وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں پنجاب کی ہر یونین کونسل میں زیرو آؤٹ آف سکول چلڈرن کا ٹارگٹ مقررکیا گیا ہے۔ اجلاس میں جہلم میں چیف منسٹر سکول میل پروگرام شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے سکول میل پروگرام کے لئے ملک سٹوریج کیلئے سٹینڈرڈ انتظامات کی ہدایت کی۔اجلاس میں سکول ٹیچرزکی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے فول پروف سسٹم وضح کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ٹیچر ز کی کارکردگی جانچنے کے لئے ماہانہ”کے پی آئی“ پلان طلب کر لیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے ڈپٹی کمشنر ز کوپنجاب سکول ریفارمز پروگرام کے تحت سکولوں کی مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔ سرکاری سکولوں میں ”تھیم آف منتھ“متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پنجاب کے سکولوں میں آئی ٹی لیب کی اپ گریڈیشن کا جامع پلان طلب کر لیا گیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ میں سینٹر زآف ایکسیلنس فار ایرلی چائلڈ ایجوکیشن قائم کرنے کی اصولی منظوری دی گئی۔ سی ای او، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کی سلیکشن پر رپورٹ پیش کی گئی۔ سکول مینجمنٹ کیڈر تشکیل دینے کی تجاویزاور کیمبرج اور دیگر کے اشتراک سے نصاب تعلیم کی تیاری کے امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سپوکن انگلش کیلئے نجی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی گئی۔ سکولوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے”والینٹر آف یونیورسٹی“ کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی گئی۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت طلبہ کو فورٹیفا ئڈ بسکٹ اور بن فراہم کرنے کے پائلٹ پراجیکٹ پر غور کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں کرپٹ عناصر کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میٹرک ایجوکیشن کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کئے جائینگے۔ سکول میل پروگرام کی ایپ کی ذریعے مانیٹر نگ سسٹم کی رپورٹ پیش کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سکول میل پروگرام کے آغاز سے انرولمنٹ میں بیس ہزار اضافہ ہوا۔ سکولوں میں ابتدائی ہیلتھ اینڈ اکیڈمک بیس لائن قائم۔سینیٹرپرویز رشید، سینئر منسٹر مریم اورنگزیب،صوبائی وزیر اطلاعات وثقافت عظمیٰ زاہد بخاری،وزیر تعلیم رانا سکندر حیات،پارلیمانی سیکرٹری نوشین عدنان، ایم پی اے ثانیہ عاشق،پرنسپل سیکرٹری، سیکرٹری تعلیم اور دیگر حکام نے شرکت کی۔






