شوکت صدیقی نے 20 مارچ 1923ء کو لکھنؤ میں آنکھ کھولی۔ والد الطاف حسین صدیقی کا ارادہ انہیں دینی تعلیم کے ساتھ قرآن پاک حفظ کرانے کا ہوا۔ چنانچہ اسی شہر کے مدرسۂ فوقانیہ میں داخل کیے گئے اور حافظ قرآن ہوئے۔ پھر دنیاوی تعلیم کی طرف توجہ ہوئی تو لکھنؤ یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔ 1950ء میں ہجرت کرکے لاہور آئے اور پھر کراچی منتقل ہو گئے۔ دو سال بعد ﺛﺮﯾﺎ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔ روزگار کے لیے صحافت کے پیشے سے وابستہ رہے، جس کا ﺍﻧﯿﺲ ﺳﻮ ﭼﻮﺍﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮨﻨﺎﻣﮧ ’ ﺗﺮﮐﺶ ‘ ﺳﮯ آغاز ﮐﯿﺎ تھا۔ روزنامہ ’’مساوات‘ روزنامہ ’’انجام‘‘ اور ہفت روزہ ’’الفتح‘‘ کے چیف ایڈیٹر رہے ۔ﻣﺘﻌﺪﺩ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺻﺤﺎﻓﺖ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ان کی کہانی ’’راتوں کا شہر‘‘ دنیا بھر کی سو منتخب کہانیوں میں شامل کی گئی۔ اس کا ترجمہ پطرس بخاری نے کیا، تھا. ناول ” خدا کی بستی” کے اب تک ایک سو سے زائد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ یہ ناول ہندی‘ بنگالی‘ گجراتی، علاوہ روسی‘ چینی‘ بلغاروی ‘ چیک اور سوویت یونین کی سترہ زبانوں سمیت 42 زبانوں میں منتقل کیا گیا. ﺗﯿن ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻗﻮﻣﯽ ﭨﯿﻠﯽ ﻭﮊﻥ ﭘﺮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ.
ان ﮐﮯ ﺍﻓﺴﺎﻧﻮﯼ ﻣﺠﻤﻮﻋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ’ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺁﺩﻣﯽ ‘ 1952 ﺀ ، ’ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ‘ 1955 ﺀ ، ’ ﺭﺍﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮩﺮ ‘ 1956 ﺀ ﺍﻭﺭ ’ ﮐﯿﻤﯿﺎ ﮔﺮ ‘ 1984 ﺀ اور
ﻧﺎﻭﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ’ ﮐﻤﯿﮟ ﮔﺎﮦ ‘ 1956 ﺀ ، ’ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯽ ‘ 1958 ﺀ ، ’ﺟﺎﻧﮕﻠﻮﺱ ‘ 1988 ﺀﺍﻭﺭ ’ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ‘ 1990ﺀ شامل ہیں۔
” ﺟﺎﻧﮕﻠﻮﺱ ” ﮐﻮ ﭘﻨﺠﺎﺏ اور ” ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ” ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﻮ کی ﺍﻟﻒ ﻟﯿﻠﯽٰ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ. "ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ” ﻟﮑﮭﻨﺆ ﮐﮯ ﺯﻭﺍﻝ ﭘﺰﯾﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ہے، ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺧﺘﻢ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺟﻨﻢ ﻟﮯ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻈﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ تھے۔
ﺷﻮﮐﺖ ﺻﺪﯾﻘﯽ ﮐﮯ ﮐﺎﻟﻢ بھی ’ ﻃﺒﻘﺎﺗﯽ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮﺳﺘﯽ ‘ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﺘﺎﺑﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ۔
شوکت صدیقی کو ﺁﺩﻡ ﺟﯽ ﺍﺩﺑﯽ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ1960 )ﺗمغہﺣﺴﻦ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ( 1997 ) ﮐﻤﺎﻝ ﻓﻦ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ ( 2002 )ﺳﺘﺎﺭۂ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ( 2003 )ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻏﻼﻡ ﻓﺮﯾﺪ ﺁﺩﺑﯽ ﺍﯾﻮﺍﺭﮈ ( 2000 ) بھی ملے.
شوکت صدیقی کا 18 ﺩﺳﻤﺒﺮ 2006ﺀ ﮐﻮ کراچی میں ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺋﮯ۔






