میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے 20 کروڑ روپے کی لاگت سے کڈنی ہل پارک جدید برڈ آئیوری (Bird Aviary) کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا، اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری رؤف ناگوری،ضلعی صدر اقبال ساند، سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان، نصرت،منتخب نمائندے اور کے ایم سی افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برڈ آئیوری منصوبہ کراچی میں پرندوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا،یہ برڈ آئیوری قدرتی ماحول کے عین مطابق ڈیزائن کی گئی ہے تاکہ پرندوں کو محفوظ اور قدرت کے قریب ماحول فراہم کیا جا سکے،میئر کراچی نے کہا کہ کڈنی ہل پارک میں گزشتہ چند برسوں کے دوران انکروچمنٹ کے خاتمے کے بعد اس علاقے کو ایک خوبصورت اربن فاریسٹ میں تبدیل کیا گیا جہاں لاکھوں کی تعداد میں مقامی درخت لگائے گئے جس کے باعث آج کڈنی ہل پارک ایک بالکل مختلف اور خوشگوار منظر پیش کر رہا ہے،انہوں نے کہاکہ پتھریلی زمین کے باوجود احمد علی پارک (کڈنی ہل) میں مقامی اور پھل دار پودوں کی شاندار افزائش ہو رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ درست منصوبہ بندی اور محنت سے کراچی کو سرسبز و شاداب بنایا جا سکتا ہے،

میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کے پارکس اور تفریحی مقامات کو جدید اور ماحول دوست بنانے کے لیے اپنے اقدامات جاری رکھے گی،اس اربن فاریسٹ کی بدولت نہ صرف اطراف کے علاقہ مکین بلکہ شہر کے دیگر علاقوں سے بھی لوگ تواتر کے ساتھ یہاں آتے ہیں اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہوتے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا واضح ویژن ہے کہ عوامی مقامات کو بہتر بنایا جائے تاکہ جہاں ایک عام آدمی، بچے، بچیاں اور بزرگ آتے ہیں وہاں ایسی معیاری سہولیات موجود ہوں جو انہیں خوشگوار اور محفوظ ماحول فراہم کریں،انہوں نے کہاکہ اسی ویژن کے تحت بلدیہ عظمیٰ کراچی مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے،جہانگیر پارک میں پہلی مرتبہ برڈ آئیوری کا تجربہ کیا گیا جو نہایت کامیاب رہا، جہاں شہری بڑی تعداد میں آ کر پرندوں کو دیکھتے اور لطف اندوز ہوتے ہیں، اس کامیابی کے بعد پولو گراؤنڈ میں دوسری برڈ آئیوری پر کام شروع کیا گیا وہ بھی کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے،میئر کراچی نے کہا کہ اب ان منصوبوں کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہمارا ہدف یہ ہے کہ بچے اور بچیاں پرندوں اور جانوروں سے روشناس ہو سکیں، اسی لیے کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں جدید اور وسیع برڈ آئیوری تعمیر کی جائے گی جہاں لوگ خود اندر جا کر مختلف اقسام کے پرندوں کو قریب سے دیکھ سکیں اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہو سکیں،انہوں نے کہا کہ ہر شخص کے پاس اتنا بڑا گھر نہیں ہوتا کہ وہ پرندے پال سکے جبکہ ماضی میں شہر کے حالات کے باعث مقامی پرندے بھی ناپید ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں برڈ آئیوری جیسے منصوبے نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ ماحولیاتی تحفظ اور آگاہی کے لیے بھی نہایت اہم ہیں،میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ایسے درخت لگائے جاتے ہیں جو جہاں شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں وہیں پرندوں کو بھی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کڈنی ہل ایک خوشگوار اور قدرتی ماحول کی عمدہ مثال بن چکا ہے،انہوں نے کہا کہ یہ برڈ آئیوری بین الاقوامی طرز پر تعمیر کی جا رہی ہے اور اس منصوبے پر باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے،برڈ آئیوری کی تعمیر کے لیے متعلقہ ٹیم کو 120 دن کا ہدف دیا گیا ہے تاکہ منصوبہ بروقت مکمل کر کے عوام کے لیے کھولا جا سکے جس سے شہری یہاں آ کر قدرتی ماحول اور پرندوں سے لطف اندوز ہو سکیں،انہوں نے کہا کہ برڈ آئیوری تقریباً ڈیڑھ ایکڑ رقبے پر محیط ہوگی اور اس کی اونچائی تقریباً چالیس فٹ ہوگی، انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے ساتھ ریکریشن کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ آنے والے شہری ایک ہی جگہ تفریح اور سیر و تفریح کی تمام سہولیات سے مستفید ہو سکیں،برڈ آئیوری میں پرندوں کو فیڈنگ کرنے کے درست طریقہ کار سے بچوں کو آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ فطرت اور ماحول کے بارے میں بہتر انداز میں سیکھ سکیں، میڈیا کے ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی نے کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی رواں سال شہر بھر میں تقریباً 46 ارب روپے خرچ کرنے جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ نیت کام کرنے کی ہو تو اس کے نتائج واضح طور پر نظر آتے ہیں اسی لیے تمام منصوبوں کو طے شدہ ٹائم فریم کے تحت مکمل کرنے کا ہدف دیا گیا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ جو کنٹریکٹر کام کرے گا اسے بروقت ادائیگیاں کی جائیں گی جبکہ کام میں کوتاہی کرنے والے کنٹریکٹرز کو بلیک لسٹ کیا جائے گا،شہر کی ترقی اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لیے کام کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا۔میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کچھ مافیاز ترقی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں تاہم بلدیہ عظمیٰ کراچی کی ٹیم پوری محنت اور یکجہتی کے ساتھ کام کر رہی ہے، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے ایم سی کی ٹیم کا ساتھ دیں تاکہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی جا سکے جو شہر کی بہتری میں رکاوٹ بنتے ہیں، میئر کراچی نے بتایا کہ کے ایم سی کے زیر انتظام پارکس میں مختلف ریکرییشنل سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جن میں اسپورٹس، کرکٹ، فٹ بال اور دیگر کھیلوں کی سہولیات شامل ہیں،ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں اور شہریوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ پارکس حقیقی معنوں میں عوامی تفریح گاہوں کا کردار ادا کر سکیں،انہوں نے متوقع بارشوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج رات سے بارش کی پیشگوئی ہے جس کے پیش نظر تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں، انہوں نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا عملہ نکاسی آب اور دیگر انتظامات کے سلسلے میں پہلے ہی متحرک ہے جبکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے سٹی وارڈنز کے ذریعے خصوصی مینجمنٹ کی جائے گی، اس کے علاوہ واٹر بورڈ کو بھی آن بورڈ لیا گیا ہے اور شہر کے تمام متعلقہ ادارے فیلڈ میں موجود ہوں گے،میئر کراچی نے کہا کہ وہ خود ان تمام انتظامات کی نگرانی کریں گے،انہوں نے مزید بتایا کہ کراچی چڑیا گھر میں فائبر کے ڈھکن نصب کیے گئے ہیں اور اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو شہر بھر میں اس ماڈل پر عملدرآمد کیا جائے گا، عوامی سہولیات میں بہتری اور شہر کی ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جاتے رہیں گے،بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کو سرسبز، خوبصورت اور ماحول دوست بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔






