اسلام آباد میں واٹر میٹرنگ کے نظام کو نافذ کرنے کیلئے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ

چئیرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت بدھ کے روز اسلام آباد واٹر ایجنسی کے تحت پانی اور سیوریج کے ممکنہ منصوبوں کے حوالے سے سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ڈی جی اسلام آباد واٹر، ڈی جی پی اینڈ سی اے، آئی ایف سی (IFC) کے وفد، پی تھری اے کے نمائندگان سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ سی ڈی اے اسلام آباد کے شہریوں کو صاف اور محفوظ پانی کی بلا تعطل فراہمی کیلئے جدید اور پائیدار حل اپنانے پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سیوریج سسٹم کی بہتری اور صاف پانی کے منصوبوں پر جلد عملی طور پر کام کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔واضح رہے اس سلسلہ میں اسلام آباد واٹر ایجنسی کو جدید سہولیات، ماہرین، تیکنیکی معاونت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کیلئے بھر پور اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں پانی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں پانی کے ضیاع کو روکنے اور لائنز لاسز کو ختم کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح پانی کے ضیاع کو روکنے، اسکے دانشمندانہ استعمال اور بچت کیلئے متعدد اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ اس ضمن میں صاف اور معیاری پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام شعبوں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔اجلاس میں واٹر میٹرنگ پراجیکٹ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں اسلام آباد میں واٹر میٹرنگ کے نظام کو نافذ کرنے کیلئے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اسلام آباد میں ٹیوب ویلز سمیت تمام برقی تنصیبات کو سولر سسٹم پر منتقل کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس میں ٹیوب ویلز پر جدید انرجی ایفشنٹ پمپس کی تنصیب پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس سے بجلی کی کھپت میں خاطر خواہ بچت ہوگی۔

چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ آئی ایف سی کی تیکنیکی صلاحیتوں اور تجربات سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی نہ صرف بنیادی ضرورت ہے بلکہ زندگی کے ہر شعبے کی بقاء کیلئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے پانی کے ہر قطرے کی قدر کرنی ہوگی تاکہ مستقبل میں پانی کی قلت جیسے چیلنجز سے بچا جاسکے۔

جواب دیں

Back to top button