیے جائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کی تاریخ میں اس سے پہلے صوبائی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر گھروں کی تعمیر کا کام نہیں کیا۔انہوں نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح طور پر کہا تھا کہ عوام کو گھر فراہم کیے جائیں۔ یہ عزم ابتدا میں مالی مشکلات کے باعث انتہائی مشکل نظر آ رہا تھا۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہم نے منصوبے پر کام شروع کیا تو یہ ناممکن لگتا تھا کیونکہ لاگت پورے صوبائی بجٹ سے بھی زیادہ تھی۔‘‘وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ایک ہفتے کے اندر ورلڈ بینک پہلا بین الاقوامی ادارہ تھا جس نے معاونت کا اعلان کیا، جبکہ بعد ازاں چیئرمین بلاول کی قیادت میں منعقدہ عالمی عطیہ دہندگان کانفرنس میں متعدد عالمی شراکت داروں سے مدد حاصل کی گئی۔انہوں نے فورم کو بتایا کہ اب تک 7 لاکھ سے زائد مکانات تعمیر ہو چکے ہیں جبکہ تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی صرف چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کی بدولت ممکن ہوئی، جبکہ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین بلاول بین الاقوامی مصروفیات کے باعث میونخ میں ہونے کی وجہ سے فورم میں شرکت نہیں کر سکے۔اس سے قبل چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے مندوبین کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ انہیں سندھ میں شرکا کا استقبال کرتے ہوئے اعزاز محسوس ہو رہا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سنگین چیلنجز کا ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ تین روزہ فورم ان مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کرنے میں مدد دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آخری روز شرکا کو بحالی کے اقدامات کا عملی مشاہدہ کرانے کے لیے فیلڈ وزٹس بھی کرائے جائیں گے۔سی ای او ایس پی ایچ ایف خالد شیخ نے بتایا کہ اس وقت 15 لاکھ سے زائد مکانات زیر تعمیر ہیں، تقریباً 7 لاکھ 50 ہزار مکمل ہو چکے ہیں جبکہ مستحقین کے لیے 15 لاکھ بینک اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین کی ہے۔کانفرنس تکنیکی اجلاسوں اور پالیسی مذاکرات کے ساتھ جاری رہے گی، جس کا مقصد وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا اور ایشیا پیسیفک خطے میں سب کے لیے محفوظ، پائیدار اور باوقار رہائش کو یقینی بنانا ہے۔فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے لاکھوں بے گھر خاندانوں کو رہائش فراہم کرنے پر سندھ کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ایچ ایف پروگرام نے لاکھوں بے گھر افراد کو اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں مدد دی ہے اور اس فورم کو رہائش اور موسمیاتی مزاحمت پر عالمی مکالمے کا اہم موقع قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کے تعاون سے لاکھوں افراد نے پہلی بار بینک اکاؤنٹس کھولے جبکہ لاکھوں افراد کو زمین کی ملکیت کے حقوق دیے گئے، جس سے مالی شمولیت اور عزت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر اسد علیم نے ایس پی ایچ ایف پروگرام میں اے ڈی بی کی شراکت داری کی توثیق کی اور کہا کہ مناسب پانی، صفائی اور حفظانِ صحت (واش) سہولیات کے بغیر رہائش پائیدار نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اے ڈی بی آئندہ تین سال تک سندھ کی معاونت جاری رکھے گا۔اسلامی ترقیاتی بینک (آئی ایس ڈی بی) کے ریجنل حب کے ڈائریکٹر صالح جلاسی نے ویڈیو لنک کے ذریعے اظہار خیال کیا جبکہ پاکستان میں یورپی یونین کے وفد کے سربراہِ تعاون جیرون ولیمز نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل قرار دیا اور کہا کہ سندھ حالیہ آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یورپی یونین کے نمائندے نے سندھ کے بحالی پروگرام کو منظم اور مؤثر قرار دیا اور اعلان کیا کہ یورپی انویسٹمنٹ بینک بھی سندھ میں جاری دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ پروگرام میں شامل ہوگا۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) پاکستان کے چیف آف مشن میو ساتو نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آئی او ایم 2022 کے سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات میں فعال شراکت دار رہا ہے اور سندھ حکومت اور ایس پی ایچ ایف کے ساتھ مل کر بحالی اور موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ہیبی ٹیٹ فار ہیومینٹی کے ایشیا پیسیفک پروگرامز کی سینئر ڈائریکٹر میا مورینا نے کہا کہ خطہ بڑے چیلنجز سے دوچار ہے اور لاکھوں افراد کو رہائش کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیپال میں 8 لاکھ موسمیاتی مزاحم گھر تعمیر کیے گئے جبکہ انڈونیشیا میں بھی آفات سے متاثرہ کمیونٹیز کو رہائش فراہم کی گئی۔کیتھولک ریلیف سروسز (سی آر ایس) کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر شان کیلاہان نے کہا کہ سی آر ایس سندھ میں سیلاب متاثرین کی مدد پر فخر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت اور ایس پی ایچ ایف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا، ’’رہائش کے بغیر صحت، تعلیم اور روزگار برقرار نہیں رہ سکتے۔‘‘ انہوں نے کمیونٹیز کو مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنانے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور سندھ ہاؤسنگ اقدامات اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے منسلک اقدامات کو امید کی کرن قرار دیا۔فورم کے دوران سندھ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کی نمایاں کہانیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی، جس میں 2022 کے سیلاب سے ہونے والی تباہی اور اس کے بعد ہونے والی غیر معمولی تعمیرِ نو کو اجاگر کیا گیا۔






