ازاد جموں کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے آل کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی (AKNS) کے نو منتخب عہدے داران سے حلف لیا۔حلف برداری کی پروقار تقریب جموں کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں ہوئی ۔تقریب میں ۔وزیر حکومت چوہدری رفیق نیر ،مشیر حکومت احمد صغیر ،سابق وزیر تقدیس گیلانی ،سیکرٹری اطلاعات سردار عدنان خورشید ،ڈائریکٹر اطلاعات راجہ امجد حسین منہاس ،ڈی جی پولیٹیکل افیئرز عامر ذیشان جرال ،پولیٹیکل اسسٹنٹ سید عزادار حسین کاظمی ،ترجمان وزیراعظم شوکت جاوید میر ،وائس چییرمین پریس فاؤنڈیشن سردار ذوالفقار،نومنتخب صدر اے کے این ایس سردار زاہد تبسم ،سابق صدر اے کے این ایس چوہدری امجد ،پی ایس او صاحبزادہ محمد یونس ،پریس سیکرٹری آصف علی راٹھور ،سابق جنرل سیکرٹری اے کے این ایس راجہ امجد سمیت اے کے این ایس کے ممبران سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔حلف اٹھانے والوں میں آل کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی کے صدر سردار زاہد تبسم ، سینئر نائب صدر، رمضان چغتائی،نائب صدور عابد عباسی ،نثار کیانی ،سیکرٹری جنرل ذوالفقار بٹ ،ڈپٹی سیکرٹری خالد انجم چوہدری،سیکرٹری مالیات، اعجاز احمد خان،سیکرٹری اطلاعات دلاور بخاری، ورکنگ باڈی کے اراکین ،جاوید اقبال چوہدری،شیر باز منیر چوہدری ،خواجہ عبدالرشید اور مسعود لطیف شامل تھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ک آزاد، ذمہ دار اور مضبوط میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، جبکہ صحافی معاشرے کی آنکھ اور آواز ہوتے ہیں۔ میڈیا کی ترقی اور صحافیوں کی فلاح و بہبود حکومت آزاد کشمیر کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم نے کہا کہ صحافی نامساعد حالات میں بھی حقائق کو سامنے لانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔انتقال اقتدار سیاست میں نہیں ہے ۔اللہ پاک نے مجھے ایسے موقع پر یہ ذمہ داری دی جب ریاست کئی امور میں الجھی ہوئی تھی ، سیاست اور صحافت کا آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہے ۔بدقسمتی سے ریاست میں دونوں ہی سفید پوش ہیں ، ،سردار زاہد تبسم نے مشکل سفر سے صحافت کا آغاز کیا ،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اب پیچھے رہ گیا ہے سوشل میڈیا ان پر سبقت لے گیا ہے ،پرنٹ میڈیا بھی اپنی خبروں کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچا رہا ہے ،میڈیا کے نمائندگان ہماری آنکھ اور کان ہیں ،جب یہ منصب مجھے سونپا گیا تو ریاست ایک مشکل دور سے گزر رہی تھی سیاست میں ہر طبقے کی دوسرے پر بداعتمادی تھی ،بے یقینی کی کیفیت تھی کسی کو سہولت کار اور کئی القابات سے نوازا جا رہا تھا ہماری ریاست میں اب بھی اخلاقی قدریں موجود ہیں ہماری ریاست میں پہلی مرتبہ سیاستدانوں کو غلط القابات سے نوازا گیا پاکستان میں پولیٹیکل پولرائزیشن تھی مگر دو سال میں کچھ ایسا ضرور ہوا کہ چیزیں خرابی کی طرف گئیں فیصلہ سازی میں چونکہ ہمارا کردار کم تھا جب یہ ہوا تو حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ آزادکشمیر پیپلز پارٹی کے ایم ایل ایز نے کیا ،ہمیں یہ بھی کہا گیا کہ سات مہینے کی حکومت خودکشی ہے لیکن ہم نے یہ مشکل ذمہ داری قبول کی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے کمیٹیاں ا کر فیصلے کر رہی ہیں تو اس کا مطلب ہمارا سیاسی نظام جمود کا شکار ہو گیا ۔میں کوئی بڑے دعویٰ نہیں کرتا مگر الحمد للہ ریاست کے عوام کا اعتماد بحال کیا ہے آج بھی کشمیر ہاؤس میں ہزاروں افراد گلدستے لیکر بیٹھے ہیں کچھ مسائل لیکر آئے ہیں کچھ اپنا دکھ بیان کرنے آئے ہیں یہی سیاست ہے اور یہی جمہوریت ہے ۔انہوں نے کہا لوگ جن مسائل پر سڑکوں پر نکلے یہ ستر سال کے مسائل تھے کیا وجہ ہے کہ لوگ دو سال میں باہر آیے اسکی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کی آواز اٹھانے والا کوئی نہ تھا جس کی وجہ سے مایوسیاں بڑھتی گئیں اور ہم ایک بند گلی میں داخل ہو گئے تھے اس نظام کیلیے ہمارے اسلاف نے زندگیاں صرف کیں اسے بچانا بھی ہمارا فرض ہے ،ایک سکیل کے ملازم کو مستقل کیا ،ڈرائیورز کے سکیل کو بڑھایا ،وزیراعظم سیکرٹریٹ کے تالے کھول دئیے بیوروکریسی کو دفاتر میں بٹھایا لوگوں کو سننا شروع کیا وہ جگہ جہاں تمام سیاسی جماعتیں ملکر جلسہ نہ کر سکیں وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈروں کا عوام نے نیلم ،مظفرآباد ،دھیرکوٹ ،باغ ،عباسپور ،ہجیرہ ،حویلی اور پونچھ میں والہانہ استقبال کیا ۔پالستان پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جو لوگوں کے حقوق کی بات کرتی ہے ایک ماہ میں واضح تبدیلی آ چکی ہے ریاست میں سیاست دوبارہ بحال ہو چکی ہے ،میڈیا آج کے دور میں عوام کے مسائل اجاگر کرتا ہے یہ ایک طاقتور شعبہ ہے ،سوشل میڈیا تو انتہائی طاقتور ہو چکا ہمارے مستند صحافیوں کو چاہیے کہ وہ آگے آئیں اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں اسوقت سنجیدہ لوگ پیچھے ہو گئے ہیں اور غیر سنجیدہ مصالحے دار افراد آگے آ رہے ہیں جہاں حق اور سچ کی بات ہو گی تو لوگ اسے مستند سمجھیں گے ،وہ صحافی جو ایک نظام کے ذریعے اس نظام کا حصہ بنے وہ قابل حترام ہیں، ریاستی اخبارات نے آزادکشمیر نے نامساعد حالات میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،خوشی اس بات کی ہے کہ آپ نے کوئی سپاسنامہ پیش نہیں کیا نہ کوئی ڈیمانڈ رکھی ۔میں روایتی انداز نہیں اپناوں گا میری نیت ہے کہ
مسائل حل کروں ،وہ ملازم جو ایک عرصے سے ایڈہاک ہے اسے یہی امید ہے کہ اگر بطور وزیراعظم میں حل نہ کر سکا تو کوئی نہیں کر سکے گا جو مطالبات اے کے این ایس کے ہیں یہ آپ کے ساتھ ملکر تین دن کے اندر حل کروں گا ،محکمہ اطلاعات کو حکومت کی کارکردگی کے ہاف پیج کا اشتہار دینے کا اعلان ،حکومت صحافیوں کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا ۔ ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر نوجوان صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانا وقت کی ضرورت ہے۔ ۔انہوں نے آل کشمیر نیوز پیپر سوسائٹی کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ صحافتی اقدار، سچائی، توازن اور ذمہ دار رپورٹنگ کو فروغ دیں اور صحافی برادری کے مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کریں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا اور صحافی برادری کو اپنا شراکت دار سمجھتی ہے اور باہمی تعاون سے ایک مضبوط، باخبر اور باشعور معاشرے کی تشکیل کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔نومنتخب صدر سردار زاہد تبسم نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوے کہا کہ اللہ پاک نے آپ کو جدوجہد اور محنت کے بعد بڑے منصب پر فائز کیا ،دلوں کے حکمران راجہ ممتاز حسین راٹھور کا پرتو ہیں ،ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم آپ کے قافلے میں تھے اور ابتک ہیں ۔انہوں نے کہا کہا کہ آپ نے آزادکشمیر میں سیاسی جمود کو توڑا ، انہوں نے سابق صدر اے کے این ایس کی خدمات کو سراہا ،تقریب کی نظامت کے فرائض نومنتخب جنرل سیکرٹری ذوالفقار بٹ نے ادا کئے ۔تقریب سے وائس چیئرمین پریس فاؤنڈیشن سردار ذوالفقار ،سابق صدر اے کے این ایس چوہدری امجد اور سابق جنرل سیکرٹری راجہ امجد نے بھی خطاب کیا۔اے کے این ایس کے نومنتخب صدر سردار زاہد تبسم نے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کو شیلڈ پیش کی






