وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کی زیر صدارت حقوق پاکستان پروجیکٹ-lI سے متعلق اجلاس، فیڈرل سیکرٹری ہیومین رائٹس اور ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کے علاوہ متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام اور یو این ڈی پی کے نمائندگان اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اجلاس میں منصوبے پر موثر عمل درآمد اور اس کے اہداف کے حصول کے لئے لائحہ عمل کو حتمی شکل دیدی گئی۔ منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلے میں متعلقہ وفاقی اور صوبائی محکموں کے درمیان مربوط کوآرڈینیشن میکنزم ترتیب دینے کا فیصلہ ہوا ۔ اجلاس کو منصوبے کی اہم خصوصیات، اہداف، مجوزہ سرگرمیوں، منصوبے پر عمل درآمد کے لئے متعلقہ وفاقی صوبائی محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن، چیلنجز اور دیگر معاملات پر بریفنگ دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ ساڑھے تین سالہ منصوبہ یورپین یونین اور یو این ڈی پی کے تعاون سے شروع کیا جارہا ہے۔ منصوبے کا بنیادی مقصد صوبے میں متعلقہ اداروں کو مضبوط کرکے انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔پراجیکٹ کے تحت خدمات کی فراہمی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے صوبے میں ہومین رائٹس انسٹیوشنز قائم کئے جائیں گے، اس مقصد کے لئے صوبے میں ہیومین رائٹس سے متعلق تمام ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کیا جائے گا۔ ڈیٹا کی ڈیجیٹائزیشن سے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کو اسٹریم لائن کرنے میں بھی مدد ملے گی، منصوبے کے تحت صوبے میں اعلی تعلیم کے شعبے میں انسانی حقوق سے متعلق پروگرامز شروع کئے جائیں گے۔اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت صوبے میں دو یونیورسٹیوں کی نشاندہی کرے گی، پروگرام کے تحت صوبے میں ہیومین رائٹس نیشنل ایکشن پالن پر عملدرآمد کے لئے مختلف اقدامات تجویز کئے گئے ہیں، انسانی حقوق سے متعلق صوبے کے تمام متعلقہ محکموں کے ڈیٹا کو اینٹگریٹڈ کیا جائے گا۔وزیر اعلٰی نے منصوبے پر صحیح معنوں میں عمل درآمد کے لئے صوبائی حکومت کی طرف سے بھر پور تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو بھرپور تعاون یقینی بنانے کی ہدایت کی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم معاشرے کے مخصوص اور محروم طبقات کے ڈیٹا بیس کو سنٹرلائزڈ کرنا چاہتے ہیں، صوبائی حکومت اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو پہلے سے ہدایات دے چکی ہے، امید ہے یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے جاری اقدام کی تکمیل کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ معاشرے کے مستحق اور محروم طبقات کا مکمل اور مربوط ڈیٹا بیس نہایت ناگزیر ہے، سنٹرلائزڈ ڈیٹا بیس اور مراکز کے قیام سے سب کو یکساں معیاری سہولیات کی فراہمی ممکن ہو گی، صوبائی حکومت صوبہ بھر میں معذور افراد کو مطلوبہ آلات و سہولیات کی فراہمی پر بھی کام کر رہی ہے، مذکورہ ڈیٹا بیس کے قیام سے ہم اس سلسلہ میں تیز رفتاری سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے منصوبے پر عمل درآمد کے سلسلے میں متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کے لیے فوکل پرسن نامزد کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر اعلیٰ کی منصوبے کو دیرپا بنیادوں پر چلانے کے لیے صوبائی سطح پر سٹیرنگ کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت،وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی کے حکام کو ترجیحی بنیادوں پر سٹیرنگ کمیٹی میں شامل کیا جائے، یہ محکمے منصوبے کو مستقل اور دیرپا بنیادوں پر چلانے کی بھرپور استعداد رکھتے ہیں، انسانی حقوق سے متعلق ادروں کو مضبوط بنانا وقت کی اشد ضرورت ہے، بد قسمتی سے اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر ہماری ساکھ رو بہ زوال ہے۔اگر حالات کا غیر جانب دار جائزہ لیں تو ماننا پڑے گا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی بڑھتی جا رہی ہے، ملک کی ساکھ بچانے اور انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔ ہم خلا خود پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر ہم واقعی خوشحال معاشرہ چاہتے ہیں تو عملی اقدامات کے ذریعے محروم عوام کی امیدوں کو بحال کرنا ہو گا۔






