**سندھ میں زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای۔ٹائٹل ٹرانسفر کی جانب ایک اہم پیش رفت**

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی صدارت میں صوبے کی زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای۔ٹائٹل ٹرانسفر کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بقاع اللہ انڑ، پروفیسر ڈاکٹر آصف احمد شیخ، وائس چانسلر سکھر آئی بی اے یونیورسٹی، نور احمد سمو، سیکریٹری انفارمیشن، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ، حکومت سندھ، محمد نواز سوہو، سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن اور محکمہ ریونیو کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ حکومت عوام کو غیر ضروری طور پر سرکاری دفاتر کے چکر لگانے کی زحمت سے بچانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن اور ای۔ٹائٹل ٹرانسفر کے ذریعے عوام کو سہولت میسر آئے گی اور اس عمل میں مزید بہتری اور تیزی پیدا ہوگی۔اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ اس ڈیجیٹلائزیشن فریم ورک میں زمینوں کے ریکارڈ کی نظرثانی اور درستگی شامل ہے تاکہ ریکارڈ جیسے کہ وی۔ایف۔ VII-A اور وی۔ایف۔II کو دستی طور پر دوبارہ تحریر کرکے اس میں درستگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس عمل میں شناختی کارڈ (CNIC) نمبرز کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ ملکیت کی واضح تصدیق ممکن ہو سکے۔ مزید برآں، اس منصوبے میں ایک ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر بھی تیار کیا گیا ہے جس میں ولیج فارم- I کو ڈیجیٹائز کرکے سروے نمبر کے لحاظ سے تفصیلی ڈیٹا شامل کیا گیا ہے، جس میں غیر منتقلی قابل اراضی جیسے کہ قبرستان اور گاؤں کی تفصیلات بھی موجود ہوں گی۔ ریکارڈز کو محفوظ بنانے کے لیے بلاک چین بیسڈ ڈیٹا بیس آرکیٹیکچر اپنایا گیا ہے تاکہ ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی رد و بدل کو روکا جا سکے، اور ملکیت کی تصدیق کے لیے CNIC سے منسلک مکمل ریکارڈ موجود ہو۔ اس کے علاوہ، ایک ویب بیسڈ ای۔ٹائٹل ٹرانسفر فریم ورک بھی متعارف کرایا گیا ہے جو ایک کاغذی کارروائی سے پاک اور مؤثر نظام ہے، جسے نادرا، ایف بی آر، بینکوں اور دیگر سرکاری دفاتر سے منسلک کیا گیا ہے۔چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ اس نظام سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی کیونکہ تمام لین دین کو ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کیا جائے گا، جس سے غیر ضروری مداخلت کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا پائلٹ پروجیکٹ دیہہ مٹیاری اور پالیجانی (ضلع و تعلقہ مٹیاری) اور دیہہ باگرجی (تعلقہ و ضلع سکھر) میں شروع کیا گیا ہے، جہاں ریکارڈ کی دوبارہ تحریر اور سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے اشتراک سے ڈیجیٹل پروٹوٹائپ پر کام جاری ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے مزید کہا کہ اس منصوبے کو جلد ہی وزیر اعلیٰ سندھ کے سامنے باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا تاکہ اس ایپلیکیشن کا باضابطہ آغاز کیا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button