کراچی(بلدیات ٹائمز)میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ اس سال کو ترقیاتی کاموں کا سال کہا تھا جس کے مطابق موجودہ مالی سال میں بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر بھر میں 46 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کر رہی ہے، ہمیں شہریوں کو فوری ریلیف دینی ہے، 30 جون تک 799 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کرنے کا ہدف اپنی ٹیم کودیا ہے، کراچی کے چار بڑے کوریڈورز کو بہتر بنانے کے لیے 4 ارب روپے مختص کیے ہیں، 40کروڑ روپے کی لاگت سے نئے قبرستانوں کی تعمیر پر جلدکام شروع ہوگا، حب ڈیم سے پرانی کینال کی مرمت کا کام مکمل کرلیا جس سے ضلع غربی اور کیماڑی میں فراہمی آب کا بہت بڑا مسئلہ حل ہوگا، K-IV پروجیکٹ کی آگمینٹشن کے لئے عنقریب ٹینڈرنگ پروسس شروع کردیں گے، سوا 2 ارب روپے کی لاگت سے لیاری میں پانی پہنچانے کے لئے ایلی ویٹڈ لائن لے کر آرہے ہیں، گزشتہ دو سال سخت محنت کی ہے اور جان ماری ہے، سخت اور بروقت فیصلے کئے اور درست حکمت عملی کے ذریعے ان تمام کاموں کو ممکن بنایا، شہر میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لئے ضلعی حکومت، ٹاؤن انتظامیہ سمیت تمام اداروں کو مل کرکام کرنا ہوگا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کو جن چیلنجز کا سامنا تھا وہ اب بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں،کے ایم سی کے مالی حالات واضح طور پر بہتر ہو رہے ہیں، آنے والا وقت کراچی شہر، سندھ اور پاکستان کے لئے اچھا ثابت ہوگا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز صدر دفتر بلدیہ عظمیٰ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر سٹی کونسل میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر دل محمد، جمن دروان اور دیگر منتخب نمائندے اور افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ موجودہ مالی سال کے ابتدائی چھ ماہ مکمل ہو رہے ہیں

اس موقع پر مناسب سمجھتا ہوں کہ شہر کی بہتری اور ترقی کے لئے بنائے گئے منصوبوں اور ان پر عملدرآمد کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، کراچی پاکستان کا گیم چینجر تھا، ہے اور رہے گا، گزشتہ دنوں پی آئی اے کی نیلامی کے لئے اولین بولیاں کراچی سے دی گئیں جو اس کا ثبوت ہے تاہم منفی پروپیگنڈے سے بہت تکلیف اور دکھ ہوتا ہے اور اس سے ہمارے شہر کا اصل چہرہ مسخ ہوجاتا ہے ہم کراچی والے پاکستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمیشہ اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی کے بنیادی مسائل حل کرنے کے حوالے سے صورتحال میں بہت حد تک بہتری آئی ہے، رواں مالی سال کے چھ ماہ میں 22 لاکھ 46 ہزار اسفالٹ کارپیٹنگ ہوئی جبکہ 85 لاکھ پیوربلاکس شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے، آئندہ چھ ماہ میں مزید 9 لاکھ 45 ہزار اسفالٹ کارپیٹنگ اور 38 لاکھ 28 ہزار سے زائد پیور بلاکس لگائے جائیں گے، جہانگیرروڈ کی تعمیر 30 کروڑ روپے کی لاگت سے کے ایم سی ازسرنو کر رہی ہے جس پر جنوری کے پہلے ہفتے میں کام شروع کردیں گے، پہلوان گوٹھ کی سڑک بمعہ ڈرین بھی ازسرنو تعمیر کر رہے ہیں، اس کے علاوہ بزنس ریکارڈر روڈ کے ایم سی تعمیر کر رہی ہے جبکہ ناتھا خان فلائی اوور سے دو متبادل سڑکیں 85 کروڑر وپے کی لاگت سے تعمیر کی جائیں گی جس سے جنوری کے وسعت تک کام شروع ہوگا، شاہراہ بھٹو استعمال کرنے والوں کے لئے عظیم پورہ کے مقام پر ڈیڑھ ارب روپے سے فلائی اوور تعمیر کیا جا رہا ہے، گلشن حدید روڈ تا اللہ والی چورنگی سڑک تقریباً ساڑھے 49 کروڑ روپے میں تعمیر کی جائے گی، طوری بنگش اتحاد ٹاؤن کی جانب حب ریور روڈ کی تعمیر پر تقریباً ایک ارب روپے خرچ ہوں گے، سو سال پرانی ہوتی مارکیٹ پر کام کر رہے ہیں، آئندہ ہفتے اس کا افتتاح کریں گے، اسی طرح لی مارکیٹ کو بھی بحال کیا جا رہا ہے، کڈنی ہل پارک میں 20 کروڑ روپے کی لاگت سے برڈآئیوری تعمیر کر رہے ہیں، گٹر باغیچہ میں 15 کروڑ روپے کی لاگت سے پبلک پارک تعمیر کیا جا رہا ہے، بلدیہ اور ماڑی پور ٹاؤن میں نئے فٹ بال گراؤنڈ کی تعمیر کا کام 30 اپریل تک مکمل کرلیں گے، ضلع وسطی شادمان میں پارک اور آئی ٹی سینٹر بنا رہے ہیں، حب ڈیم سے نئی کینال کی تعمیر کے بعد پرانی کینال کی مرمت بھی مکمل کرلی جس کے لئے پمپ جاپان سے منگوا رہے ہیں، واٹر ٹریٹمنٹ پر بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے،10 لاکھ ملین گیلن یومیہ پانی صاف کرکے صنعتی استعمال کے لئے کارآمد بنائیں گے، گلشن حدید میں واٹر پمپنگ کا مسئلہ حل کردیا ہے، کریم آباد انڈرپاس اور منور چورنگی انڈرپاس کے منصوبے بھی بہت جلد مکمل کردیں گے، یونیورسٹی روڈ پر ریڈ لائن منصوبے پر ٹرانس کراچی کام کرے گی، گزشتہ جمعہ کو کنٹریکٹر کو ادائیگی کردی گئی اب تیزی سے کام ہوگا اور مارچ سے جولائی تک کافی حد تک انفراسٹرکچر کا کام مکمل ہوجائے گا، اسپنسر آئی اسپتال کو جدید اور بہتر بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کی طرف جا رہے ہیں، عباسی شہید اسپتال میں بھی نئے بلاک کو اسی طرح فعال کرنا چاہتے ہیں، آخر میں میئر کراچی نے کہا کہ دو سال سے زیادہ عرصے کی محنت کے بعد اب کراچی کے شہریوں کو عملی ڈیلیوری دی جا رہی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، کرپشن برداشت نہیں کی جائے گی، جان بوجھ کر کوئی غلطی نہیں ہوگی، اگر کہیں غلطی ہو تو نشاندہی کی جائے تاکہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔






