الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے محرم الحرام اور صفر کے دوران مذہبی اجتماعات، جلوسوں، امن و امان کی صورتحال اور سیکیورٹی انتظامات کے پیش نظر بلدیاتی انتخابات کے بقیہ انتخابی مراحل کو موخر کرتے ہوئے نیا انتخابی شیڈول جاری کر دیا ہے۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کا پروگرام 3 جون 2026 کو جاری کیا گیا تھا، تاہم انتخابی عمل کے باقی مراحل محرم الحرام اور صفر کے ایام میں آنے کے باعث مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں کی جانب سے انتخابات موخر کرنے کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان درخواستوں میں مذہبی سرگرمیوں، جلوسوں، عوامی شرکت، سیکیورٹی فورسز کی مصروفیات اور امن عامہ کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے موصولہ سفارشات، موجودہ سیکیورٹی صورتحال، انتظامی ضروریات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے باقی مراحل کو عارضی طور پر معطل کر کے نیا انتخابی شیڈول مقرر کیا جائے تاکہ انتخابی عمل پرامن، شفاف، منصفانہ اور عوامی شرکت کے تقاضوں کے مطابق مکمل کیا جا سکے۔چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان (تمغۂ شجاعت) نے متعلقہ قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے تحت کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سے لے کر پولنگ تک کے تمام باقی مراحل کو نئے شیڈول کے مطابق منعقد کیا جائے گا۔شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق نظرثانی شدہ انتخابی شیڈول کے تحت کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال 10 اگست تا 17 اگست 2026،ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کا اندراج 18 اگست تا 21 اگست 2026،اپیلوں پر فیصلہ 22 اگست تا 28 اگست 2026،نظرثانی شدہ فہرست امیدواران کی اشاعت 29 اگست 2026،دستبرداری اور حتمی نظرثانی شدہ فہرست کی اشاعت 31 اگست 2026،انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ اور حتمی فہرست امیدواران کی اشاعت یکم ستمبر 2026،پولنگ ڈے 27 ستمبر 2026 (اتوار) ہوگا۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کے اجراء سے قبل انتخابی پروگرام کے تحت مکمل کیے گئے تمام مراحل اور اقدامات بدستور موثر اور قانونی طور پر درست تصور کیے جائیں گے۔الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نے تمام سیاسی جماعتوں، امیدواروں، ووٹرز اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ نظرثانی شدہ انتخابی شیڈول پر عمل درآمد میں مکمل تعاون کریں تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد خوش اسلوبی، شفافیت اور جمہوری اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔





