*آغا محمد شاہ حشر کاشمیری*

ہمارے بچپن میں سکول کی کاپیوں کے پچھلی طرف کوئی دعا ، نظم یا ترانہ چھاپنے کا رواج تھا۔ پانچویں چھٹی میں کسی کاپی پر چھپی ہوئی یہ دعائیہ نظم آج تک یاد ہے۔

آہ جاتی ہے فلک پر رحم لانے کیلئے

بادلو! ہٹ جاﺅ دے دو راہ جانے کیلئے

اے دعا! ہاں عرض کر عرشِ الٰہی تھام کے

اے خدا، رخ پھیر دے اب گردش ایام کے

رحم کر اپنے نہ آئینِ کرم کو بھول جا

ہم تجھے بھولے ہیں لیکن تو نہ ہم کو بھول جا

خلق کے راندے ہوئے دنیا کے ٹھکرائے ہوئے

آئے ہیں اب تیرے در پر ہاتھ پھیلائے ہوئے

خوار ہیں، بدکار ہیں، ڈوبے ہوئے ذلت میں ہیں

کچھ بھی ہیں لیکن ترے محبوب کی امت میں ہیں

حق پرستوں کی اگر کی تو نے دلجوئی نہیں

طعنہ دیں گے بت کہ مسلم کا خدا کوئی نہیں

اس پر لکھا ہوا آغا حشر کاشمیری کا نام بھی نہیں بھولا۔ پھر بزرگوں سے ‘کس حال میں ہے… شیر لوہے کے جال میں ہے’ جیسے آغا صاحب کے تھیٹریکل مکالمے سنتے رہے۔ بہت بعد میں کچھ کچھ پڑھنے کا موقع ملا۔

ان کا یہ شعر کس نے نہیں سنا ہوگا۔۔۔

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر

اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ مرے اس دعا کے بعد

لیکن شاعر کا نام کم ہی معلوم ہوگا۔

دیکھیں حشر کے کچھ اور شعر

ایک دھندلا سا تصور ہے کہ دل بھی تھا یہاں

اب تو سینے میں فقط اک ٹیس سی پاتا ہوں میں

گو حرم کے راستے سے وہ پہنچ گئے خدا تک

تری رہ گزر سے جاتے تو کچھ اور بات ہوتی

گو ہوائے گلستاں نے مرے دل کی لاج رکھہ لی

وہ نقاب خود اٹھاتے تو کچھ اور بات ہوتی

گویا تمہاری یاد ہی میرا علاج ہے

ہوتا ہے پہروں ذکر تمہارا طبیب سے

حشر میں انصاف ہوگا بس یہی سنتے رہو

کچھ یہاں ہوتا رہا ہے کچھ وہاں ہو جائے گا

نکہت ساغر گل بن کے اڑا جاتا ہوں

لئے جاتا ہے کہاں بادۂ سر جوش مجھے

یاد میں تیری جہاں کو بھولتا جاتا ہوں میں

بھولنے والے کبھی تجھ کو بھی یاد آتا ہوں میں

یہ کھلے کھلے سے گیسو انہیں لاکھ تو سنوارے

مرے ہا سے سنورتے تو کچھ اور بات ہوتی

آغا محمد شاہ حشر کاشمیری، 3 اپریل 1879ء کو بنارس میں پیدا ہوئے آبائی وطن کشمیر تھا۔ بزرگوں نے بنارس میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ عربی فارسی کی ابتدائی تعلیم گھر پر مکمل کر کے ہائی سکولوں میں انگریزی تعلیم حاصل کی پہلے شعر و شاعری کی طرف رحجان ہوا پھر ڈرامہ نگاری کی طرف مائل ہو گئے۔ یہ شوق انہیں بمبئی لے گیا جہاں وہ یکے بعد دیگرے کئی تھیٹر کمپنیوں سے وابستہ رہے۔ الفریڈ ناٹک منڈلی، نوروجی پری کمپنی اور ارد شیر بھائی کمپنیوں کے لیے ڈرامے لکھے۔ میڈن تھیٹر کولکتہ میں کچھ عرصہ ملازمت بھی کی۔ حیدرآباد دکن اور دہلی میں اپنی ذاتی کمپنیاں بھی کھولیں۔ انھوں نے اپنی زندگی میں کافی دولت پیدا کی اور فراغت کی زندگی بسر کی۔ آخری عمر میں لاہور آ گئے۔ 1935 میں انتقال ہوا۔

آغا حشر کی ڈرامہ نگاری کا آغاز ان ڈراموں سے ہوتا ہے جو انھوں نے الفریڈ کمپنی کے لیے لکھے تھے۔ ان میں سے اکثر شیکسپیئر کے انگریزی ڈراموں کے ترجمے یا ان سے ماخوذ تھے۔ انگریزی سے زیادہ واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ترجمے اصل سے بہت دور جا پڑے ہیں ان کی تدبیر کاری، مکالمہ نگاری اور شعر گوئی کے انداز نے تھیٹر کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ حشر نے 32 ڈرامے لکھے۔ شاعری اور اخلاقی ، ادبی اور دینی مقالات تحریر کیے۔ ناول نگاری اور افسانہ نویسی بھی کی۔

 

آغا حشر کی اہلیہ مختار بیگم موسیقی کی دنیا کا بڑا نام ہیں۔ مختار بیگم کی شاگردوں میں ان کی چھوٹی بہن فریدہ خانم، نسیم بیگم اور اداکارہ رانی شامل تھیں۔

 

آغا حشر کے ڈرامے

مرید شک

مار آستین

اسیر حرص

بلوا منگل

میٹھی چھری

شہید ناز

سفید خون

صید ہوس

خوبصورت بلا

بھیشم پرتگیہ

یہودی کی لڑکی

مدھر مرلی

عورت کا پیار

آج اور کل

ترکی حور

آنکھ نشہ

دل کی پیاس

رستم سہراب

سیتا بن باس

خواب ہستی

 

بشیر عنوان صاحب نے بتایا ہے کہ حشر کاشمیری شعلہ بیان خطیب اور مناظر بھی تھے۔ کلکتہ میں مسیحی مبلغوں سے کئی مناظرے کئے. 1900ء میں یعنی صرف اکیس برس کی عمر میں ایک ناول ” بمبئی کے عجائبات” لکھا جو امرتسر سے چھپا. یہ بمبئی شہر کے انڈر ورلڈ کی کہانی ہے. 1963 میں محمد عبداللہ قریشی نے اسے زمانے کی گرد کی تہہ سے نکال کر آئینہ ادب، لاہور سے "بمبئی” کے نام سے شائع کروایا۔

 

ڈاکٹر مرزا حامد بیگ:

اواخر 1934ء میں آغا حشر کاشمیری، مستقل طور پر، ماڈل ٹاؤن، لاہور منتقل ہو گئے تھے۔ اب وہ فلم سازی کرنا چاہتے تھے۔ اپنی وفات: 28-اپریل 1935ء سے دو روز پہلے شام کے وقت "کنگ سرکل” ریسٹورینٹ، لکشمی چوک، لاہور کے باہر اپنی کار کا پنکچر لگواتے دیکھے گئے اور دو روز بعد، ماڈل ٹاؤن والی کوٹھی میں انتقال ہوا۔ گلوکارہ اور تھیئٹر کی اداکارہ: مختار بیگم ان کے ساتھ رہتی تھیں۔ جنھیں آغا حشر کی وفات کے بعد آغا صاحب کے عزیزوں نے اس گھر سے اسی روز نکال باہر کیا ۔ اس کے بعد بڑھاپے میں، جو حال مختار بیگم کا ہوا، اس سے روح کانپ جاتی ہے ۔ بقول خلش ہمدانی، چھوٹی بہن: فریدہ خانم کو اپنے جاننے والوں کی سپردداری میں دے کے روٹی روزی کی خاطر مختار بیگم کو جو کچھ کرنا پڑا، ہمت نہیں پڑتی کہ لکھ سکوں ۔ اے کاش ! آغا حشر کاشمیری، ان کے ساتھ دو بول پڑھوا لیتے۔

جواب دیں

Back to top button