وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے سول سیکرٹریٹ میں پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ڈی پی) کے ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرحلہ وار صوبے کے 200 چھوٹے بڑے شہروں میں سیوریج سسٹم اور بارانی پانی کے زیر زمین ذخائر بنائے جائیں گے۔ رابطہ سڑکوں کی مرمت ہوگی اور کوئی گلی کچی نہیں رہے گی۔ پی ڈی پی کے تحت شہروں کی 2050 تک کی آبادی کے لئے ترقیاتی سکیمز بنائی گئی ہیں۔

اجلاس میں سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ احمر کیفی نے بھی شرکت کی۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے پی ڈی پی کے مختلف پہلوئوں پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف شہروں میں 25 اکتوبر سے عملی کام شروع ہو جائے گا۔ وزیر بلدیات نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 52 شہروں میں سکیموں کیلئے پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی (پی ایم ڈی ایف سی) نے سروے مکمل کرلیا جبکہ پی اینڈ ڈی بورڈ فیز ون میں 51 شہروں کے پی سی ون کی منظوری دے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت اس میگا پراجیکٹ پر 304 ارب روپے خرچ کر رہی ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ پی ڈی پی کا پہلا مرحلہ 18 سے 24 ماہ کے اندر مکمل ہو جائے گا۔ ستھرا پنجاب کی طرح پی ڈی پی کیلئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا میکانزم بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹ لائٹس اور پارکوں کی بحالی بھی اسی پروگرام کا حصہ ہے۔ ڈسپوزل سٹیشنز کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ اُن کی سولرائزیشن بھی کریں گے۔ آلودہ پانی ٹریٹمنٹ پلانٹس سے پراسیس کے بعد دریائوں میں ڈالا جائے گا۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ ٹینڈرنگ کا عمل شفاف طریقے سے جلد مکمل کر لیا جائے اور حالیہ مون سون کے دوران اربن فلڈنگ کے تجربے کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ دیرپا نتائج کے لئے پہلی بار لائننگ والے سیوریج پائپ کا کلچر متعارف کرا رہے ہیں۔ لائننگ پائپ ٹیکنالوجی پاکستان میں آنے سے مستقبل میں نجی سکیموں کو بھی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ متعلقہ کمپنیوں کو پائپ کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ پی ڈی پی سے روزگار کے مواقع بڑی تعداد میں پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ (پی ایم یو) ڈویژنل سطح پر سارے کام کی نگرانی کرے گا۔





