گورنر پنجاب نے سابق ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن شفاعت علی کو خاتون ہراسگی کیس میں بے قصور قرار دے دیا،خاتون آفیسر نصرت جبیں کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد قرار

گورنر پنجاب نے سابق ڈی جی اسپیشل ایجوکیشن شفاعت علی کو خاتون ہراسگی کیس میں بے قصور قرار دے دیاہے ۔شفاعت علی کو خاتون ہراسگی کیس میں محتسب آفس نے قصور وار قرار دیتے ہوئے جرمانہ عائد کر دیا تھا۔شفاعت علی کا ایک سال کا تنخواہ میں انکریمنٹ روکنے کا فیصلہ دیا گیا تھا۔خاتون محتسب نبیلہ خان نے متعلقہ محکمے کو سزا پر ایک ماہ میں آرڈر پر عملدرآمد کا حکم دے دیا تھا۔شفاعت علی جو ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ بھی رہے ہیں اور اس وقت محکمہ پی اینڈ ڈی میں اہم ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں نے گورنر پنجاب کو اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی تھی جس کے تفصیلی فیصلہ میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے انکوائری کی کوئی الزام ثابت نہ ہونے پر بے قصور قرار دے دیا ہے

اور صوبائی محتسب کی طرف سے دی گئی سزا بھی ختم کر دی گئی ہے۔گورنر پنجاب کی طرف سے فیصلہ میں قرار دیا گیاہے کہ  یہ بات انتہائی تشویش کے ساتھ نوٹ کی جاتی ہے کہ محکمہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب میں محکمہ کے اعلیٰ افسران کے خلاف اس طرح کی قابل مذمت عمل تشویشناک اور ناقابل معافی ہے جو کہ محکمے کا بہت برا امیج ظاہر کرتا ہے۔ اس سلسلے میں، سیکریٹری، ایس ای ڈی کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نمائندہ نمبر 1 کے خلاف پمفلٹ کی اشاعت کے معاملے کی مکمل انکوائری کریں اور محکمے کے ان بدکرداروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں جو اس مذموم مہم کے پیچھے ہیں

یاد رہے کہ خاتون آفیسر نصرت جبیں کے خلاف محکمہ مذہبی امور کے افسران اور ملازمین نے قبضہ مافیا کی پشت پناہی کرنے پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیاتھا۔مزید برآں نصرت جبیں جو کہ کچھ عرصہ پہلے ٹورزم ڈیپارٹمنٹ میں ڈیپوٹیشن پر کام کر رہی تھی ۔محکمہ نے اس کو وہاں سے بھی نکال دیا ہے

جواب دیں

Back to top button