پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ،علی امین گنڈاپور نے وزیراعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کر دیا

پن بجلی کے خالص منافع کی مد میں خیبر پختونخوا کے بقایاجات کی ادائیگیوں کا معاملہ،وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے وزیراعظم شہباز شریف کو مراسلہ ارسال کر دیا۔اس میں لکھا گیا ہے کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (2)161 میں پن بجلی کے خالص منافع کا معاملہ واضح کیا گیا ہے۔آئین کے مذکورہ آرٹیکل کے مطابق پن بجلی گھروں سے حاصل ہونے والی منافع کی رقم متعلقہ صوبوں کو ملنا ہے۔

صوبوں کو ملنے والی اس رقم کی شرح کا تعین مشرکہ مفادات کونسل نے کرنا ہے۔مشترکہ مفادات کونسل نے اس مقصد کے لئے 1991 میں قاضی کمیٹی میتھاڈالوجی (کے سی ایم) کی منظوری دی تھی۔کے سی ایم فارمولے کے تحت 1992 میں اس وقت کے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبر پختونخوا) کو چھ ارب روپے کی پہلی ادائیگی ہوئی تھی۔سال 1997 میں نیشنل فنانس کمیشن اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس کے سی ایم فارمولے کی توثیق کی ہے۔سال 2016 میں وفاقی حکومت نے اس معاملے سے متعلق ایک عبوری طریقہ کار بھی متعارف کروا دیا۔مشترکہ مفادات کونسل نے بھی اس عبوری طریقہ کار کی توثیق کی ہے۔ اس عبوری طریقہ کار کے مطابق پن بجلی کے خالص منافع کی شرح 1.10 روپے فی کلوواٹ آور مقرر کیا گیا ہے۔عبوری طریقہ کار میں مزکورہ شرح پر سالانہ پانج فیصد اضافہ بھی مقرر کیا گیا ہے۔اسی طریقہ کار کے تحت واپڈا نے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کو ادائیگیاں شروع کیں۔تاہم مذکورہ طریقہ کار کے تحت باقاعدگی سے ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے خیبرپختونخوا کی 75 ارب روپے کی واجبات جمع ہوگئیں، سال 2018 میں خیبر پختونخواہ حکومت نے کے سی ایم فارمولے پر مکمل عملدرآمد کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھا لیا،

جس کے نتیجے میں مشترکہ مفادات کونسل پن بجلی کے خالص منافع کی شرح کا تعین کرنے کے لئے ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن کی سربراہی میں ایک کمپنی تشکیل دی۔اس کمیٹی نے دسمبر 2019 میں اپنی رپورٹ پیش کی جس کی مشترکہ مفادات کونسل نے توثیق کردی ہے۔اس رپورٹ میں مالی سال 17-2016 کے لئے کے سی ایم فارمولے کے مطابق خیبرپختونخوا کے 128 ارب روپے بقایاجات کی تصدیق کی گئی ہے،

بعد ازاں صوبوں کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگیوں کے معاملے کا اوٹ آف دی باکس حل تجویز کرنے کے لئے ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی۔آوٹ آف دی باکس کمیٹی نے اسی معاملے کے حل کی طرف پیشرفت کے لئے تمام شراکت داروں سے تجاویز طلب کی ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس سلسلے میں اپنی تجاویز پلاننگ کمیشن کو ارسال کردی ہے۔خیبر پختونخوا حکومت کو درپیش مالی بحران کے پیش نظر اس مسلئے کے فوری حل کی ضرورت ہے۔لہذا آوٹ آف دی باکس کمیٹی کا اجلاس جلد بلانے کے لئے پلاننگ کمیشن کو احکامات جاری کئے جائیں۔تاکہ آئین کے تقاضوں اور مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کے مطابق اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جاسکے۔ امید ہے آپ خیبر پختونخوا کے عوام کو ان کے آئینی اور قانونی حقوق دلانے میں قائدانہ کردار ادا کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button