آج مورخہ 18 اکتوبر 2026 کو بروز اتوار 1986 کے جماعت دہم کے ساتھیو کا ایک رنگارنگ پروگرام مانیری کے دارسنگ پہاڑ مانیری پایان کے دامن میں واقع پر فضا مقام موتی خیل جونگڑہ میں ہوا ۔چالیس سال بعد 1986 کے جوان اور آج کے سفید بالوں اور داڑھیوں والے آپس میں ملے۔خوب گپ شپ لگی کلاس روم کی یادوں کو تازہ کیا ۔خوب ہنسی مذاق ہوئ سارے ساتھی بہت خوش نظر آئے۔

پروگرام میں معروف مزدور رہنما اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم، پشتو کے معروف شاعر انور مانیروال،محمد امین،کنٹریکٹر حاجی نواب زادہ،حاجی خالد خان، سید عارف شاہ۔ ظہور احمد بخت منیر ۔ حاجی گل روز خان۔ عبدالرحیم،محمد خالد،سراج محمد،مختار خان،پرویز خان ماسٹر،نوروید خان،شمس القمر،شیر نبی خان،مثمر خان،ماسٹر ضابط خان،ماسٹر محمد علی خان۔ خالد اقبال ،ناظم شکیل داد، ارشد علی۔ اسلام شیر۔ شیر علی خان مقتدر شاہ۔ اور دیگر ساتھیوں نے شرکت کی جبکہ بختیار علی(جاپان) اور شاد علی خان (تھائی لینڈ) خصوصی طور پر شریک ہوئے کلاس فیلوز کےلئے ساتھی نذیر محمد (امریکہ) کے جانب سے ایک پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا جس پر تمام ساتھیوں نے نذر محمد کا شکریہ ادا کیا۔۔ شرکاء پروگرام نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس تندوتیز دور میں اس طرح کے پروگرام آکسیجن کا کام کرتا ہے ہر کوئ مصروف ہے۔سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی۔ اس حال میں دوستوں کی اکٹھ روحانی خوشیاں دیتی رہتی ہیں۔اور تھوڑی دیر کے لیے ہنسی خوشی کے ساتھ اکھٹا ہونا کل کے مصروف دوڑ دھوپ کے لیے انرجی فراہم کرتی ہے۔ پروگرام کے آخر میں وفات شدہ کلاس فیلوز کےلئے دعائے مغفرت اور بیمار ساتھیوں کی صحت کاملہ کےلئے خصوصی دعا مانگی گئی۔






