میں کچھ نہ کہوں اور یہ چاہوں کہ مری بات
خوشبو کی طرح اڑ کے ترے دل میں اتر جائے
ممتاز شاعر حمایت علی شاعر کو رخصت ہوئے 5 برس بیت گئے.
حمایت علی شاعر 14 جولائی 1926ء کو اورنگ آباد دکن میں پیدا ہوئے تھے اور 2019 میں اپنی 93 ویں سالگرہ کے اگلے دن کینیڈا میں وفات پائی.
قیام پاکستان کے بعد ان کا بیشتر خاندان بھارت ہی رہا لیکن وہ 1950 میں پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ شروع میں زمین پر بیٹھ کر اخبار تک بیچے۔ مائیکروفون سے تعلق حیدرآباد دکن سے ہی جڑ گیا تھا، جلد ہی ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوگئے ، 1955 میں ریڈیو کا حیدر آباد اسٹیشن قائم ہوا تو اس کے بانی کارکنوں میں شامل تھے۔ سندھ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا۔ بعد ازاں وہ اسی جامعہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے. پاکستان میں اردو ڈرامہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا.
حمایت علی شاعر نے پہلے افسانہ نگاری کی پھر شاعری کی طرف آئے. وہ کہتے تھے کہ جب میں حمایت طراب تھا اس زمانے میں افسانے لکھا کرتا تھا۔ تو ظاہر ہے کہ ایک تو افسانے اور پھر عمر کے تقاضے ۔ ایک دن ہمارے ابا ناراض ہو گئے کہ ایسے افسانے تم میرے نام سے لکھتے ہو۔ کیونکہ میرے نام میں ان کا نام شامل تھا ۔ تو پھر میں نے شاعری شروع کردی اور اپنا تخلص ’’شاعر ‘‘کر لیا اور ان کا نام چھوڑ دیا۔
حمایت علی شاعر کی کتابیں ‘آگ میں پھول‘، ’شکست آرزو‘، ’مٹی کا قرض‘، ’تشنگی کا سفر‘، ’حرف حرف روشنی‘، ’دود چراغ محفل‘ (مختلف شعرا کے کلام کا انتخاب)، ’عقیدت کا سفر‘(نعتیہ شاعری کے ساتھ سو سال، تحقیق)، ’آئینہ در آئینہ‘(منظوم خودنوشت سوانح حیات)، ’ہارون کی آواز‘(نظمیں اور غزلیں)، ’تجھ کو معلوم نہیں‘(فلمی نغمات)، ’کھلتے کنول سے لوگ‘(دکنی شعرا کا تذکرہ)، ’محبتوں کے سفیر‘(پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام) شائع ہوچکی ہیں۔
ڈراموں کے مجموعے فاصلے اور برزخ کے عنوان سے شائع ہوئے۔ دو نثری کتابیں شیخ ایاز اور شخص و عکس بھی شائع ہو چکی ہیں۔ خود نوشت سوانح عمری مثنوی کی ہئیت میں تحریر کی ۔
ان کا ایک کارنامہ تین مصرعوں ہر مشتمل ایک نئی صنف سخن ثلاثی کی ایجاد ہے ۔
حمایت علی شاعر کا کئی شعبوں سے تعلق رہا جن میں تدریس ، صحافت، ادارت، ریڈیو، ٹیلیوژن اور فلم کے علاوہ تحقیق کا شعبہ نمایاں ہے۔وہ روزنامہ ’خلافت‘ روز نامہ جناح، منزل اور ہمدرد (حیدرآباد دکن) میں کام کرتے رہے، اسی دوران انھوں نے ماہنامہ ’’ساز نو‘‘ کا ایک خاص نمبر بھی نکالا۔ ایک اور ماہانہ ادبی رسالے ’’آدمیت‘‘ سے بھی وابستہ رہے۔ شعور (حیدرآباد سندھ) کے مدیر بھی رہے۔
اس زمانے میں بہت سے ادیب فرضی ناموں سے بھی لکھتے تھے۔حمایت علی نے ابتدا میں مختلف اخبارات میں حمایت طراب، نردوش کے نام سے بھی لکھا اور کافی عرصہ ابلیس فردوسی کے نام سے طنزیہ کالم بھی لکھتے رہے۔
ٹیلی ویژن پر ان کے کئی تحقیقی پروگرام پیش کئے جا چکے ہیں ،جن میں پانچ سو سالہ علاقائی زبانوں کے شعراء کا اردو کلام خوشبو کا سفر ،اردو نعتیہ شاعری کے سات سو سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام عقیدت کا سفر،احتجاجی شاعری کے چالیس سال پر ترتیب دیا گیا پروگرام لب آزاد،پانچ سو سالہ سندھی شعرا کا اردو کلام محبتوں کے سفیر اور تحریک آزادی میں اردو شاعری کا حصہ نشید آزادی کے نام سر فہرست ہیں۔

حمایت علی شاعر نے متعدد فلموں کے لیے گیت بھی تحریر کیے جنھیں نگار اور مصور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ان فلموں میں جب سے دیکھا ہے تمھیں، دل نے تجھے مان لیا،دامن،اک تیرا سہارا،خاموش رہو، کنیز، میرے محبوب، تصویر، کھلونا، درد دل اور نائلہ کے نام سر فہرست ہیں۔ انھوں نے دو فلمیں لوری اور گڑیا پروڈیوس بھی کیں. لوری اپنے وقت کی کامیاب ترین فلم تھی۔ حمایت علی شاعر کے فلمی نغمات کا مجموعہ بھی تجھ کو معلوم نہیں کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔
ان کا فلم ” مجاہد ” کے لیے تحریر کردہ قومی نغمہ ” ساتھیو! مجاہدو! جاگ اٹھا ہے سارا وطن ” جنگ کے پہلے دن ہی ہر ریڈیو اسٹیشن سے گونج رہا تھا ۔ یہ نغمہ 4 ستمبر کوریلیز ہونے والی فلم میں شامل تھا فلم تو کامیاب نہ ہوئی خلیل احمد کی موسیقی سے مزین مسعود رانا ، نورجہاں بیگم اور شوکت علی آوازوں میں یہ نغمہ جنگِ کے پہلے دن سے لیکر آخری دن تک روز بلکہ بار بار ریڈیو سے نشر ہوتا تھا اس کے علاوہ فلم ” اک تیرا سہارا "میں شامل انکا تحریر کردہ نغمہ "اپنے پرچم تلے ہر سپاہی چلے ” بھی قوم میں جوش ابھار رہا تھا جسے نسیم بیگم ، آئرین پروین اور ساتھیوں نے گایا تھا ۔ دورانِ جنگ حمایت علی شاعر نے صدر ایوب خان کی تقریر کاتاثر لیتے ہوئے ایک پرجوش جنگی ترانہ ” اے دشمنِ دیں تونے کس قوم کو للکارا ہے” بھی تحریر کیا سے مسعود رانا اور شوکت علی نے لاہور ریڈیو پر خلیل احمد کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا تھا ۔اسی نغمے پر بعد از جنگ انہیں تمغہ خدمت سے بھی نوازا گیا ۔
دوران جنگ انہوں نے اپنی نظم ” لہو ” بھی تحریر کی ۔اس نظم کو بطورِ جنگی ترانہ حبیب ولی محمد مرحوم نے کراچی ریڈیو پر ریکارڈ کروایا
لہو جو سرحد پہ بہہ رہا ہے
لہو جو سرحد پہ بہہ چکا ہے
ہم اس لہو کا خراج لیں گے
حمایت علی شاعر کو 2002 میں حکومت ِپاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس کا اعزاز دیا۔
ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مرہٹواڑہ یونیورسٹی بھارت سے ڈاکٹر قاضی نوید احمد صدیقی اور کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹر رعنا اقبال نے حمایت علی شاعر کے فن و شخصیت پر پی ایچ ڈی کی۔
حمایت علی شاعر کے کچھ اشعار
فکر معاش کھا گئی دل کی ہر اک امنگ کو
جائیں تو لے کے جائیں کیا حسن کی بارگاہ میں
تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی
کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے
صرف زندہ رہنے کو زندگی نہیں کہتے
کچھ غم محبت ہو کچھ غم جہاں یارو
شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ
بدن پہ پیرہنِ خاک کے سوا کیا ہے
مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ہے
یہ شہر سجدہ گذاراں، دیارِ کم نظراں
یتیم خانۂ ادراک کے سوا کیا ہے
تمام گنبد و مینار و منبر و محراب
فقیہہِ شہر کی املاک کے سواکیا ہے
تمام عمر کا حاصل بہ فضل ربِ کریم
متاعِ دیدۂ نمناک کے سوا کیا ہے
جہانِ فکروعمل میں یہ میرا زعمِ وجود
فقط نمائشِ پوشاک کے سوا کیا ہے
میں تو سمجھ رھا تھا کہ مجھ پر ھے مہرباں
دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی
دل کے ہر کھیل میں ہوتا ہے بہت جاں کا زیاں
عشق کو عشق سمجھ مشغلہ دل نہ بنا
ثلاثی کے نمونے
الہام
کوئی تازہ شعر اے ربّ ِ جلیل
ذہن کے غارِ حرا میں کب سے ہے
فکر محوِ انتظارِ جبرئیل
یقین
دشوار تو ضرور ہے، یہ سہل تو نہیں
ہم پر بھی کھل ہی جائیں گے اسرارِ شہرِ علم
ہم ابنِ جہل ہی سہی، بو جہل تو نہیں






