*سی ڈی اے کے ون ونڈو ڈائریکٹوریٹ میں باقاعدہ طور پر کیش لیس نظام نافذ العمل کردیا گیا*

چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی راندھاوا کی ہدایت پر دارالحکومت اسلام آباد کو جدید کیش لیس ماڈل شہر بنانے کیلئے ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے سی ڈی اے کے ون ونڈو ڈائریکٹوریٹ میں باقاعدہ طور پر کیش لیس نظام نافذ العمل کردیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے موقع پر موجود شہریوں کے ہمراہ ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر میں کیش لیس نظام کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر انوائرمنٹ اسفندیار بلوچ، ڈی جی بلڈنگ کنٹرول، ڈائریکٹر ون ونڈو، ڈائریکٹر اسٹیٹ ون اور متعلقہ افسران سمیت سی ای او فنسٹ (Finnect) شاہ نواز محمود، بینک الفلاح کے نمائندہ فراز یار خان سمیت دیگر کمرشل بینکس و مالیاتی اداروں کے نمائندگان اور صارفین نے شرکت کی۔

چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے وژن کے مطابق شہریوں کی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس احسن اقدام کا آغاز کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اسلام آباد کو پاکستان کا پہلا کیش لیس ماڈل شہر بنانا ہے۔متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے کو کیش لیس و ڈیجیٹل لین دین کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ چیئرمین سی ڈی اے کو ایزی پیسہ اور جاز کیش سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے کیو آر کوڈ سسٹم کو فعال بنانے کی تفصیلات بتائی گئیں۔اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے نے ازخود بھی ایک ڈیجیٹل ٹرانزیکشن کرکے کیش لیس نظام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس نئے اور جدید ڈیجٹلائزڈ نظام کو عوامی خدمت کیلئے ایک بہترین قدم قرار دیا۔ سی ڈی اے کے ون ونڈو فیسلیٹیشن سینٹر میں کیش لیس نظام کو نافذ کرنے پر چیئرمین سی ڈی اے نے پوری ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نیا نظام نہ صرف ای-گورننس کے ماڈل کو اپنائے گا بلکہ عوام کو آسان، تیز اور شفاف ترین ادائیگیوں کی سہولیات فراہم کرے گا۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف شہریوں کو لین دین میں آسانی ہوگی بلکہ دارالحکومت میں کیش لیس معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دارالحکومت اسلام آباد کے ہفتہ وار بازاروں میں بھی کیش لیس نظام کے تحت راست کیو آر کوڈ متعارف کروائے جا چکے ہیں۔ اسی طرح مرحلہ وار شہر کے تمام کمرشل مراکز، شاپنگ سینٹر ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹ میں بھی کیش لیس نظام کو تیزی سے متعارف کروایا جارہا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ اسلام آباد کو بین الاقوامی شہر بنانے کے مقاصد کے حصول کیلئے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد شہریوں کو کیش لیس و ڈیجیٹل نظام کے زریعہ ہر قسم کے مالی لین دین میں فراڈ و دھوکہ دہی سے بچانا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر بہت جلد اسلام آباد میں تمام خدمات کو "آسان خدمت مرکز” کے زریعے ایک ہی چھت تلے فراہم کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آسان خدمت مرکز” میں پبلک ڈیلنگ پروفیشنل اور کارپوریٹ طرز پر ہوگی۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ "آسان خدمت مرکز” کا قیام وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اشتراک سے عمل میں لایا جارہا ہے۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ اسلام آباد میں کوئی بھی شہری جیب میں پیسے لیکر نہ گھومے بلکہ کیش لیس نظام سے مستفید ہوکر اپنی ضروریات کو پورا کرے۔چیئرمین سی ڈی اے نے مزید کہا کہ کیش لیس نظام میں کسٹمرز اور شہریوں کی اوپن چوائس ہوگی کہ وہ کس بینک اور مالیاتی ادارے کے ساتھ منسلک ہوکر اپنی ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل طریقہ کا کے مطابق عمل میں لائیں۔ مزید برآں، شہریوں کو ایزی پیسہ اور جیز کیش کے علاوہ ای-چلان کی سہولت بھی میسر ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button