پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات اعظمیٰ بخاری کا حالیہ بیان ایک اہم سیاسی اور انتظامی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے اور اگر الیکشن کمیشن جب بھی انتخابات کرانے کا حکم دے گا تو صوبائی حکومت اس کے مطابق انتخابات کروا دے گی۔ بظاہر یہ ایک مثبت، واضح اور جمہوری مؤقف ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پنجاب کے عوام گزشتہ کئی برس سے منتخب مقامی حکومتوں سے محروم ہیں۔ تاہم اس بیان کی اصل اہمیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اسے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے گزشتہ چار پانچ برس کے تاخیری سفر کے تناظر میں دیکھا جائے۔پنجاب کی سابقہ مقامی حکومتوں کی مدت 31 دسمبر 2021 کو ختم ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد مسلسل مقامی نمائندوں کے بغیر صوبائی نظام چلتا رہا۔ الیکشن کمیشن کی اپنی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران پنجاب کی حکومتوں نے مقامی حکومتوں سے متعلق قوانین میں پانچ مرتبہ تبدیلیاں کیں۔ الیکشن کمیشن نے تین مرتبہ حلقہ بندی کا مشکل عمل مکمل کیا اور انتخابی گروپوں کا اندراج بھی کیا، مگر ہر مرتبہ جب انتخابات کی تیاری آخری مرحلے میں پہنچی تو قانون میں تبدیلی کے باعث پہلے سے کیا گیا عمل بے اثر ہوگیا۔ یہی وہ پس منظر ہے جس کی وجہ سے پنجاب حکومت کے موجودہ مثبت بیان کو محض سیاسی بیان کے بجائے عملی امتحان کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ 2025 میں بھی الیکشن کمیشن نے دسمبر میں انتخابات کرانے کی سمت پیش رفت کی تھی، مگر پنجاب حکومت کی درخواست پر نئے مقامی حکومت قانون کے تناظر میں انتخابی عمل میں تبدیلی آئی۔ 2026 کے آغاز میں بھی الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی طرف سے مختلف انتظامی اور قانونی مراحل مقررہ وقت پر مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔تاہم اس مرتبہ صورت حال پہلے سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ حلقہ بندی کا عمل مکمل ہوچکا ہے، پنجاب حکومت نے انتخابات کے لیے وسائل بھی مختص کیے ہیں اور اگست میں الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کے درمیان 15 دسمبر 2026 سے 15 جنوری 2027 کے درمیان انتخابات کرانے پر اتفاق بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد پنجاب حکومت نے دسمبر اور جنوری کے موسم، دھند اور دیگر مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات اپریل 2027 تک مؤخر کرنے کی تجویز دی، جسے الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا اور فوری طور پر انتخابی شیڈول جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔اب الیکشن کمیشن کی طرف سے پنجاب اور کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے معاملات 28 اکتوبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر کرنا اور متعلقہ اعلیٰ حکام کو نوٹس جاری کرنا اس امر کی علامت ہے کہ انتخابی ادارہ اس مرتبہ معاملے کو مزید غیر معینہ مدت تک التوا میں رکھنے کے لیے تیار نہیں۔ اس سے پہلے بھی الیکشن کمیشن واضح کرچکا ہے کہ وہ پنجاب میں انتخابات کرانے کے لیے تیار ہے۔اس پورے منظرنامے میں اعظمیٰ بخاری کا تازہ بیان یقیناً خوش آئند ہے۔ اگر پنجاب حکومت واقعی الیکشن کمیشن کے آئندہ حکم اور شیڈول کو بلا رکاوٹ قبول کرتی ہے تو ماضی کی تاخیر کا باب بند ہوسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 14 دسمبر کی تاریخ بھی تجویز کی ہے اور مجوزہ شیڈول میں انتخابی عمل اکتوبر ہی میں شروع کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات صرف نمائندے منتخب کرنے کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ گلی، محلے، یونین کونسل اور مقامی مسائل کا براہِ راست تعلق انہی اداروں سے ہے۔ اس لیے پنجاب حکومت کے لیے اب اصل امتحان بیان نہیں بلکہ عمل ہے۔ اگر حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے دسمبر میں انتخابات کے انعقاد میں تعاون کرتی ہے تو یہ پنجاب کی جمہوری تاریخ میں ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔ اس سے نہ صرف عوام کا مقامی جمہوریت پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ یہ تاثر بھی ختم ہوگا کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو اپنے سیاسی اختیار کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں۔اب گیند الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت دونوں کے کورٹ میں ہے، مگر سب سے زیادہ نظریں پنجاب حکومت کے عملی رویے پر ہیں۔ ماضی میں تاخیر کے متعدد اسباب سامنے آچکے، اب اگر حکومت اپنے تازہ مؤقف پر قائم رہتی ہے تو دسمبر 2026 پنجاب کے عوام کے لیے محض ایک انتخابی مہینہ نہیں بلکہ چار سالہ بلدیاتی خلا کے خاتمے کا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔
Read Next
1 گھنٹہ ago
"مریم نواز کا سوہنا پنجاب” پروگرام کے اہداف حاصل کئے جائیں گے،وزیر بلدیات ذیشان رفیق
17 گھنٹے ago
*آبادی سات گنا بڑھ گئی،صوبائی حدود وہیں کی وہیں،پاکستان میں انتظامی تقسیم پر نظرثانی ناگزیر،ابراہیم مراد*
21 گھنٹے ago
جب امن کی جنگ ہو تو سیاست نہیں، ریاست جیتنی چاہیے۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
24 گھنٹے ago
خواتین کو آدھی آبادی کا آدھا نہیں، پورا حق – مخصوص سے منصفانہ تک کا سفر۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
2 دن ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس،انسدادِ سموگ اقدامات،ایجنسیز کی کارکردگی اور اینٹی لٹرنگ مہم کا جائزہ
Related Articles
پی ڈبلیو سی اے کی جانب سے قلعہ کہنہ قاسم باغ،ملتان میں تاریخی کتب خانے کی بحالی، اہلِ علم و دانش کیلئے کیفے کا قیام
3 دن ago
ایل ڈبلیو ایم سی کے زیراہتمام 34 سرکاری اور نجی اسکولوں کے مابین 3Rs اور ویسٹ سیگریگیشن ماڈل مقابلے کا اہتمام
4 دن ago




