میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کو ٹی ٹی آئی پی اور نقشہ فیس کی مد میں ایک ارب 11 کروڑ روپے سے زائد خسارے کا سامنا،آمدن کے اہداف کے حصول میں ناکامی

میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کو ٹی ٹی آئی پی اور نقشہ فیس کی مد میں ایک ارب 11 کروڑ روپے سے زائد خسارے کا سامنا ہے۔نقشہ فیس کی مد میں وصولی 50 فیصد سے بھی کم ہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی انتظامیہ کی آمدن کے اہداف کے حصول میں توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔انفورسمنٹ کے جرمانوں کی مد میں اور جنرل بس اسٹینڈ کی مد میں ریکوری سو فیصد سے زائد ہے۔بغیر نقشہ اور بلڈنگ بائی لاز کے خلاف تعمیرات کے خلاف مواثر کارروائی اور آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے نقشہ فیس کا ہدف پورا نہیں ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ عملہ کی کمی اور دستیاب افسران اور عملے کا خود ملوث ہونا بھی ہے۔ٹی ٹی آئی پی ٹیکس جسے رجسٹری فیس اور منتقلی جائیداد فیس وغیرہ بھی کہا جاتا ہے بلدیہ عظمٰی لاہور کا سب سے اہم ذریعہ آمدن ہے جس کا رواں مالی سال ہدف 6 ارب 60 کروڑ روپے ہے۔جس کے مقابلے میں 4 ارب 59 کروڑ روپے کی بجائے صرف 3 ارب 62 کروڑ روپے وصول ہو سکے ہیں اور صرف اس مد میں خسارہ 97 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔نقشہ فیس کا ہدف 40 کروڑ روپے ہے تاہم اب تک 27 کروڑ 86 لاکھ روپے کے مقابلے میں 13 کروڑ 60 لاکھ روپے کی وصولی ہوئی ہے اور خسارہ 14 کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد ہے۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی، واسا سی سینی ٹیشن اور لاہور پارکنگ کمپنی سے پارکنگ فیس کی مد میں نہ ملنے والے شیئر کو شامل کیا جائے تو ایم سی ایل کا خسارہ سوا ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔واضع رہے کہ پاکستان کی دیگر میٹروپولیٹن کارپوریشنز جن میں کراچی،کوئٹہ، اسلام آباد اہم ہیں میں صورتحال اس کے برعکس ہے جہاں ریونیو میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ریونیو اہداف پورے نہ ہونے کی وجہ سے بلدیہ عظمٰی لاہور کو واجبات کی ادائیگیوں میں بھی ناکامی کا سامنا ہے جس میں ٹھیکیداروں کے ساتھ لیسکو کے واجبات شامل ہے۔چھوٹے ٹھیکیداروں سراپا احتجاج ہیں جن کو تین سال سے ادائیگیاں نہیں ہو رہی ہیں۔لاہور پارکنگ کمپنی اور لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی خود کو مالی بحران میں مبتلا ظاہر کر کے ایک دہائی سے زائد عرصہ سے کسی سال بھی پورا شیئر ادا نہیں کر رہی ہیں۔چیف آفیسر یونٹ رائے ونڈ کی ایم سی ایل ریکوری سب سے زیادہ مایوس کن ہے۔

جواب دیں

Back to top button