سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے مالی وسائل میں اضافے، سماجی تحفظ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور سبز معیشت کے فروغ پر مبنی مالی سال 2026-27 کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا ہدف سندھ کو تجارت، مالیات، ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی کا علاقائی مرکز بنانا ہے۔بجٹ پیش کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ بجٹ مہنگائی، موسمیاتی خطرات اور معاشی غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کے تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کی معیشت میں بحالی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں، تاہم عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، توانائی کی قیمتوں اور دیگر اخراجات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ حکمت عملی کا مقصد مالیاتی استحکام برقرار رکھنا اور عوامی فلاح و بہبود پر سرمایہ کاری جاری رکھنا ہے۔ بجٹ میں مجموعی اخراجات تقریباً 3.562 کھرب روپے تجویز کیے گئے ہیں جبکہ تقریباً 36.9 ارب روپے خسارے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے بجٹ کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے جس سے ترقیاتی اخراجات، سماجی خدمات اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری ممکن ہوئی ہے۔مراد علی شاہ نے انکشاف کیا کہ صوبائی حکومت کو وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے انتظام کے تحت بعض واجبات کی ادائیگی کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ’’مشکل مالی حالات کے باوجود ہم نے ان شعبوں کو ترجیح دی ہے جو براہِ راست عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘‘وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جائے گا جبکہ تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ اعلان کردہ اقدامات میں تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی اور انشورنس ایجنٹس و بروکرز پر لاگو بعض ٹیکسوں میں کمی شامل ہے۔ بجٹ میں زرعی شعبے کو بھی ریلیف دیا گیا ہے، جس کے تحت قابلِ ٹیکس آمدن کی حد 500 ملین روپے تک بڑھا دی گئی ہے اور متعلقہ شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 43 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، جن میں بینظیر ہاری کارڈ، مزدوروں کے لیے فلاحی پروگرام اور بیواؤں و یتیموں کے لیے امدادی اسکیمیں شامل ہیں۔ ترقیاتی شعبے میں مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 520 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں 99.6 ارب روپے ٹرانسپورٹ و مواصلات اور 6.3 ارب روپے زراعت و لائیو اسٹاک کے لیے رکھے گئے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے نے مہنگائی اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باوجود ترقیاتی اخراجات کے حوالے سے ریکارڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی اور سولرائزیشن کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے پاکستان کے بڑے گھریلو شمسی توانائی منصوبوں میں سے ایک کا اعلان کیا، جس کے تحت 18 ارب روپے کی لاگت سے کم آمدنی والے خاندانوں میں سولر سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ درمیانی آمدنی والے خاندانوں کے لیے رعایتی شمسی فنانسنگ پروگرام بھی شروع کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی چھتوں پر سولر سسٹمز نصب کر سکیں۔زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے حکومت زرعی اجتماعی اداروں سے متعلق قانون سازی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت کاشتکار زمین کی ملکیت برقرار رکھتے ہوئے وسائل کو مشترکہ طور پر استعمال کر سکیں گے۔ ان اجتماعی اداروں کو بینکوں سے قرض حاصل کرنے کی اہلیت دی جائے گی اور انہیں ذخیرہ سازی، جدید آبپاشی اور مارکیٹ تک رسائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد زرعی پیداوار، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت بڑھانا اور دیہی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ حکومت نے عوامی و نجی شراکت داری کے تحت ’’ویسٹ ٹو ویلیو اینڈ سرکولر اکانومی پروگرام‘‘ شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بلدیاتی کچرے کو توانائی، صنعتی ایندھن، میتھین گیس اور کاربن کریڈٹس میں تبدیل کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس پروگرام سے شہری ماحولیات میں بہتری، نئے مالی وسائل اور سبز روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ترقیاتی ترجیحات کے تحت مالی مشکلات کے باوجود 400 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اہم شعبوں میں بلدیاتی منصوبوں کے لیے 121.6 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 93 ارب روپے، تعلیم کے لیے 25.9 ارب روپے اور صحت کے لیے 17.4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
کراچی کے لیے مخصوص منصوبوں میں گریٹر کراچی سیوریج پلان، کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) فیز2 ، ٹریفک کوریڈورز کی بہتری، سڑکوں کی بحالی اور فائر بریگیڈ سروسز کی جدیدکاری شامل ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کراچی کو خصوصی ترجیح دی گئی ہے کیونکہ یہ صوبے کی معیشت کا بنیادی مرکز ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ کراچی کے ترقیاتی پورٹ فولیو میں شہر بھر کے منصوبوں سمیت 108.1 ارب روپے کے منصوبے شامل ہیں۔ ان کے مطابق کراچی میں 167 جاری منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے جن کی مجموعی لاگت 713 ارب روپے سے زائد ہے۔ بجٹ کا بڑا حصہ سڑکوں، فلائی اوورز، انڈرپاسز اور ٹریفک مینجمنٹ منصوبوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جن میں خیابانِ اتحاد اور خیابانِ شہباز پر انڈرپاسز بھی شامل ہیں۔شہری نکاسی آب اور سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے نالوں کی بہتری، سڑکوں کی نکاسی آب اور ایم 9 سے تھدو نالہ تک اسٹورم واٹر ڈرینج منصوبے کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جن میں کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ (کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) فیز 2 اور گریٹر کراچی سیوریج پلان (3ایس) شامل ہیں۔ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 13.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ماس ٹرانزٹ کے مختلف منصوبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ ٹھوس کچرے کے انتظام کو بھی ترجیح دی گئی ہے اور بجٹ میں کچرے سے توانائی پیدا کرنے اور دیگر پائیدار شہری منصوبوں کے لیے فنڈز شامل کیے گئے ہیں۔کم از کم اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 41 ہزار روپے ماہانہ کر دی گئی ہے جبکہ یکم جولائی سے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو 7 فیصد اضافے کا فائدہ حاصل ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ متوازن مالیاتی منصوبہ عوام کے مفادات کے تحفظ، معاشی ترقی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بڑے منصوبوں کے فروغ کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے توانائی وسائل سے منسلک ’’سندھ میری ٹائم اینڈ انڈسٹریل کوریڈور‘‘ کے قیام کے منصوبے کا بھی اعلان کیا۔بجٹ میں ’’سندھ انٹرنیشنل فنانشل سروسز سینٹر‘‘ کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا، جو مالیاتی خدمات، موسمیاتی فنانس اور بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں کے لیے مرکز کا کردار ادا کرے گا۔ ایک اور اہم منصوبے کے طور پر ’’سندھ گرین اینڈ ڈیجیٹل اکنامی پروگرام‘‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا، جس کے تحت ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ دیا جائے گا۔قابلِ تجدید توانائی کو مستقبل کی ترقی کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے 18 ارب روپے کی لاگت سے غریب گھرانوں میں سولر سسٹمز کی تقسیم اور سندھ بینک و سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے رعایتی سولر فنانسنگ اسکیم کا اعلان کیا۔ زراعت کے شعبے میں کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دینے کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی تجویز پیش کی گئی۔مراد علی شاہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ایسے منصوبوں کا بھی خاکہ پیش کیا جن کے ذریعے کچرے کو توانائی میں تبدیل کیا جائے گا، کاربن کریڈٹس حاصل کیے جائیں گے اور ماحولیاتی آلودگی میں کمی لائی جائے گی۔ مالی سال 2025-26 کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صحت، تعلیم، پبلک ٹرانسپورٹ اور امن و امان کے شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز، سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن، ایمبولینس نیٹ ورک اور 1123 ٹیلی طبیب سروس جیسے اداروں اور منصوبوں نے عوام کو معیاری سہولیات فراہم کیں۔ تعلیم کے شعبے میں ایک ہزار 300 سے زائد اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی بھرتی اور ابتدائی بچپن کی تعلیم کے پروگراموں میں توسیع کو نمایاں کامیابیاں قرار دیا گیا۔امن و امان کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی پولیسنگ کے باعث جرائم میں کمی آئی جبکہ ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔اپنی تقریر کے اختتام پر مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کے تحفظ، انسانی ترقی اور مستقبل کی تعمیر کے عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ایک ایسے سندھ کا خواب دیکھتے ہیں جہاں ہر بچے کو معیاری تعلیم، ہر خاندان کو صحت کی سہولت اور ہر شہری کو ترقی اور خوشحالی میں برابر کا حصہ ملے۔






