برلن سے نکلا اقبال کا راستہ، 23 سال بعد زرداری کی سفارتی دستک۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل

جرمنی میں صدر مملکت آصف علی زرداری کا 22 سے 24 اکتوبر 2026ء کا تین روزہ سرکاری دورہ محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ پاکستان اور جرمنی کے 75 سالہ تعلقات میں ایک اہم موقع ہے۔ 2003ء کے بعد کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا یہ پہلا دورۂ جرمنی ہے، جبکہ اسی سال دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ بھی منا رہے ہیں۔جرمنی کی تاریخ جنگوں، تقسیم، تباہی اور دوبارہ اتحاد کے غیر معمولی تجربے سے عبارت ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مشرقی اور مغربی جرمنی میں تقسیم ہونے والا ملک 9 نومبر 1989ء کو دیوارِ برلن کے انہدام کے بعد 3 اکتوبر 1990ء کو دوبارہ متحد ہوا۔ یہ تاریخ اس حقیقت کی علامت بن گئی کہ سیاسی اختلافات اور طویل تقسیم کے باوجود قومیں مکالمے، جمہوری فیصلے اور ادارہ جاتی مضبوطی سے دوبارہ ایک راستے پر آ سکتی ہیں۔ پاکستان اور جرمنی کا رشتہ بھی محض سفارتی دستاویز تک محدود نہیں۔ دونوں ممالک نے 15 اکتوبر 1951ء کو باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے۔1961ء سے جرمنی پاکستان کے ترقیاتی تعاون میں شریک ہے، جبکہ تجارت، تعلیم، فنی تربیت، صحت، موسمیاتی تبدیلی اور سائنسی شعبوں میں تعاون مسلسل آگے بڑھا ہے۔ جرمنی یورپی یونین میں پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے اور 2024ء میں دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت تقریباً 3.3 ارب یورو رہی۔اس تعلق کا ایک خوبصورت علمی اور روحانی حوالہ علامہ محمد اقبال ہیں۔ اقبال 1907ء میں جرمنی پہنچے، ہائیڈل برگ میں قیام کیا اور میونخ کی لُڈوِگ میکسیملین یونیورسٹی سے ’’فلسفۂ مابعدالطبیعاتِ ایران‘‘ پر ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ جرمنی نے اقبال کے فکری سفر میں جو کردار ادا کیا، وہ پاکستان اور جرمنی کے تعلق کو ایک منفرد تہذیبی رنگ دیتا ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ 23 برس تک کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا جرمنی کا دورہ کیوں نہیں ہوا؟ دستیاب سرکاری بیانات اس وقفے کی کوئی ایک مخصوص وجہ بیان نہیں کرتے، اس لیے اسے کسی سفارتی سردمہری یا اختلاف کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دونوں ملکوں کے سفارتی، تجارتی، تعلیمی اور ترقیاتی روابط اس دوران جاری رہے؛ 2012ء میں باقاعدہ تزویراتی مکالمہ بھی قائم ہوا۔ یوں 23 سال کا وقفہ اعلیٰ ترین سطح کے صدارتی دوروں میں رہا، تعلقات میں نہیں۔صدر زرداری نے جرمن صدر فرینک والٹر شٹائن مائر سے ملاقات میں معیشت و تجارت، جدید ٹیکنالوجی، موسمیاتی لچک، ہنرمندی، صحت، تعلیم، زراعت، صنعت اور عوامی و ثقافتی روابط کو وسعت دینے پر زور دیا۔ جرمن صدر نے بھی کاروبار، تعلیم اور تکنیکی تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی۔ اس دورے کا اصل امتحان اب یہ ہے کہ سفارتی ملاقاتیں عملی منصوبوں میں کتنی تبدیل ہوتی ہیں۔ جرمنی میں 11 ہزار کے قریب بلدیاتی اکائیاں ہیں اور مقامی حکومتیں شہری زندگی کے روزمرہ فیصلوں، خدمات اور انتظام میں نمایاں خودمختاری رکھتی ہیں۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 140-A بھی صوبوں کو منتخب مقامی حکومتوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات منتقل کرنے کا پابند کرتا ہے۔فرق یہ ہے کہ جرمنی میں بلدیاتی خوداختیاری مضبوط ادارہ جاتی اور مالی بنیاد رکھتی ہے، جبکہ پاکستان میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات، تسلسل اور وسائل کی منتقلی ابھی بھی ایک بڑا سوال ہے۔ شاید برلن کا یہ دورہ پاکستان کے لیے صرف تجارت اور سرمایہ کاری نہیں بلکہ مقامی حکمرانی، فنی تربیت، شہری منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی استحکام سے سیکھنے کا موقع بھی بن سکتا ہے۔ یوں 23 سال بعد برلن کی یہ سفارتی دستک اگر عملی شراکت داری میں بدل جائے تو اقبال کی جرمنی سے جڑی فکری نسبت، 75 سالہ سفارتی تاریخ اور مستقبل کی اقتصادی ضرورتیں ایک ہی راستے پر آ سکتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button