پشاور میں وزیراعظم کی زیرصدارت اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد بیرسٹر گوہر کا یہ کہنا کہ اجلاس کا انعقاد خوش آئند ہے، دہشت گردی پر کوئی دورائے نہیں اور اسے ہر صورت ختم ہونا چاہیے، بظاہر ایک سیاسی بیان ہے، مگر اس کے اندر ایک اہم قومی حقیقت پوشیدہ ہے: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور صوبے کا ایک صفحے پر ہونا ناگزیر ہے۔ 23 اکتوبر 2026ء کو بیرسٹر گوہر نے بھی وفاقی اور صوبائی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت تسلیم کی۔اپیکس کمیٹی دراصل کوئی متوازی حکومت یا الگ انتظامی ادارہ نہیں بلکہ وفاقی، صوبائی، عسکری، پولیس، انتظامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایک میز پر لانے والا اعلیٰ سطحی رابطہ اور فیصلہ سازی کا فورم ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ دہشت گردی جیسے پیچیدہ مسئلے پر معلومات ایک دوسرے سے پوشیدہ نہ رہیں، ادارے اپنی اپنی کارروائی الگ الگ کرنے کے بجائے مشترکہ حکمت عملی بنائیں اور کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی نگرانی بھی ہو۔ پاکستان میں اس نظام کی اہمیت 16 دسمبر 2014ء کے سانحۂ آرمی پبلک اسکول کے بعد مزید واضح ہوئی۔ اس سانحے کے بعد قومی اتفاقِ رائے سے 20 نکاتی قومی ایکشن پلان تشکیل دیا گیا، جسے 24 دسمبر 2014ء کو پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ چونکہ اس پلان پر وفاق اور صوبوں دونوں کو عمل کرنا تھا، اس لیے صوبائی اپیکس کمیٹیاں قائم کی گئیں جبکہ قومی سطح پر نگرانی کا نظام بھی بنایا گیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ دہشت گردی صرف فوج یا پولیس کا مسئلہ نہیں۔ دہشت گردی کے پیچھے مالی معاونت، سہولت کاری، غیر قانونی اسلحہ، انتہا پسندانہ بیانیہ، سرحدی نقل و حرکت، کمزور انتظامی نظام اور بعض علاقوں میں محرومی جیسے عوامل بھی کارفرما ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے اپیکس کمیٹی کا تصور ’’پورے نظام‘‘ کو ایک مربوط کوشش میں تبدیل کرنے کا ہے۔ نومبر 2024ء میں وفاقی اپیکس کمیٹی نے بھی دہشت گردی کے خلاف سیاسی، سفارتی، اطلاعاتی، انٹیلی جنس، معاشی، سماجی اور عسکری اقدامات کو ایک جامع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا تھا۔ یہاں بیرسٹر گوہر کے موجودہ مؤقف کا سیاسی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اگر ماضی میں اپیکس کمیٹی کے کردار یا حکومتی پالیسیوں پر سیاسی اختلافات رہے ہیں تو موجودہ حالات میں اس فورم کی ضرورت تسلیم کرنا اس بات کی علامت بھی ہوسکتا ہے کہ قومی سلامتی کے بعض معاملات سیاسی اختلاف سے بالاتر ہونے چاہئیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کسی سیاست دان نے یہ حقیقت کب تسلیم کی، اصل سوال یہ ہے کہ اس تسلیم شدہ حقیقت کو عملی تعاون میں کب تبدیل کیا جاتا ہے۔سب سے اہم کڑی بلدیاتی ادارے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آخری محاذ تھانے، ضلعی دفتر یا دارالحکومت نہیں بلکہ محلہ، گاؤں اور یونین کونسل ہے۔ مقامی نمائندے اپنے علاقے کے لوگوں، مسائل، مشکوک سرگرمیوں، بنیادی سہولیات کی کمی اور عوامی بے چینی سے زیادہ براہِ راست واقف ہوتے ہیں۔ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا متبادل نہیں، لیکن عوام اور ریاست کے درمیان مؤثر رابطہ ضرور بن سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت ضلع سطح پر رابطہ کمیٹیوں کا تصور سامنے آیا۔ 2024ء میں وفاقی اپیکس کمیٹی نے صوبائی اپیکس کمیٹیوں کے تحت ضلعی رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب میں 2025ء میں ایسی کمیٹیوں کو قومی ایکشن پلان اور اپیکس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے تشکیل دیا گیا۔اگر بلدیاتی ادارے فعال، بااختیار اور جواب دہ ہوں تو وہ امن کے لیے ’’آنکھ اور کان‘‘ بن سکتے ہیں؛ عوامی شکایات فوری متعلقہ اداروں تک پہنچا سکتے ہیں، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیوں، تعلیم، کھیل اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتے ہیں اور متاثرہ علاقوں کی ترقیاتی ضروریات کو ریاستی ترجیحات میں شامل کرا سکتے ہیں۔ خود خیبر پختونخوا کی حالیہ اپیکس کمیٹی نے بھی تعلیم، صحت، روزگار، معیارِ زندگی، عوامی رائے اور مقامی ضروریات کو پائیدار امن سے جوڑا ہے۔ اس لیے اپیکس کمیٹی کی اصل کامیابی اجلاس منعقد کرنے میں نہیں بلکہ فیصلوں کو گاؤں، محلے، یونین کونسل اور ضلع تک پہنچانے میں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ریاستی طاقت ضروری ہے، مگر پائیدار امن کے لیے عوامی شراکت اور مضبوط بلدیاتی نظام بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ اگر سیاست دان، وفاق، صوبے، ادارے اور مقامی حکومتیں ایک ہی قومی مقصد پر متحد ہوجائیں تو اپیکس کمیٹی محض اجلاس کی میز نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کے امن کی ایک مؤثر عملی زنجیر بن سکتی ہے۔
Read Next
3 گھنٹے ago
خواتین کو آدھی آبادی کا آدھا نہیں، پورا حق – مخصوص سے منصفانہ تک کا سفر۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
23 گھنٹے ago
وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت اجلاس،انسدادِ سموگ اقدامات،ایجنسیز کی کارکردگی اور اینٹی لٹرنگ مہم کا جائزہ
2 دن ago
پی ڈبلیو سی اے کی جانب سے قلعہ کہنہ قاسم باغ،ملتان میں تاریخی کتب خانے کی بحالی، اہلِ علم و دانش کیلئے کیفے کا قیام
2 دن ago
جب اسلام آباد میں دسمبر کی سردی رکاوٹ نہیں، تو پنجاب میں کیوں؟ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
2 دن ago
*وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت پی ڈی پی کا جائزہ اجلاس*
Related Articles
ایل ڈبلیو ایم سی کے زیراہتمام 34 سرکاری اور نجی اسکولوں کے مابین 3Rs اور ویسٹ سیگریگیشن ماڈل مقابلے کا اہتمام
3 دن ago
مقامی حکومت کا نظام:دنیا کی ترقی کا راز اور پاکستان کی جمہوری محرومی۔۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
3 دن ago
پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کی تاریخ: عوام کے دروازے تک جمہوریت کا سفر۔۔ حرفِ حقیقت: محمد اقبال مغل
4 دن ago



