پاکستان میں خواتین کی سیاسی نمائندگی کی کہانی دراصل اس ملک کی جمہوریت کے ارتقا کی کہانی ہے۔ 1947ء میں آزادی کے فوراً بعد یہ سوال اٹھا کہ نئی ریاست کے ایوانوں میں وہ طبقات کیسے آئیں گے جو صدیوں سے اقتدار سے دور رہے۔ اسی سوچ کے تحت قائد کے قریبی ساتھی لیاقت علی خان نے 1949ء میں پہلی بار مخصوص نشستوں کا تصور دیا۔ 1956ء کے پہلے آئین میں خواتین کے لیے 10 نشستیں رکھی گئیں، مگر عملی سیاست میں ان کا کردار علامتی ہی رہا۔ محترمہ فاطمہ جناح نے 1965 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لے کر ثابت کیا کہ عورت ووٹ لینے کے ساتھ ووٹ جیتنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے، حالانکہ انہیں ریاستی مشینری کے جبر کا سامنا کرنا پڑا۔1973ء کا آئین ایک بڑا موڑ تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے اس متفقہ آئین میں طے ہوا کہ قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے 10 نشستیں 10 سال کے لیے مخصوص ہوں گی، جن کا انتخاب براہ راست عوام نہیں بلکہ صوبائی اسمبلیاں کریں گی جیسے سینیٹر کا انتخاب ہوتا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ خواتین میں عملی سیاست کا رجحان پیدا ہو اور پھر وہ خود براہ راست میدان میں آئیں۔ 1977ء میں بیگم نسیم ولی خان پہلی خاتون ایم پی اے تھیں جو صوبائی سطح پر عام نشست سے کامیاب ہوئیں، اگرچہ سیاسی حالات کے باعث وہ حلف نہ اٹھا سکیں۔10 سال کی اس مدت کو بعد میں بڑھایا گیا اور جنرل ضیا الحق کے دور میں خواتین کی نشستوں کی یہ تعداد 10 سےبڑھا کر 20 کر دی گئی۔ مگر آئین میں لکھی 15 سال کی شرط پوری ہونے پر 1988 کے عام انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشستیں یکسر ختم کر دی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 1988 سے 1997 تک بننے والی چار قومی اسمبلیوں میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر رہ گئی، اور سیاسی جماعتوں نے براہ راست ٹکٹ دینے میں بھی کنجوسی دکھائی۔اس خلا کو پر کرنے کے لیے خواتین کی اپنی تحریکیں میدان میں آئیں۔ 1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی خان کی آل پاکستان ویمنز ایسوسی ایشن (اپوا)، 1981 میں ضیائی آمریت کے خلاف بننے والا ویمنز ایکشن فورم (WAF)، شرکت گاہ، عورت فاؤنڈیشن کا قانون سازی پر مسلسل دباؤ اور عاصمہ جہانگیر جیسی قانونی جنگجوؤں کی عدالتی و سماجی مزاحمت نے اس بیانیے کو زندہ رکھا کہ مخصوص نشست احسان نہیں، تاریخی ناانصافی کا ازالہ ہے۔ بینظیر بھٹو کا دو بار وزیراعظم بننا کہ جب موقع ملے تو پاکستانی خاتون قیادت کر سکتی ہے۔معتبر خواتین قائدین کی جدوجہد بھی اس سفر کا بنیادی حصہ ہے۔ مادرِ ملت فاطمہ جناح نے جمہوری حقوق اور خواتین کی سیاسی بیداری کی علامت بن کر کردار ادا کیا۔ بیگم نصرت بھٹو، بیگم شائستہ اکرام اللہ، بیگم جہاں آرا شاہنواز، بیگم اشرف عباسی، بیگم کلثوم سیف اللہ، بیگم مہناز رفیع اور بعد کی نسل کی متعدد خواتین سیاست دانوں نے مختلف ادوار میں یہ ثابت کیا کہ خواتین محض ووٹر نہیں بلکہ قانون ساز، منتظم اور فیصلہ ساز بھی ہوسکتی ہیں۔ سب سے بڑی تبدیلی جنرل پرویز مشرف دور میں آئی۔ 2000 میں بلدیاتی نظام میں 33 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کر کے پہلی بار یونین کونسل سے ضلع ناظم تک ہزاروں خواتین کو اقتدار کی نچلی سطح پر لایا گیا۔ یہ تجربہ گاہ بنی۔ پھر الیکشن آرڈر 2002 کے تحت قومی اسمبلی میں خواتین کی نشستیں 20 سے بڑھا کر 60، سینیٹ میں 17، اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 128 سے بڑھا کر 168 کر دی گئیں، جو آج 749 صوبائی نشستوں میں شامل ہیں۔ یہ نظام 18 ویں ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کا حصہ بنا اور طریقہ بدل دیا گیا، اب یہ نشستیں صوبائی اسمبلیوں کے ووٹ سے نہیں بلکہ ہر پارٹی کے عام نشستوں پر حاصل کردہ تناسب سے دی جاتی ہیں۔ اسی اصلاح کے بعد 2002 کی 12 ویں اسمبلی میں 74 خواتین پارلیمنٹ میں پہنچیں اور مجموعی نمائندگی 22 فیصد تک جا پہنچی، جو آج تک کی بلند ترین شرح ہے۔ 1972ء میں بیگم اشرف عباسی کا قومی اسمبلی کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر بننا ایک تاریخی سنگِ میل تھا۔ بعد کے ادوار میں 19 مارچ 2008ء کو بیگم فہمیدہ مرزا کا قومی اسمبلی کی پہلی خاتون سپیکر بننا اسی تسلسل کا ثمر تھا۔مخصوص نشستوں کے مخالفین کہتے ہیں کہ یہ جماعتوں کے سربراہوں کی پسند ناپسند اور خاندانی سیاست کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ تنقید بجا سہی، مگر حقائق بتاتے ہیں کہ اسی نظام نے ہزاروں متوسط طبقے کی وکیلوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں کو پارلیمنٹ کا راستہ دکھایا۔ جب تک براہ راست ٹکٹوں میں خواتین کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم ہے، مخصوص نشستیں جمہوریت کی بیساکھی نہیں، جمہوریت کی ضمانت ہیں۔ اصل چیلنج اب تعداد سے معیار کی طرف جانے کا ہے، یعنی سیاسی جماعتوں کے اندر شفاف انتخاب، براہ راست نشستوں پر خواتین کو ٹکٹ، اور مقامی حکومتوں میں 33 فیصد کوٹے کی مکمل بحالی، تاکہ آدھی آبادی کا فیصلہ ایوانوں میں پورے حق کے ساتھ ہو۔
بشکریہ: مرکزی خیال جناب زاہد اسلام





