آزاد جموں و کشمیر لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس 2024 جاری،دس روز اعتماد کا ووٹ دو تہائی اکثریت نہ لینے والا چییرمین، میئر دیگر فارغ

قائم مقام صدر چوہدری لطیف اکبر نے آزاد جموں و کشمیر لوکل گورنمنٹ (ترمیمی) آرڈیننس، 2024 جاری کردیا ہے۔جو پورے آزاد جموں و کشمیر میں فوراً نافذ العمل ہوگا۔ازاد جموں و کشمیر لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے جس کے مطابق اگر کسی مقامی کونسل کا چیئرمین یا وائس چیئرمین، میئر یا ڈپٹی میئر ہر مالی سال کے 30 جولائی تک کونسل کا بجٹ منظور کرانے میں ناکام رہتا ہے، تو اسے دس دنوں کے اندر اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوگا۔ ذیلی دفعہ (1) کی روح کے مطابق لوکل کونسل تشکیل دینے والے اراکین کی کل تعداد کی دو تہائی اکثریت سے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے فوری طور پر عہدہ خالی کرنا پڑے گا اور کونسل نئے چیئرمین یا وائس چیئرمین، میئر یا ڈپٹی میئر کا انتخاب کرے گی۔ معاملہ طے شدہ طریقے سے ہوسکتا ہے۔”حکومت آزاد جموں و کشمیر کے مطابق لوکل گورنمنٹ ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے بلدیاتی ممبران کو چیئرمین، وائس چیئرمین، میئر یا ڈپٹی میئر کو منتخب کرنے اور ہٹانے کا منصفانہ موقع فراہم کیا گیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس جاری نہیں ہے اور صدر اس بات سے مطمئن ہیں کہ ایسے حالات موجود ہیں جس کی وجہ سے فوری ایکشن لینا ناگزیر ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 41 کی ذیلی شق ون کے ذریعے حاصل اختیارات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔آزاد جموں و کشمیر لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 کے سیکشن 15 کی ذیلی دفعہ (1)کے بعد ایک ذیلی دفعہ (1)اے شامل کی گئی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر کے بلدیاتی نمائندوں کی اکثریت نے قائمقام صدر چوہدری لطیف اکبر

کی جانب سے جاری کردہ آرڈینس کو مسترد کردیا ہے جن کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے سر پر نئی تلوار لٹکا دی گئی ہے۔لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بذریعہ آرڈیننس ترمیم کردی گئی ہیں۔ فنڈز اور اختیارات نہیں دیئے مگر بجٹ پاس کرنے پر زور ورنہ دس دن کے اندر دو تہائی اکثریت سے اعتماد کا ووٹ نہ لینے والا چییرمین فارع ہو جائے گا اور نئے چئیرمین کے انتخابات ہونگے، یہ بلدیاتی نمائندگان کی حقوقِ کے حصول کے لیے جاری تحریک کو سبوتاز کرنے ،آپس میں الجھانے اور بلدیاتی نمائندگان اور حکومتی کمیٹی کے درمیان طے شدہ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ مسودہ کو اسمبلی سے پاس کروانے سے روکنے کی سازش انشاءاللہ ناکام ہوگی انشاءاللہ جو بھی جس بھی پارٹی کا چیئرمین جس سیٹ پر موجود ہے اس کو دو تہائی نہیں اس سوفیصد ممبران اعتماد کا ووٹ دے کر حکومت کے سازشی آرڈیننس کو اس کے منہ پر دے ماریں گے ان ممبران اسمبلی اور عہدیداران کو بھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ ایک دن آپ کو بھی عوام کی عدالت میں آنا ہے صرف دو سال رہ گئے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button