وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے کہا ہے کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے 225 ملین ڈالر کی لاگت سے ڈریم ون منصوبہ 2028 میں مکمل ہوگا جس سے منتخب تحصیلوں میں شہریوں کو معیاری میونسپل سروسز کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ سول سیکرٹریٹ میں ہونے والے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب بھر میں صفائی، واٹر سپلائی اور سیوریج کے منصوبے جلد شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس کے دوران صوبہ بھر میں جاری اور نئی میونسپل سکیموں پر غور کیا گیا۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، ایڈیشنل سیکرٹریز ماریہ طارق اور ارشد بیگ نے بھی شرکت کی۔ پنجاب میونسپل ڈویلپمنٹ فنڈ کمپنی کے مینجنگ ڈائریکٹر سید زاہد عزیز نے اجلاس کو مختلف سکیموں پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر وزیراعلی مریم نواز شریف کی طرف سے جاری ہدایات پر عملدرآمد پر بھی غور کیا اور صوبے کے 35 اضلاع میں میونسپل سروسز کی فراہمی کے لئے سکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات پنجاب ذیشان رفیق نے کہا کہ دو تحصیلوں میں میونسپل سروسز کی سکیم 250 ملین ڈالر سے 2025 میں مکمل ہوگی جبکہ 16 تحصیلوں میں واٹر سپلائی اور سیوریج سکیموں پر 553 ملین ڈالر خرچ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی نے ان سکیموں کا دائرہ کار بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ذیشان رفیق نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے ڈریم ٹو منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔ میونسپل سروسز کے منصوبوں کی تکمیل سے شہریوں کا معیار زندگی بلند ہوگا۔ اسی طرح صوبے کے 141 دیہات میں بھی میونسپل انفراسٹرکچر بنایا جائے گا۔ اجلاس کے دوران پی آئی سی پی اور ڈریم ٹو پراجیکٹ کے مالی پہلوئوں پر غور کرتے ہوئے بلدیاتی منصوبوں میں پیشرفت کے لئے سٹڈی کا کام جلد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ صوبائی وزیر نے ہر پراجیکٹ میں ڈسپوزل سٹیشن کی تعمیر لازمی قرار دینے کی ہدایت کی۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے اجلاس کو بتایا کہ پنجاب کے 545 ڈسپوزل سٹیشنوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا۔ پچیس ہزار سے ایک لاکھ آبادی والے 22 شہروں میں بھی سکیمیں شروع ہوں گی۔





