اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر برائے نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ، اور مواصلات عبد العلیم خان سے وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان نے ملاقات کی اس موقع پر وزیر اعلی نے جگلوٹ سکردو روڈ کو مسافروں اور سیاحوں کے لئے محفوظ بنانے اور کے۔کے۔ایچ کے معاوضوں کی ادائیگیوں سمیت گلگت بلتستان کے روڈ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے پر بات کی۔

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ جگلوٹ سکردو روڈ کو مسافروں اور سیاحوں کے لئے محفوظ بنانے سروے کر 15 ارب کی فزیبلٹی پلاننگ کمیشن میں جمع کرائی ہے جس میں 9 مقامات کو محفوظ بنانے کیلئے ضروری اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔اس فزبلیٹی کی جلد ایکنک سے منظوری کو یقینی بنایا جائے گا۔اس موقع پر وفاقی وزیر عبد العلیم خان نے متاثرین شاہراہِ قراقرم کو معاوضوں کی ادائیگی کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔شمالی علاقہ جات سیاحت کے لئے اپنی مثال آپ ہیں، گلگت بلتستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کے ساتھ منسوب ہے اور ہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے ان علاقوں میں روڈ نیٹ ورک کی بہتری کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال ہزاروں سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں جو ان علاقوں کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں وفاقی وزیر نے سیاحوں کے لیے ٹول ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز دی جس سے حاصل ہونے والا ریونیو این ایچ اے کے روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جائے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ گلگت بلتستان کے مقامی باشندے اس ٹول ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان نے وفاقی وزیر کے ترقیاتی اقدامات کی تعریف کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت این ایچ اے کے ساتھ مل کر خطے کی ترقی کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر خزانہ محمد اسماعیل، وفاقی سیکریٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے بھی موجود تھے۔






