وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور کے زیر صدارت ضلع پشاور میں ٹریفک مسائل سے متعلق اجلاس منعقد ہوا ۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے صوبائی کابینہ اراکین، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، چیف سیکرٹری، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز، بلدیاتی حکومت کے نمائندوں اور دیگر اعلی حکام نےشرکت کی۔ اجلاس میں پشاور کے ٹریفک مسائل پر قائم کمیٹی کی رپورٹ پر تفصیلی غوروخوص کیا گیا ۔اجلاس کو ٹریفک سے متعلق لیگل فریم ورک، پشاور میں ٹریفک مسائل کے محرکات اور مجوزہ ٹریفک پلان پر بریفنگ، ٹریفک مسائل کے مستقل بنیادوں پر حل کے لیے شارٹ ٹرم اور مڈٹرم پلانز کی منظوری دی گئی۔ شارٹ ٹرم اور مڈ ٹرم پلانز پر عمل درآمد کے بعد لانگ ٹرم پلان ترتیب دے کر اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔اجلاس میں مزید فیصلہ کیا گیا کہ
پلانز کے تحت صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے مسائل کے پائیدار حل کے لئے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ پلانز پر عمل درآمد کے لئے تمام متعلقہ محکموں اور اداروں کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا ہے، ان ذمہ داریوں کو پوری کرنے کے لئے متعلقہ محکموں اور اداروں کے لئے ٹائم لائینز مقرر، پلانز پر عمل درآمد کے کام کی نگرانی کے لئے موثر مانیٹرنگ میکنزم ترتیب دیا جائے گا ۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مجوزہ پلانز پر فی الفور عمل درآمد شروع کرنے کی ہدایت کی۔ ان پلانز پر مقررہ ٹائم لائینز کے مطابق عمل درآمد یقینی بنانے کے لئے پیشرفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ٹریفک پلانز کے تحت مجوزہ اقدامات پر ٹائم لائنز کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے، پشاور ہم سب کا شہر اور پورے صوبے کا چہرہ ہے، پشاور کو صحیح معنوں میں صوبے کا ایک خوبصورت چہرہ بنانے کے لئے پلان ترتیب دیا گیا ہے، اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں پشاور کے لئے ایک خصوصی پیکج شامل کیا جائے گا۔منتخب عوامی نمائندے سیاست سے بالاتر ہو کر پشاور کی بہتری و خوبصورتی میں اپنا کردار ادا کریں۔ پشاور کے لیے ترقیاتی سکیموں کے لیے منتخب عوامی نمائندوں سے مشاورت کی جائے گی۔اجلاس میں نئے ٹریفک پلان پر عمل درآمد کے لیے مختلف محکموں اور اداروں کی خالی آسامیوں پر فوری بھرتیوں کی منظوری بھی دی گئی ۔ ان اداروں کو درکار مشینری اور دیگر آلات کی ترجیحی بنیادوں پر فراہمی کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس میں بعض جگہوں پر بی آر ٹی کو توسیع دینے کے علاوہ ضرورت کی بنیاد پر انڈر پاسز اور اور ہیڈ پل تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعلٰی نے پشاور میں زیبرا کراسنگ اور اوور ہیڈ پلوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ
ناردرن بائی پاس کا مسنگ لنک ناصر باغ تک رواں ماہ کے اختتام تک مکمل ہو جائے گا۔ ناصر باغ سے تختہ بیگ تک بھی روڈ پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے، انڈسٹریل اسٹیٹ حیات آباد کو بھی رنگ روڈ کی طرف الگ روڈ دے رہے ہیں، خیبر پاس اکنامک کوریڈور پر بھی پیش رفت جاری ہے۔وزیر اعلیٰ کی غیر قانونی پارکنگ کے خلاف بھی اقدامات کی ہدایت کی۔انھوں نے کہا کہ پارکنگ سے متعلق قواعد و ضوابط کا نفاذ یقینی بنایا جائے، جس پلازے کے نقشے میں پارکنگ شامل تھی اس پر عمل درآمد یقینی بنوائیں، اس مقصد کے لیے تمام پلازوں کے نقشوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے، قانون پاس ہونے کے بعد اگر کوئی نقشہ بغیر پارکنگ کے پاس کیا گیا ہے تو ذمہ دار کے خلاف کاروائی کی جائے۔ اجلاس میں کسی کے روزگار کو متاثر کئے بغیر ہتھ ریڑھیوں کو اسٹریم لائن کرنے کا فیصلہ ہوا۔اجلاس میں شہر کے سروس اور لنک روڈز کو تجاوزات سے پاک کرنے کی ہدایت
بی آر ٹی روٹس پر پبلک سروس گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی کا فیصلہ کیا گیا ۔ وزیر اعلیٰ نے ٹریفک چالان کی موجودہ شرح پر نظر ثانی کی ہدایت کی تاکہ گاڑیوں کی ویلیو کے حساب سے چالان مقرر کیے جائیں تاکہ غیر قانونی پارکنگ کا راستہ مسدود ہو سکے۔وزیر اعلیٰ نے مین ہولز کو بند کرنے کے لیے حقیقت پسندانہ پلان پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں رکشوں کو اسٹریم لائن کرنے کے لیے مخصوض کلر اسکیم متعارف کرانے کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس میں ٹیکسی سروس کو ریگولیٹ کرنے اور الیکٹرک بائیکس کی رجسٹریشن،یو-ٹرنز کی ریشنلائزیشن، سبزی منڈی باچا خان چوک کو شہر سے باہر منتقل کرنے کی منظوری دی گئی۔وزیر اعلیٰ نےسٹریٹ لائٹس کی تنصیب و مرمت کے لیے ترجیحات کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔غیر قانونی پارکنگ اور ڈبہ اسٹیڈذ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔






