*لاہور پولیو سے پاک ہونے کی جانب گامزن!ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کی قیادت میں ریکارڈ کامیابی* تحریر: حارث علی، ترجمان ضلعی انتظامیہ

لاہور میں ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کی زیرِ قیادت انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر اس موذی مرض سے محفوظ رکھنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس کے تحت نہ صرف گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائے جا رہے ہیں، بلکہ عوامی آگاہی میں اضافے کے لیے بھی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔2 فروری 2025 کو ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل محمد شوجین وسطرو اور سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر زوہیب حسن خان نے شرکت کی۔ اجلاس میں مہم کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پانچ سال سے کم عمر کا کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام ڈیٹا کو موبائل ایپلی کیشنز پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی، تاکہ مہم کی شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو مہم میں کسی قسم کی کوتاہی ناقابلِ برداشت ہوگی۔3 فروری 2025 کو رواں سال کی دوسری انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ مہم 9 فروری تک جاری رہے گی۔ ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے بتایا کہ اس مہم کے دوران 22 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے انتظامی افسران کو ہدایت کی کہ وہ پولیو ورکرز کی فیلڈ میں سخت نگرانی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔3 فروری کو ہی، ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا نے خود فیلڈ میں جا کر پولیو ٹیموں کا جائزہ لیا اور ان سے ملاقات کی۔ انہوں نے ٹیموں سے پولیو کی صورتحال پر بریفنگ لی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ ڈور ٹو ڈور جا کر لوگوں کو پولیو کے قطروں کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ انہوں نے مسڈ اور ریفیوزل کیسز پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔4 فروری کو ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت مہم کے پہلے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پہلے روز 4 لاکھ 43 ہزار 593 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ مختلف اسسٹنٹ کمشنرز نے اپنے اپنے علاقوں میں پولیو ٹیموں کا معائنہ کیا اور ٹیموں کی حوصلہ افزائی کی۔5 فروری کو بھی ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کی زیر صدارت دوسرے دن کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 448440 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے مہم کو قومی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانا اولین ترجیح ہے۔6 فروری کو تیسرے دن کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں بتایا گیا کہ 3 لاکھ 86 ہزار 667 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 67 ریفیوزل کیسز میں سے 60 بچوں کے والدین کو قائل کر کے انہیں قطرے پلوائے گئے ہیں۔6 فروری کو ہی، ڈپٹی کمشنر نے فیلڈ کا دورہ کیا اور پولیو ورکرز سے ملاقات کی۔ انہوں نے پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اسی جذبے کے ساتھ کام جاری رکھیں۔7 فروری کو مہم کے چوتھے روز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عظمیٰ کاردار نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 20 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔7 فروری کو ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر ضلع بھر میں انسداد پولیو مہم جاری رہی۔ اسسٹنٹ کمشنرز نے اپنے اپنے علاقوں میں ٹیموں کا معائنہ کیا اور غفلت برتنے پر یو سی ایم او کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔8 فروری کو سات روزہ مہم کا چھٹا دن اور پہلا کیچ اپ ڈے تھا۔ تاہم 9 فروری مہم کا آخری روز اور دوسرا کیچ اپ ڈے ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر سید موسی رضا نے بتایا کہ پانچویں روز 3 لاکھ 83 ہزار تین بچے پولیو کے قطرے پی کر محفوظ ہوۓ۔ انہوں نے کہا کہ کیچ اپ ڈے میں رہ جانے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا سلسلہ جاری رہے گا، اور والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔

مجموعی طور پر، ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کی قیادت میں لاہور میں انسدادِ پولیو مہم نہایت کامیابی سے جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی بھرپور کوششوں اور شہریوں کے تعاون سے لاہور کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کیا جا سکے گا۔

جواب دیں

Back to top button