بلدیاتی انتخابات اور سرکاری فائلوں کا کھیل: افسران صفر، سوال ہزار۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

جمہوریت کا اصل حسن یہ نہیں کہ ایوانوں میں نمائندے بیٹھے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ عوام کو اپنے محلے، گلی اور شہر کے مسائل حل کرنے کے لیے منتخب نمائندے میسر ہوں۔ مقامی حکومت کا نظام اسی جمہوری تصور کی بنیاد ہے، مگر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا معاملہ جس طرح سرکاری خط و کتابت، انتظامی وضاحتوں اور انتخابی تاریخوں کی بحث میں الجھا ہوا ہے، اس نے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ تازہ مثال محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب کا 15 اکتوبر 2026 کا ایک خط ہے، جس میں بلدیاتی انتخابات کے لیے مطلوبہ افسران کی معلومات کے جواب میں لفظ "صفر” استعمال کیا گیا ہے۔خط کے مطابق، متعلقہ حکام نے بی ایس 17 سے بی ایس 19 تک کے افسران کی معلومات طلب کی تھیں تاکہ انہیں ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران، ریٹرننگ افسران اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسران کے طور پر تعینات کیا جا سکے۔ جواب میں محکمہ لوکل گورنمنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے زیرِ انتظام کام کرنے والے متعلقہ افسران ایس اینڈ جی اے ڈی یعنی محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی کیڈر اسٹرینتھ پر ہیں اور محکمہ کا کوئی افسر اس وقت فیلڈ فارمیشنز میں تعینات نہیں۔ چنانچہ الیکشن کمیشن کو فراہم کی جانے والی معلومات "صفر” قرار دی گئیں۔یہاں بنیادی سوال یہ نہیں کہ خط میں درج جواب درست ہے یا غلط، بلکہ یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات جیسے اہم آئینی عمل کے لیے انتظامی تیاری کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر متعلقہ افسران کسی دوسرے محکمے کے کیڈر سے تعلق رکھتے ہیں تو کیا حکومتِ پنجاب کے پاس ان کی خدمات حاصل کرنے، دوسرے محکموں سے افسران نامزد کرنے یا متبادل انتظامات کرنے کا کوئی طریقۂ کار موجود نہیں؟ سرکاری مشینری کا مقصد مسائل کی نشاندہی کرکے انہیں حل کرنا ہے، نہ کہ ایک محکمہ دوسرے محکمے کی طرف ذمہ داری منتقل کرکے انتخابی عمل کو غیر یقینی صورتِ حال میں چھوڑ دے۔یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ریٹرننگ افسران کی تعیناتی محض ناموں کی فہرست تیار کرنے کا معاملہ نہیں۔ انتخابی فہرستوں، حلقہ بندیوں، انتخابی عملے، پولنگ اسٹیشنوں، امن و امان اور نتائج کی تیاری سمیت متعدد مراحل کے لیے مربوط انتظامی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کسی محکمے کے پاس متعلقہ افسران دستیاب نہیں تو اس کمی کو بروقت دور کرنا حکومت کی انتظامی صلاحیت کا امتحان ہے۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 140-A صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ قانون کے ذریعے مقامی حکومت کا نظام قائم کریں اور منتخب مقامی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کریں۔ آرٹیکل 219 کے تحت الیکشن کمیشن کے فرائض میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا انعقاد بھی شامل ہے۔ اس لیے بلدیاتی انتخابات کسی حکومت کی صوابدیدی مہربانی نہیں بلکہ آئینی نظام کا اہم تقاضا ہیں۔عوامی مفاد کا تقاضا ہے کہ اس خط کو محض ایک معمول کی محکمانہ کارروائی سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ متعلقہ حکام واضح کریں کہ مطلوبہ افسران کہاں سے فراہم کیے جائیں گے، انتظامی خلا پُر کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور انتخابی عمل کو بروقت مکمل کرنے کا قابلِ عمل منصوبہ کیا ہے۔ تاہم صرف اس خط کی بنیاد پر یہ حتمی نتیجہ اخذ کرنا بھی درست نہیں ہوگا کہ حکومت نے دانستہ طور پر انتخابات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس دعوے کے لیے مزید دستاویزی شواہد، حکومتی فیصلوں اور الیکشن کمیشن کے مستند مؤقف کا جائزہ ضروری ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام مہنگائی، ناقص صفائی، ٹوٹی سڑکوں، نکاسیٔ آب، پینے کے پانی اور مقامی ترقی کے مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ ان مسائل کے حل کے لیے جواب دہ منتخب بلدیاتی نمائندے موجود نہیں ہوتے۔ جب حکومتیں محکمے قائم کرتی ہیں، افسران مقرر کرتی ہیں اور قوانین بناتی ہیں تو انہیں یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ انتظامی ڈھانچہ عوامی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو۔سرکاری خط میں افسران کی دستیابی صفر ہو سکتی ہے، مگر عوام کے مسائل صفر نہیں ہوتے۔ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ محکمانہ وضاحتوں اور فائلوں کی گردش سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں، الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون کیا جائے اور بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کے نام پر قائم سرکاری نظام ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کتنا تیار ہے. حکومت کی کامیابی کا پیمانہ محکمانہ چٹھیوں اور فائلوں میں درج جوابات نہیں، بلکہ عوام کو ملنے والی سہولتیں اور ان کے آئینی حقوق کی پاسداری ہے۔

جواب دیں

Back to top button