لاہور میں آٹے کی عدم دستیابی اور فراہمی میں بدنظمی کی رپورٹس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب ڈاکٹر کرن خورشید نے فوری اور سخت ایکشن لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کی 12 دکانوں پر 10 کلو آٹے کے تھیلوں کی عدم دستیابی کی رپورٹ سامنے آنے پر سیکرٹری فوڈ کی جانب سے تحقیقات کی گئیں۔تحقیقاتی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ 12 میں سے 9 دکانیں مکمل طور پر فرضی تھیں جبکہ باقی 3 دکانوں پر آٹے کی فراہمی میں تاخیر پائی گئی۔آٹے کی فراہمی میں غفلت، عدم توجہی اور بے ضابطگیوں پر سیکرٹری فوڈ ڈاکٹر کرن خورشید نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر 2 فضل عباس شاہد کو فوری طور پر عہدے سے معطل کر دیا ہے اورمعطلی کے بعد ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر فضل عباس شاہد کے خلاف سیکرٹری فوڈ سیفٹی نے ڈائریکٹر جنرل فوڈ / کین کمشنر پنجاب لاہور کو انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ایک ہفتہ کے اندر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
آٹے کی فراہمی میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث 6 فلور ملز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والی فلورملز کا سرکاری گندم کا کوٹہ فوری طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لاہور میں آٹے کی فراہمی کے مجموعی نظام میں بے ضابطگیوں کی جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹری فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن پنجاب ڈاکٹر کرن خورشید کا کہنا ہے کہ لاہور میں آٹے کی فراہمی سے متعلق موصول ہونے والی تمام شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے کی سستے اور شفاف طریقے سے دستیابی کو یقینی بنانا حکومت اور محکمے کی اولین ترجیح ہے اور اس معاملہ میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔






