خیبر پختونخوا، تنخواہوں سے محروم سینیٹیشن کمپنی کے 25 ملازمین کی برطرفی کا معاملہ سنگین صورتحال اختیار کر گیا

تنخواہوں سے محروم سینیٹیشن کمپنی کے 25 ملازمین کی برطرفی کا معاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے، جس نے نہ صرف متاثرہ ملازمین بلکہ سرکاری نظام میں شفافیت اور قانونی عملداری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ٹی ایم اے ایمپلائز یونین بنوں کے مطابق سی او ڈبلیو ایس ایس سی کے پاس ملازمین کو برطرف کرنے کا کوئی واضح قانونی اختیار موجود نہیں، پھر یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر کس قانون کے تحت یہ برطرفیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں؟ اگر سی او کو یہ اختیار حاصل ہے تو ماضی میں سابقہ سی او کی جانب سے برطرف کیے گئے منیجرز اب تک کس قانونی بنیاد پر اپنی نشستوں پر براجمان ہیں؟یونین کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ نہ صرف امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ادارے کے اندر دوہرے معیار اور غیر شفاف پالیسیوں کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ ایک طرف 25 ملازمین کو تنخواہوں سے محروم کر کے برطرف کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ:* برطرفیوں کی قانونی حیثیت واضح کی جائے

* متاثرہ ملازمین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ ادارے کے اندر یکساں اور شفاف پالیسی نافذ کی جائےبصورت دیگر، ٹی ایم اے ایمپلائز یونین بنوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو اعلیٰ حکام اور عدالتوں تک لے جائیں گے۔

جواب دیں

Back to top button