اسلام آباد میں پانی کی بچت اور زیر زمین پانی کی سطح کو بڑھانے کیلئے متعدد اقدامات اٹھانے کا فیصلہ

چئیرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے بورڈ کے ممبر پلاننگ و ڈیزائن ڈاکٹر خالد حفیظ، ڈی جی اسلام آباد واٹر سمیت دیگر سنئیر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں اسلام آباد میں پانی کی بچت اور زیر زمین پانی کی سطح کو بڑھانے کیلئے متعدد اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں بارش کے پانی کو زیر زمین دوبارہ منتقل کرنے کیلئے اسلام آباد میں مختلف مقامات پر ابتدائی طور پر 100 بڑے ریچارج ایبل ویلز بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ ریچارج ایبل ویلز گرین بیلٹس، اوپن سپیسز میں بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں فارم ہاؤسز سمیت اسلام آباد کے تمام گھروں میں ریچارج ایبل ویلز بنانا ضروری قرار دیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائیٹیز تمام گھروں میں ریچارج ایبل ویلز کی تعمیر کو یقینی بنا کر سی ڈی اے کو رپورٹ پیش کریں گی۔اسی طرح اسلام آباد کے قدرتی نالوں میں بہنے والے صاف پانی کو محفوظ بنانے کیلئے 20 بڑے واٹر ٹینک اور ریزوائرز بنانے کا فیصلہ بھی اجلاس میں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ابتدائی طور پر قدرتی نالوں کے صاف پانی کو محفوظ بنانے کیلئے ابتدائی طور پر 10 واٹر ٹینک بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں اسلام آباد میں موجود مساجد میں وضو کے پانی کو محفوظ کرنے کے فیصلے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مساجد میں وضو کے پانی کو محفوظ کرکے باغبانی اور تعمیراتی کاموں کیلئے استعمال کیا جاسکے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں موجود مساجد میں وضو کے پانی کو محفوظ بنانے کے نظام کو سوسائیٹیز کی انتظامیہ یقینی بنائیں گی۔ اجلاس کو بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے اسلام آباد میں نالوں سے آبی آلودگی کو ختم کرنے کیلئے مختلف مقامات پر 11 ویٹ لینڈز بنائی جائیں گی یہ ویٹ لینڈز کے ذریعے سائینٹیفک طریقے سے آلودہ پانی کو صاف کرکے پانی کے آبی وسائل میں ڈالا جائے گا۔اجلاس میں تمام ہاؤسنگ سوسائیٹیز کیلئے بھی ویٹ لینڈز کی تعمیر ضروری قرار دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ واضح رہے ہاؤسنگ سوسائیٹیز میں بنائی جانے والی ویٹ لینڈز کی نگرانی سی ڈی اے کرے گا۔ اس موقع پر چیئرمین سی ڈی اے و چیف کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ پانی کی حفاظت اور بچت کیلئے شروع کئے جانے والے منصوبوں کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کرائی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button