کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے پر جاری کام، کیمروں کی تنصیب، متاثرہ سائٹس کی بحالی اور منصوبے کی بروقت تکمیل سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی ، ایس ایس پی ٹریفک کوئٹہ، ڈپٹی کمشنر مستونگ، پروجیکٹ ڈائریکٹر اور بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کے افسران نے آن لائن شرکت کی، جبکہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی،ڈویژنل ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ ظہور احمد، ڈویژنل آفیسر آئی ٹی کویٹہ ڈویژن محب آغا٫ اسسٹنٹ کمشنر پولیٹیکل کوئٹہ سید کلیم اللہ اور دیگر متعلقہ افسران بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے دوران کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کو کوئٹہ سیف سٹی پروجیکٹ پر پیش رفت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر کے 120 مقامات پر تین، تین کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ ہے، جبکہ صوبے کے سات اضلاع میں سیف سٹی کیمروں کی تنصیب کے لیے 990 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق کوئٹہ شہر میں 1,130 ملین روپے کی لاگت سے 130 کیمروں کی تنصیب کا منصوبہ جاری ہے، جس پر تقریباً 83 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے کے تحت شہر میں چھ چپ پوسٹس قائم کی جا رہی ہیں، جن میں سے چار مکمل ہو چکی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران نقصان پہنچنے والی سائٹس کو بھی جلد از جلد دوبارہ فعال کیا جائے گا، جبکہ اس مقصد کے لیے فنڈز دستیاب ہیں اور باقی ماندہ کام کو تیزی سے مکمل کیا جائے گا۔اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں تین مزید جوائنٹ چیک پوسٹس (JCPs) قائم کی جائیں گی، جن سے شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے، جرائم کی روک تھام اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔اس موقع پر کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری نے کہا کہ سیف سٹی پروجیکٹ ایک اہم اور دوررس نتائج کا حامل منصوبہ ہے، جس کی تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ شہر میں سکیورٹی، نگرانی اور امن و امان کی صورتحال میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ منصوبے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مسائل کو باہمی تعاون، مؤثر رابطہ کاری اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔کمشنر نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سیف سٹی منصوبے کے تحت نصب کیے جانے والے کیمروں اور دیگر سکیورٹی آلات کو فعال رکھنے، متاثرہ مقامات کی بحالی اور زیرِ تکمیل کام کو جلد مکمل کرنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ضلع مستونگ کو بھی سیف سٹی پروجیکٹ کا حصہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے نئی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) میں منصوبے کو شامل کیا گیا ہے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے سیف سٹی پروجیکٹ کو جلد مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔