25 دنوں سے بند پاک افغان بارڈ کھولنے کے لئے مذاکرات کامیاب، آج سے طور خم بارڈر آمد و رفت کے لئے کھول دیا گیا

گزشتہ 25 دنوں سے بند پاک افغان بارڈ کھولنے کے لئے مذاکرات کامیاب۔ آج سے طور خم بارڈر آمد و رفت کے لئے کھول دیا گیا۔ طورخم بارڈر کھولنے کے سلسلے میں افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے بنائے گئے جرگہ اراکین کی وزیراعلٰی علی امین گنڈاپور سے ملاقات۔ جرگہ اراکین نے طورخم بارڈر کھولنے کے لئے سنجیدہ اور بروقت کوششوں پر وزیراعلٰی کا شکریہ ادا کیا ۔جرگہ اراکین نے کہا کہ بارڈر کی بندش سے کاروباری اور صنعتی حضرات کے ساتھ عام لوگوں بھی کو بے انتہا مسائل کا سامنا تھا، تاجر برادری کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے وزیراعلی نے بارڈر کھولنے کے لئے تمام متعلقہ فورمز پر کوششیں کیں، تمام کاروباری حضرات بروقت اور نتیجہ کوششوں کے لئے وزیراعلٰی کے بے حد مشکور ہیں۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے اس مسئلے کے حل کے لئے قائدانہ کردار اور موثر کردار ادا کیا، 25 دنوں سے بارڈر بند رہنے کی وجہ سے دونوں اطراف 12 ہزار مال بردار گاڑیاں کھڑی ہیں، بارڈر کی بندش کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کا کاروبار متاثر ہوا تھا۔جرگہ اراکین میں ضم اضلاع سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نمائندے شامل تھے۔

جرگے کی قیادت خیبر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر اور سربراہ سید جواد حسین کاظمی کر رہے تھے۔ جرگے کے دیگر اراکین میں حاجی محمد یوسف آفریدی، حاجی قدیر اللہ وزیر، سید حماد، واجد علی شنواری، حاجی اقبال خان، حاجی لطیف اور دیگر شامل تھے۔بارڈر کھولنے کے لئے کامیاب مذاکرات پر وزیراعلٰی نے جرگہ اراکین کو مبارکباد دی۔وزیر اعلٰی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ

بارڈر کھولنے کے لئے جرگے کی کوشش قابل تحسین ہیں، رمضان کے مہینے میں طورخم بارڈر کی بندش دونوں اطراف کے کاروباری لوگوں کے ساتھ عام عوام کو مشکلات درپیش تھیں، اسے نہ صرف کاروباری لوگوں بلکہ حکومتی خزانے کو بھی اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، آنے والے عید الفطر کے پیش نظر طورخم بارڈر کا کھولنا انتہائی ضروری تھا، یہ کامیابی اجتماعی کوششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا، ہم آئندہ بھی اس طرح کے مسائل کے حل کے لئے مل کر کوششیں کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button