سی بی ایمز کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور معیار میں نقائص سامنے آئے ہیں،وزیر اعلٰی گلگت بلتستان

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے واپڈا کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے شعبے، خصوصاً دور دراز وادیوں میں اسکولوں کے قیام، تعلیمی معیار میں بہتری اور سوشل سیکٹر کی ترقی کے لیے جو اقدامات ہونے چاہیے تھے، ان کا فقدان نظر آ رہا ہے۔سی بی ایمز کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور معیار میں نقائص سامنے آئے ہیں۔ ان منصوبوں کے معیار اور رفتار کو بہتر بنانے کے لیے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ دیامر کے ساتھ رابطہ کاری موثر بنائی جائے۔ سی بی ایمز کے تحت تعمیراتی کاموں کو ایک اتھارٹی کے ذریعے منظم کیا جائے اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور ملکیت کے احساس کو یقینی بنایا جائے۔دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، جس کے تحت سی بی ایمز منصوبوں کی نگرانی، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا جائے گا۔ قومی خزانے اور وسائل کا تحفظ اور ان کا درست استعمال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔سی بی ایمز کے تحت سوشل سیکٹر کی بہتری کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات ناکافی ہیں۔ دیامر کے ہونہار طلبہ کو ملک کے بڑے اور معیاری تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اسکالرشپس فراہم کی جائیں تاکہ اس پسماندہ علاقے کے طلبہ کو بھی بہترین تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔دیامر بھاشا ڈیم کے حقیقی متاثرین کی معاشی حالت بہتر بنانے، ان کی فلاح و بہبود اور سی بی ایمز کے ذریعے روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ واپڈا مقامی آبادی کی معاشی ترقی اور معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے تاکہ ڈیم متاثرین بھی اس قومی منصوبے کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔دیامر بھاشا ڈیم پورے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے اہمیت کا حامل ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس منصوبے کی تعمیر ٹائم لائنز کے مطابق ہو۔ اس اہم منصوبے کی تعمیر میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ہوں۔گورنمنٹ انفراسٹرکچر ڈیم کی زد میں آتے ہیں ان کے متبادل تعمیر کیلئے واپڈا اقدامات کرے اور زمینوں کے معاوضوں کا مسئلہ واپڈا ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

جواب دیں

Back to top button