ایل ڈی اے کو 2016 کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد کروانے میں ناکامی کا سامنا،کیا2050 کا بھی یہی حال ہوگا،تحقیقاتی رپورٹ

(راجا محبوب صابر،بلدیات ٹائمز ڈاٹ کام )لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ماسٹر پلان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے کیلئے کوئی مضبوط نظام موجود نہیں ہے نہ ہی ایل ڈی اے کی لاہور ڈویژن میں لینڈ یوز کے حوالے سے دیگر اداروں سے کوآرڈینیشن موجود ہے۔لاہور ڈویژن کے ماسٹر پلان کے حوالے سے *بلدیات ٹائمز ڈاٹ کام* کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایل ڈی اے کا رائج ماسٹر پلان 2016 جو 2021 میں ختم ہو چکا ہے جبکہ 2050 کا ماسٹر پلان کئی سالوں سے زیر التواء ہے۔جس میں آخری پیش رفت اب محکمہ ماحولیات پنجاب کی جانب سے ہو رہی ہے جو عوامی شنوائی اور اعتراصات کے حوالے سے متحرک ہوا ہے۔ماسٹر پلان 2050 بھی 2016 کا تسلسل ہے جس میں اتنی زیادہ خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں کہ اس کے مواثر ہونے کے حوالے سے زیادہ امکانات موجود نہیں ہیں۔ماسٹر پلان لاہور ڈویژن 2016 پر عمل درآمد کے حوالے سے ایل ڈی اے جو ذمہ دار ادارہ ہے نہ تو کوئی باقاعدہ انفورسمنٹ اور مانیٹرنگ سسٹم موجود ہے نہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرنے والے دیگر اداروں سے کبھی رابطہ کیا گیا ہے۔نہ کوئی مراسلہ نہ نوٹس،ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرنے والے ادارے اور افراد کی کوئی پکڑ نہیں جس کی وجہ سے لاہور ڈویژن کا حلیہ بگڑ چکا ہے۔چیف میٹروپولیٹن پلاننگ ونگ ایل ڈی اے کا دائرہ کار محدود ہے جس کے پاس افرادی قوت،وسائل،اور جدید ٹیکنالوجی کی کمی ہے۔ایل ڈی اے کے شعبہ ٹاؤن پلاننگ و کمرشلائزیشن اور سی ایم پی ونگ تک میں مثالی کوآرڈینیشن کا فقدان ہے۔اس کے علاوہ لاہور ڈویژن میں لینڈ یوز،تعمیراتی سرگرمیوں وغیرہ کے حوالے سے مختلف اداروں کا اپنی اپنی اجارہ داری ہے جس پر ایل ڈی اے کا کوئی چیک نہیں ہے۔ان میں بلدیہ عظمٰی لاہور، روڈا،پنجاب والڈ سٹیز اینڈ ہیریٹیج ایریاز اتھارٹی،کوآپریٹو سوسائٹیز،ہاؤسنگ،کنٹونمنٹ بورڈز، ڈی ایچ ایز،میونسپل کمیٹیز،ضلع کونسلز،پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی،پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی سمیت دیگر بنائی گئی اتھارٹیز اہم ہیں۔غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیاں ناصرف زرعی اور کھادر ایریا میں خطرناک حد تک ہوئی ہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں بھی ان کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ایل ڈی اے کی توجہ ماسٹر پلان پر عملدرآمد سے زیادہ ریونیو میں اضافہ پر مرکوز ہے جس کے لئے کئی رہائشی آبادیوں کی سڑکوں اور ایریاز کو دھڑا دھڑ کمرشل میں تبدیل کر دیا گیا۔لاہور کے علاوہ دیگر اضلاع شیخوپورہ،قصور،ننکانہ صاحب میں بلڈنگ کنٹرول،لینڈ یوز اور نجی ہاؤسنگ سکیموں کے حوالے سے بلدیاتی اداروں اور ایل ڈی اے کے طویل تنازعہ کا فائدہ سب سے زیادہ لینڈ مافیا نے اٹھایا ہے جہاں ناصر ہزاروں کی تعداد میں غیر قانونی رہائشی و کمرشل تعمیرات ہوئیں بلکہ غیر قانونی انڈسٹریل یونٹس بھی تعمیر ہو چکے ہیں۔غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور لینڈ سب ڈویژنز کا پھیلاو ماسٹر پلان کے برعکس زرعی اور کھادر ایریا سے ہوتا ہوا اب سرحدی علاقوں تک پھیل گیا ہے جو پاکستان آرمی کس کنٹرول اور ممنوعہ ایریا ہے۔نئے ماسٹر پلان کی تیاری میں اصل کھیل گرین اور براون ایریا کا ہے جس میں اعلٰی افسران پڑنا نہیں چاہتے ۔ماسٹر پلان میں تاخیر کا یہ بھی ایک سبب ہے۔جس کا حمیازہ ایک سابق وزیر اعلٰی پنجاب کچھ عرصہ قبل بھگت چکے ہیں۔لاہور ڈویژن میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذریعے ایک ہی ادارے کو تمام کنٹرول دینے کی تجویز پر کئی مرتبہ کام ہوا لیکن تمام کوششیں بے سود رہیں۔سابق کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نے سنجیدہ کوشش کی لیکن انھیں بھی کامیابی نہ ملے۔سندھ میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی فعال ہے۔پنجاب میں ماسٹر پلانز کے حوالے سے محکمہ بلدیات اور محکمہ ہاؤسنگ،محکمہ کوآپریٹو، محکمہ صنعت،محکمہ ماحولیات، محکمہ انہار،محکمہ زراعت اور دیگر میں کوآرڈینیشن کا فقدان ہے۔محکمہ ہاؤسنگ اور محکمہ بلدیات کے قوانین بھی متصادم نظر آتے ہیں۔لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اگر لاہور ڈویژن کا ماسٹر پلان 2050 نوٹیفائی کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تو یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کروانے کیلئے اور دیگر اداروں پر کنٹرول ،چیک،مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کے حوالے سے کیا مواثر حکمت عملی اپنائی جائے گی،سخت اور عملی اقدامات کئے جائیں گے یا 2016 کے ماسٹر پلان کی طرح 2050 کے ماسٹر پلان کی بھی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں گی اور لاہور کے بعد دیگر اضلاع کا زرعی،کھادر اور سرحدی ایریا خطرناک حد تک سکڑ جائے گا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ واسا لاہور کا ماسٹر پلان بھی ایل ڈی اے کے ماسٹر پلان سے مشروط کر دیا گیا ہے۔واسا لاہور کے ماسٹر پلان کی مدت 25 سال قبل ختم ہو چکی ہے۔اربوں روپے کے فنڈز سیوریج اور ڈرینج کی سکیموں پر بغیر لانگ ٹرم پلاننگ کے لگائے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button