پاکستان میں بیوہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے انتظامات اور ان میں بہتری لانے کے اقدامات کی اشد ضرورت

بیواؤں کا عالمی دن ہرسال 23 جون کو منایا جاتا ہے۔ آج 23 جون کو یہ دن منایا جارہا ہے۔پاکستان میں بیوہ خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے انتظامات اور ان میں بہتری لانے کے اقدامات پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔سرکاری اور فلاحی معاونت کے حصول میں حائل پیچیدگیوں کو دور کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ پنجاب کے مروجہ طریقہ کار میں درج ذیل 5 فوری اور اصلاحات کی ضرورت ہے، تاکہ ایک مجبور بیوہ خاتون بغیر کسی خواری کے اپنا حق پا سکے:

*ون ونڈو آپریشن (One-Window Digital Desk* ): نادرا، پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی اور محکمہ مال (پٹواری کلچر) کے دفاتر کے چکر کاٹنے کے بجائے تمام ریلیف پروگرامز (بشمول بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری) کے لیے ہر تحصیل سطح پر ایک ہی ‘ون ونڈو ڈیسک’ قائم کیا جائے جہاں تمام تصدیقیں ایک ہی چھت تلے ہوں۔

*وراثت اور انتقالِ اراضی کا خودکار نظام* : شوہر کے انتقال کے بعد نادرا کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہوتے ہی، متوفی کا وراثتی ڈیٹا خودکار طریقے سے محکمہ مال (Land Record Authority) کو منتقل ہونا چاہیے، تاکہ بیوہ کو جائیداد اپنے نام منتقل کروانے کے لیے پٹواریوں یا عدالتوں کے طویل چکر نہ کاٹنے پڑیں۔

*تصدیقِ احوال کی ڈیجیٹلائزیشن (Smart Verification):* سالانہ بنیادوں پر بیوہ ہونے کی مینوئل تصدیق (مثلاً بائیو میٹرک یا کونسلر کی گواہی) کی شرط ختم کی جائے، اور اسے نادرا کے لائیو ڈیٹا بیس (نکاح/انتقال ریکارڈ) سے لنک کر کے خودکار بنایا جائے تاکہ بزرگ یا بیمار خواتین کی پنشن یا وظیفہ بلاوجہ بلاک نہ ہو۔ *شناختی کارڈ کی فوری اور مفت تبدیلی:* شوہر کی وفات کے بعد شناختی کارڈ میں ‘حالتِ ازدواج’ (Marital Status) کی تبدیلی کے لیے طویل دستاویزی ثبوتوں کی شرط نرم کی جائے اور بیوہ خواتین کے لیے نادرا کے ایگزیکٹو سینٹرز میں ترجیحی کاؤنٹرز قائم کر کے یہ کارڈ بالکل مفت اور 48 گھنٹوں میں جاری کیا جائے۔*درخواست کے ساتھ ہی ‘عبوری ریلیف’ کا آغاز:* کسی بھی امدادی اسکیم یا سرکاری وظیفے کی حتمی منظوری کے طویل پروسیجر کے دوران، درخواست جمع ہوتے ہی بیوہ اور اس کے بچوں کے لیے فوری طور پر کم از کم 3 ماہ کا ‘عبوری راشن یا نقد مالی امداد’ (Interim Relief) شروع ہو جانی چاہیے تاکہ وہ فائلیں چلنے تک فاقہ کشی پر مجبور نہ ہوں۔

جواب دیں

Back to top button