وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کا فیز ٹو اپریل میں عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ 15 کلومیٹر اس طویل فیز کے درمیان 4 کلومیٹر طویل اوور ہیڈ پل بنایا جارہا ہے، جس میں کراچی کی تاریخ کے سب سے بڑے گارڈز نصب کئے جارہے ہیں۔ 54 ارب روپے کی لاگت سے 36 کلومیٹر کی یہ ایکسپریس وے دسمبر 2025 تک مکمل کھول دیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز زیر تعمیر شاہراہ ذوالفقار علی بھٹو ایکسپریس وے کے فیز ٹو کے دورے کے دوران میڈیا کو بریفنگ اور ان کے سوالوں کے جواب میں کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلٰی سندھ کے معاون خصوصی سید وقار مہدی، علی راشدی، رضا ہارون، وزیر اعلٰی سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، راجہ رزاق، پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو، ڈپٹی کمیشنر ملیر و دیگر افسران بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر سعید غنی و دیگر نے شاہراہ بھٹو کے فیز ٹو پر جاری ہیوی کام کا جائزہ لیا اور اس حوالے سے پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو سے تفصیلی بریفنگ لی۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ شاہراہ بھٹو کے دوسرے مرحلہ یا سیکںنڈ انٹرچینج کا افتتاح اپریل میں کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے فیز کی افتتاحی تقریب میں ہم نے فیز ٹو کا افتتاح کا اعلان مارچ میں کیا تھا تاہم عیدالفطر کی تعطیلات اور رمضان المبارک کے دوران کام کی رفتار میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ البتہ یہ پورا منصوبہ دسمبر 2025 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہاں پر ہیوی کام ہورہا ہے اور کراچی میں اس سے بڑے گارڈرز کبھی نہیں بنائے گئے ہیں۔ یہاں پر کراچی کے سب سے بڑے گارڈرز بنائے گئے ہیں جبکہ دوسرے فیز میں ریلوے لائن اور قائد آباد پل کے اوپر سے 4 کلومیٹر طویل اوور ہیڈ بنایا جارہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ جام صادق پل سے یہاں قائد آباد کے فیز ٹو تک کا فاصلہ 15 کلومیٹر کا ہے، جو ہم نے بمشکل 11 منٹ میں طے کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے فیز کے مکمل ہونے سے ٹھٹہ اور ملیر کے لیے سفر میں آسانی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ منصوبہ پر ابتدائی طور سے ہی لاگت 54 ارب روپے ہی کی ہے اور یہ انشاءاللہ دسمبر 2025 تک اسی لاگت میں مکمل کرلیا جائے گا۔






