اپنے میر صاحب،: تحریر اسلم ملک

انور علی، جاوید اقبال، میکسم، نجمی، مرزا، زیدی، عزیز، سمیع، جمشید انصاری، صابر نذر، ادریس گونگا، ابن شاکر، فیقا، ظہور، خالد، سرور، وائی ایل سب پاکستان کے عمدہ کارٹونسٹ ہیں.

جواں مرگ جمشید کو زندگی مہلت دیتی تو اس نے بہت نام پیدا کرنا تھا. وہ شرارت اور مزاح سے بھرا ہوا نوجوان تھا.

دو کارٹونسٹ ایسے ہیں جن کے نام ہی ان کے کارٹون کردار کے ناموں پر پڑگئے. ایک انور علی ننھا اور دوسرے میر صاحب.

اوپر جو نام گنوائے ہیں، ان میں سے بعض میر صاحب سے اچھے کارٹونسٹ ضرور ہیں لیکن ایک زمانے میں میر صاحب کا جتنا impact تھا، وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہوا.

1963 میں مشرق نے اشاعت کا آغاز کیا تو جلد ہی عوامی مقبولیت حاصل کرلی. میر صاحب عوامی مسائل پر عام فہم کارٹون بناتے، لوگوں کے مسائل کا ذکر ہوتا تو ان کا ذکر بھی بہت ہوتا. پھر میر صاحب روزانہ سات کارٹون بناتے، صفحہ اول کیلئے الگ اور مختلف شہروں سے شائع ہونے والے ایڈیشنوں اور ڈاک کے صفحات کیلئے الگ. یعنی دوسرے علاقوں کے مسائل بھی موضوع بن جاتے. جس علاقے کا ذکر ہوتا، وہاں ہر اخبار بین دیکھتا. ان دنوں اخباری خبروں، مراسلات اور کارٹونوں پر سرکاری محکمے بھی حرکت میں آتے تھے، اس لئے مسئلے حل بھی ہوجاتے. یہ بات بھی اہم ہے کہ ان دنوں اردو اخبارات میں کارٹونسٹ تھے بھی بہت کم.

میر صاحب تو وہ اپنے کارٹون کی وجہ سے مشہور ہوئے، نام ان کا شیخ عبدالحمید بٹ تھا. وہ 7 جنوری 1914 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے. والد اور دادا کاروبار کیلئے کوئٹہ گئے تو یہ بھی چھٹی جماعت تک وہیں پڑھے. سنڈیمن سکول میں ڈرائنگ کے استاد سردار خان کی توجہ سے نہ صرف ڈرائنگ بہت اچھی ہوگئی بلکہ اس کا شوق بھی بہت بڑھ گیا.

سیالکوٹ واپس آئے تو فلمی پوسٹروں کی نقل کرنے میں لگے رہتے. والد سے جے جے سکول آف آرٹس بمبئی بھیجنے کی فرمائش کی جو فوری رد کردی گئی. بسلسلہ روزگار لبنان، شام، مصر، ایران، عراق، اردن اور فلسطین میں مقیم رہے۔

مرے کالج میں ایک استاد عبدالمجید یزدانی نے کارٹون بنانے کا مشورہ دیا تو یہ مشق بھی شروع کردی.

بی اے کرکے لاہور آئے. انہی دنوں دولتانہ حکومت کی کارروائی کی وجہ سے نوائے وقت بند ہوا اور حمید نظامی نے ندائے ملت نکالا. عبدالحمید بٹ انہیں ملے اور کارٹون بنانے کی خواہش ظاہر کی. انہوں نے رہنمائی کیلئے کچھ کتابیں بھی دیں اور کہا کہ کارٹون بناکر لائیں. یوں 1950 میں ان کا پہلا کارٹون شائع ہوا. پھر سٹار ویکلی کیلئے کارٹون بنانے لگے. انور علی کے ننھا کی طرح”شریر” کا کردار تخلیق کیا. تین سال یہاں کام کیا. 1955 میں پھر نوائے وقت آگئے. اب” منشی جی” کا کارٹون کردار تخلیق کیا، یہ دراصل ان کا اپنا خاکہ تھا. لوگ انہیں منشی جی کہنے لگے.

نوائے وقت میں بعض معاملات میں ہتک محسوس کی تو چھوڑ کر سول اینڈ ملٹری گزٹ میں چلے گئے. جہاں کارٹون بھی بنائے اور السٹریشنز بھی کرتے رہے. اگلا ٹھکانہ” کوہستان ” تھا. لوگوں کا منشی جی کہنا اچھا نہیں لگتا تھا، اس لئے اب کارٹون کردار میر صاحب بنالیا. کوہستان نسیم حجازی اور عنایت اللہ کا تھا. ان میں کچھ تلخی ہوئی تو عنایت اللہ نے الگ ہوکر 1963 میں اپنا اخبار "مشرق” نکال لیا. میر صاحب سے اصرار کیا کہ وہ بھی مشرق چلیں. ان کے بھائی آرٹسٹ جالی سے بھی کہلوایا. میر صاحب کوہستان سے وفاداری نبھانا چاہتے تھے لیکن بالآخر مجبور ہوگئے. عنایت اللہ نے پوسٹر چھاپ دئیے کہ میر صاحب مشرق میں آگئے. مٹھائیاں بانٹیں. لیکن کوہستان میں اگلے دن بھی میر صاحب کارٹون چھپا ہوا تھا، جو کارٹونسٹ سرور نے بنایا تھا. اس پر عبدالحمید بٹ صاحب نے میر صاحب کا کارٹون کردار اپنے نام رجسٹرڈ کرالیا.

اب میر صاحب کے کیرئیر کا شاندار دور مشرق میں شروع ہوا. کافی عرصہ تو ان کے مقابلے میں بھی کوئی نہیں تھا. انہیں کام کا اتنا جنون تھا کہ اپنے ولیمے والے دن بھی کارٹون بنائے. ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مزہ بے نظیر بھٹو کے دور میں آیا جب سب سے زیادہ آزادی تھی. ایوب دور میں تو ایسا بھی ہوا کہ ایک کارٹون میں کوئی برا کردار بڑی مونچھوں والا بنایا، ایڈیٹر نے کہا، یہ تو نواب کالا باغ لگ رہا ہے، وہ نہیں چھوڑے گا. مونچھیں کچھ چھوٹی کیں تو کہا، اب تو ایوب خان لگنے لگا ہے. یوں کارٹون پاس نہ ہوا. ان کا خیال تھا مشرق کے زوال کی وجہ یہی ڈر خوف اور پابندیاں تھیں. میر صاحب 1963 سے 1993 تک مشرق میں رہے. 24 مئی 2012 کو انتقال ہوا.

میر صاحب کا تعلق علامہ اقبال کی ہمشیرہ کے خاندان سے تھا. انہوں نے 1995 میں علامہ اقبال کا ’’مصور زندگی نامہ‘‘ تیار کرنا شروع کیا۔ سو سے زیادہ تصویریں بناچکے تھے. علامہ کی زندگی ، بچپن، جوانی، بڑھاپا، دُکھ سکھ، عبادت، پڑھائی، وکالت، شاعری، مشاعرے، ملکی اور غیر ملکی سفر، سیاست، سوشل ورک، مشہور ہستیوں سے ملاقاتیں، پارٹیاں، کھیل کود، شادیاں، جدائیاں، غرض علامہ کی زندگی کا ہر پہلو مصور کیا۔ یہ البم چھپنا چاہیے تھا. لیکن معلوم نہیں اس کا کیا ہوا.

جواب دیں

Back to top button