سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں منعقد ہوا، جس میں بھنگ (Cannabis) کی ریگولیشن اور تحقیق، بیجوں کی ترقی، زرعی تحقیق، نیسپاک کے منصوبوں اور سرکاری اداروں کے امور کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کی صدارت سینیٹر رانا محمود الحسن نے کی، جبکہ سینیٹر دوست علی جیسر، سینیٹر وقار علی مہدی، سینیٹر محمد عبدالقادر، سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سینیٹر عطا الرحمن نے شرکت کی۔ اجلاس میں آٹھ زرعی جامعات کے وائس چانسلرز، جن میں سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام، لسبیلہ ایگریکلچر یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد کے وائس چانسلرز شامل تھے، آریڈ ایگریکلچر یونیورسٹی کے نمائندگان، کابینہ ڈویژن کے حکام اور دیگر ماہرین بھی شریک ہوئے۔کمیٹی کو سب سے پہلے کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (CCRA) کی جانب سے بھنگ اور ہیمپ کے شعبے کی ترقی کے لیے وضع کردہ ریگولیٹری اور تحقیقی فریم ورک پر بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اتھارٹی کا قیام بھنگ کی کاشت اور پیداوار کو ریگولیٹ کرنے، مخصوص لیبارٹری اور تحقیقی مرکز کے ذریعے تحقیق کو فروغ دینے اور قانون کے مطابق کاشت اور برآمد کے لیے لائسنس جاری کرنے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ریفنگ میں بتایا گیا کہ کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کو لائسنس کے لیے 75 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جو اس وقت جانچ پڑتال کے مرحلے میں ہیں۔ اتھارٹی نے اپنے امور کی انجام دہی میں درپیش مالی وسائل اور افرادی قوت کی کمی سے بھی کمیٹی کو آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہیمپ یارن اس وقت چین اور برازیل سے درآمد کیا جا رہا ہے، جبکہ مقامی سطح پر ہیمپ کی کاشت اور اس کی پراسیسنگ کو فروغ دینے سے درآمدی بل میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کے لیے اضافی آمدن کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ بریفنگ کے دوران ٹیکسٹائل، ادویات اور دیگر شعبوں میں ہیمپ اور کینابس کی صنعتی صلاحیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔سینیٹر رانا محمود الحسن نے زرعی جامعات کو اتھارٹی کی تحقیق اور ترقی کے امور سے منسلک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ کینابس سے متعلق کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں چیمبرز آف کامرس اور متعلقہ صنعتوں کے نمائندگان کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ تحقیق، ریگولیشن اور مارکیٹ کے درمیان بہتر روابط قائم کیے جا سکیں۔سینیٹر وقار علی مہدی نے تجویز دی کہ زرعی جامعات کے وائس چانسلرز کو متعلقہ تحقیقی مراکز، بشمول کینابس سے متعلق تحقیقی اداروں، کے بورڈز آف گورنرز میں نمائندگی دی جائے تاکہ علمی اور سائنسی ماہرین کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کینابس کی غیر قانونی کاشت اور پیداوار کی روک تھام کے لیے کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری پر بھی زور دیا۔ انہوں نے اتھارٹی کو درپیش مالی اور افرادی قوت کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی۔سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ قانون سازی اور اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد ایک باقاعدہ اور ریگولیٹڈ کینابس صنعت کو فروغ دینا اور مستقبل میں اس کی برآمدات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ انہوں نے دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شعبے میں محدود پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے ناطے کینابس کے جائز طبی اور صنعتی استعمال کے مزید امکانات تلاش کر سکتا ہے۔بعد ازاں کمیٹی نے بیجوں کی ترقی سے متعلق امور کا جائزہ لیا اور نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر آصف علی سے بریفنگ حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ اتھارٹی نومبر 2024ء میں قانون سازی کے ذریعے قائم کی گئی، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی پر مبنی معیاری زرعی بیج اور پودوں کا مواد فراہم کرنا، زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا، کاشتکاروں کی آمدن بہتر کرنا اور برآمدات کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے موسمی اور زمینی حالات کے مطابق مختلف فصلوں کے لیے موزوں علاقوں کی زوننگ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بہتر پیداوار کے لیے مٹی کی سائنسی جانچ اور مقامی موسمی و زمینی حالات سے مطابقت رکھنے والی فصلوں کے انتخاب کی اہمیت بھی اجاگر کی۔ سینیٹر رانا محمود الحسن نے بالخصوص اہم اور بنیادی فصلوں کے معیاری بیجوں کی مناسب ذخیرہ اندوزی اور بروقت دستیابی یقینی بنانے پر زور دیا۔سینیٹر عطا الرحمن نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی کو نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز میں شامل کرنے کی تجویز دی، جس کی کمیٹی نے تائید کرتے ہوئے اس کی سفارش کی۔ سینیٹر دوست علی جیسر نے تجویز دی کہ سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام میں مقامی فصلوں اور بیجوں کے تحقیق و ترقی کے کام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سے خصوصی فنڈنگ میں اضافے کے لیے رابطہ کیا جائے۔کمیٹی نے نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ (NESPAK) سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے سینیئر ملازمین کو ترقیوں کے معاملات میں نظر انداز کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ کو ہدایت کی کہ ایسے معاملات کا متعلقہ قواعد و ضوابط اور سینیارٹی کے اصول کے مطابق ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ جو ملازمین قواعد کے تحت ترقی کے اہل پائے جائیں اور جنہیں نظر انداز کیا گیا ہو، انہیں متعلقہ قواعد کے مطابق سابقہ مؤثر تاریخ سے ترقی کا فائدہ دینے پر غور کیا جائے۔کمیٹی نے کے۔فور آگمنٹیشن پراجیکٹ کے حیدرآباد کمپوننٹ پر ہونے والی پیش رفت کو سراہا، تاہم مجموعی منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ نیسپاک کو ہدایت کی گئی کہ کراچی میں پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر منصوبے پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔اجلاس میں عوامی انتظامیہ اور تربیت سے متعلق اداروں کے دائرۂ کار میں موجود مماثلت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی سفارش کی، جو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (NIPA)، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی اور سول سروسز اکیڈمی کے کام، دائرۂ کار اور باہمی مماثلت کا جائزہ لے گی اور ادارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے اور اختیارات و ذمہ داریوں کی تکرار سے بچنے کے لیے، جہاں مناسب ہو، اداروں کو یکجا یا ازسرنو منظم کرنے سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔کمیٹی نے متعلقہ حکام کو اجلاس میں زیرِ بحث امور اور سفارشات پر ضروری پیش رفت یقینی بنانے اور آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
Read Next
اگست 14, 2026
خود انحصاری کی جانب اہم قدم: نادرا نے پاکستان میں تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا
اگست 12, 2026
یومِ آزادی کی تقریبات کا آغاز، معروف کاروباری شخصیت میاں محسن کی قیادت میں شاندار ریلی کا انعقاد
مارچ 11, 2026
وفات کا اندراج نادرا میں اپ ڈیٹ نہ کروانے والوں کے شناختی کارڈ منسوخ
مارچ 10, 2026
*پاکستان میں 2 ماہ کیلئے فیول ایمرجنسی نافذ*
فروری 22, 2026
شناختی کارڈ سے محروم شہریوں کے لئے نادرا کا اہم اقدام،پیدائش سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنوانےکی مشروط سہولت
Related Articles
پیدائش، وفات، ازدواجی حیثیت میں تبدیلی کا بروقت اندراج پہلے یونین کونسل، پھر نادرا دفتر
دسمبر 9, 2025
ہر بچے کا الگ ب فارم | مقررہ میعاد اور تصویر کے ساتھ
دسمبر 6, 2025
پاکستانی نوجوان کا کارنامہ ، اپنی کمپنی 4 کھرب 77 ارب روپےمیں امریکی ادارے کو بیچ دی
اکتوبر 30, 2025
پہلا شناختی کارڈ (بغیر سمارٹ چِپ) بالکل مفت
اکتوبر 29, 2025
