پاکستان قومی محاذِ آزادی نے اپنے بانی اور عظیم انقلابی رہنما معراج محمد خان کی9ویں برسی جمعرات، 24 جولائی کو حسینہ معین ہال، آرٹس کونسل کراچی میں منائی۔ اس موقع پر مقررین نے معراج محمد خان کی جرا ت، ثابت قدمی اور عوامی حقوق کے لیے مسلسل پچاس سالہ جدوجہد کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ان کی جدوجہد کا آغاز 1958 سے ہوا جس میں وہ بارہ سال سے زائد عرصہ جیل میں بھی قید رہے ان کا مقصد عوامی جمہوریت، سماجی انصاف اور مزدوروں، کسانوں، محکوم طبقات اور مظلوم قومیتوں کے حقوق کا تحفظ تھا تقریب کا آغاز محترمہ تحسین فاطمہ نے کیا جو جو اس پروگرام کی نظامت کار تھیں انہوں نے معراج محمد خان کی زندگی اور ان کی جدوجہد پر مختصر تعارف بھی پیش کیا تقریب کے مہمان خصوصی استقلال پارٹی کے چیئرمین سید منظورعلی گیلانی تھے جبکہ صدارت تقریب کے میزبان اظہر جمیل (چئیرمن پاکستان قومی محاذ آزادی) نے کی دیگر مقررین میں مسلم لیگ ن کے نائب صدر شاہ محمد شاہ، معروف صحافی اور مصنف زاہد حسین، ذوالفقارعلی بھٹو جونیئر، سینئر وکیل شہاب اُستو، کنسرنڈ سٹیزنز الائنس کے شریک بانی ڈاکٹر مرزا علی اظہر، ڈائریکٹر روٹس فارایکوئٹی محترمہ عذرا طلعت سعید، معراج محمد خان کے صاحبزادے خاقان محمد خان، پی کیو ایم اے کے لیبر سیکریٹری جان محمد خاصخیلی اور مسلم لیگ ن لیبر ونگ کراچی ڈویژن کے صدر محبوب الٰہی شامل تھے

تقریب کا عنوان تھا کہ ”ہم اپنے ملک کو مستقل درپیش بحرانوں سے کیسے نجات دلا سکتے ہیں ”۔ مقررین نے اپنے اپنے خیالات پیش کیے تاہم سب کی آراء میں ایک نکتہ مشترک تھا کہ ملک میں انقلابی اصلاحات کی فوری ضرورت ہے ان اصلاحات میں زمینوں کی از سرِ نو تقسیم یعنی لینڈ ریفارمز، مزدور طبقے کے لیے کم از کم معیاری اجرت کی ضمانت، ای او بی آئی کے دائرہ کار کو وسیع کرتے ہوئے تمام مزدوروں، کسانوں، گھریلو ملازمین اور پیشہ ور افراد کو اس میں شامل کرنا، تمام آمدنی کے ذرائع پر ٹیکس عائد کرنا خاص طور پر ان شعبوں پر جہاں ٹیکس نہیں دیا جاتا، معیشت کو ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے رسمی معیشت (formal economy) بنانا تاکہ حکومت کے پاس موجود تمام ڈیٹا کو مربوط کیا جا سکے، آبادی کے کنٹرول کے لیے فوری اقدامات اور تعلیم میں ایسی انقلابی اصلاحات لانا شامل ہے جو نئی نسل اور بچوں کا مستقبل محفوظ بنا سکیں مقررین نے کہا کہ پاکستان ایک ٹائم بم پر بیٹھا ہوا ہے اور اگر یہ اصلاحات فوری طور پر نافذ نہ کی گئیں تو کسی بھی وقت سماجی دھماکہ ہو سکتا ہے سول سوسائٹی، سیاسی جماعتیں اور وہ تمام حلقے جو اس جدوجہد سے متفق ہیں کہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر مسلسل جدوجہد کرنی چاہیے کیونکہ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ہم اس پرانے، کرپٹ اور ظالمانہ نظام کو تبدیل کر سکتے ہیں مقررین کا کہنا تھا کہ مٹھی بھر خود غرض اور کرپٹ اشرافیہ محض دس فیصد لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے جبکہ پچاس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اظہر جمیل (چئیرمن پاکستان قومی محاذ آزادی) نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست نہیں بلکہ ناکام نظام کا شکار ہے جسے فوری طور پر بدلنے کی ضرورت ہے اس بات کی بھی تجویز دی گئی کہ اس مکالمے کو مزید وسعت دی جائے اور ہر اس پارٹی، گروہ، سول سوسائٹی اور سماجی و سیاسی کارکن کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ ایک ”عوامی میثاق“ تشکیل دیا جائے جو ملک میں عوامی بیداری اور منظم تحریک کا پیش خیمہ بنے۔






