وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی زیر صدارت دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام اور اس کے دائرہ کار کے تعین کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمشنر دیامر و استور ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر دیامر نے دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام سے متعلق سفارشات پر بریفنگ دی۔اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیامر کی تعمیر و ترقی، ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور سی بی ایمز کے تحت عوامی فلاح و بہبود کے لیے تجویز کردہ منصوبوں پر شفاف اور مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام ناگزیر ہے۔سی بی ایمز کے تحت جن منصوبوں پر صوبائی حکومت نے عمل درآمد کرنا ہے، وہ تمام منصوبے دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ذریعے مکمل کیے جائیں گے، جبکہ واپڈا کے زیرِ تعمیر منصوبوں کی مانیٹرنگ، معیار اور رفتار کو یقینی بنانے کی ذمہ داری بھی اتھارٹی ادا کرے گی۔سی بی ایمز کے تحت اب تک کیے جانے والے کاموں کے خاطر خواہ نتائج زمین پر نظر نہیں آ رہے اور ڈیم متاثرین کو بھی ان اقدامات سے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہو سکے۔ اب تک سی بی ایمز کے تحت کوئی ایسا میگا منصوبہ مکمل نہیں ہوا جسے عملی طور پر عوام کے سامنے بطور مثال پیش کیا جا سکے۔سی بی ایمز کے تحت سیف سٹی پروجیکٹ، واٹر سپلائی اسکیم اور سیوریج جیسے اہم میگا منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں میں شفافیت برقرار رکھنے اور مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق ان کی تکمیل یقینی بنانے کے لیے دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔دیامر کے منتخب اراکینِ اسمبلی اتھارٹی کے بورڈ کا حصہ ہوں گے، جبکہ بورڈ دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین سے مشاورت کے بعد ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرے گا اور ان پر موثر عمل درآمد یقینی بنائے گا۔ سی بی ایمز کے تحت واپڈا کی جانب سے تعمیر کیے جانے والے منصوبوں کے حوالے سے واپڈا دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ سے مشاورت کا پابند ہوگا۔دیامر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے ضروری تکنیکی عملہ اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین سرکاری محکموں سے فراہم کیے جائیں گے۔ اتھارٹی کے قیام سے متعلق سفارشات کی صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد اس کا نوٹیفکیشن فوری طور پر جاری کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں شروع کیے جانے والے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی بروقت تکمیل اور ان کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے موثر مانیٹرنگ کا نظام ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز اور ڈویژنل ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن کا بنیادی مقصد ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور ان پر موثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کا نمائندہ بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور عمل درآمد کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ترقیاتی عمل کو تیز کرنے، منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے اور عوام کو ان کے ثمرات بروقت پہنچانے کے لیے ضروری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے قیام سے متعلق سفارشات کی کابینہ سے منظوری کے بعد ان کے نوٹیفکیشن بھی جاری کیے جائیں گے۔اجلاس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ڈویلپمنٹ، کمشنر دیامر/ استور ریجن، ڈپٹی کمشنر دیام اور وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
Read Next
1 گھنٹہ ago
گلگت بلتستان رورل سپورٹ پروگرام کی ری اسٹرکچرنگ اور استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس
2 دن ago
چلاس 100 بیڈ ہسپتال کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ 2007 سے اب تک نامکمل
2 دن ago
سی بی ایمز کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کی منصوبہ بندی اور معیار میں نقائص سامنے آئے ہیں،وزیر اعلٰی گلگت بلتستان
3 دن ago
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کا 2 میگاواٹ پاور پروجیکٹ مٹھاٹ رائیکوٹ کا دورہ
3 دن ago






