خلیج فارس میں جنوبی اور شمالی پارس کے مقام پر 1971 میں گیس ذخائر دریافت ہوئے جس کے ایران اور قطر مشترکہ مالک ہیں۔دوتہائی ملکیت قطر جبکہ ایک تہائی ایران کے پاس ہے۔
یہ کسی ایک جگہ پر دنیا کا سب سے بڑا گیس ذخیرہ ہے
9700 مربع کلومیٹر پر پھیلے ذخائر ہیں
51 ہزار ارب مربع میٹر گیس کا اندازہ ہے
پاک ایران بھارت گیس لائن کے مکمل منصوبے کے تحت اس کی کل لمبائی 2775 کلومیٹر ہونا تھی
پہلا حصہ 902 کلومیٹر
دوسرا 270 کلومیٹر، دونوں ایران کے اندر کے ہیں
56 انچ قطر کی پائپ لائن بچھی ہے۔
عسلویہ بوشہر سے بندر عباس، ایران شہر، چاہ بہار سے ہوتی ہوئی گوادر، خضدار، سوئی، ملتان اور پھر نئی دہلی تک اسے جانا تھا
مجوزہ منصوبے میں پائپ لائن بھارت، چین اور بنگلہ دیش تک پہنچائی جانی تھی
1995 میں بات چیت اور ابتدائی معاہدہ ہوا
1999 میں بھارت بھی شامل ہوا
2008 اور پھر 2010 میں چین اور بنگلہ دیش تک بڑھانے کی بات ہوئی
2009 میں بھارت نے امریکہ سے نیوکلیئر انرجی کی ڈیل کی اور گیس معاہدے سے دستبردار ہوگیا
2010 میں بھارت نے سہ فریقی مذاکرات کی پیشکش کی۔
2009 میں پاکستان ایران باضابطہ معاہدہ ہوا
2010 میں امریکہ نے پاکستان کو یہ معاہدہ ختم کرنے کا کہہ دیا
2013 تک ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن بچھا دی
2012 میں پاکستانی سیکشن کی تعمیر کا اعلان ہوا، 2014 میں اسے مکمل ہونا تھا
پاکستانی حصے کی لاگت اس وقت 7.5 ارب ڈالر تھی
تاخیر کی صورت میں معاہدے کے تحت پاکستان کو ایک ملین ڈالر روزانہ کا جرمانہ دینا تھا
جو دس سال میں اب تک 3650 ملین ڈالر ہوچکا
ایران نے پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں لیجانے کی دھمکی دی ہے
مارچ 2013 میں پاکستانی صدر آصف زرداری اور ایرانی صدر احمدی نژاد نے افتتاح کردیا
2013 سے 2018 کے درمیان نواز شریف حکومت آگئ، پھر وعدے وعید ہوتے رہے۔
2017 میں بھارت معاہدے سے الگ ہوگیا اور کہا کہ وہ سمندری راستے سے ایران سے براہ راست گیس لے گا
2018 میں عمران خان کی حکومت آئی مگر کام نہ شروع ہوا
2019 میں پاکستان نے باضابطہ طور پر ایران کو بتادیا کہ امریکی پابندیوں کے باعث اس پر مزید کام نہیں ہوسکتا
اب پاکستان نے 23 فروری 2024 کو ایک بار پھر پائپ لائن بنانے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی صدر پاکستان کے دورے پر ہیں اور یہ موضوع پھر سے زیر بحث ہے۔
1995 میں شروع ہوا منصوبہ جو آج تک 29 سال میں مکمل نہیں ہوسکا۔ آئندہ بھی مکمل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر لگتے ہیں






