لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن خیبرپختونخوا نےبلدیاتی اداروں کے اڈہ جات کا کنٹرول لوکل ایریا اتھارٹیز کے حوالہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ قرار دے دیا

بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن وقتاً فوقتاً ختم کئے جاتے رہے۔بلدیاتی ادارے کمزور سے کمزور تر ہوگئے ہیں اور اپنے وسائل سے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کو تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کرنے کے قابل نہیں رہے جس کی وجہ سے بلدیاتی ملازمین اور پنشنرز کئی کئی مہینوں کی تنخواہوں اور پنشن سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار لوکل گورنمنٹ ایمپلائز فیڈریشن رجسٹرڈ خیبرپختونخوا کے عہدیداران شوکت کیانی، چئرمین محبوب اللہ ، صدر حاجی انور کمال خان، جنرل سیکریٹری سلیمان خان ہوتی، پاکستان ورکرز فیڈریشن کے مرکزی صدر شوکت علی انجم اور مزدور اتحاد میونسپل ورکر یونین پشاور کے چئیرمین قیصر باچہ، صدر شاہد مغل نے اپنے مشترکہ بیان میں بلدیاتی اداروں کے اڈہ جات کا کنٹرول لوکل ایریا اتھارٹیز کے حوالہ کرنے کے حکومتی فیصلہ کو غیر دانشمندانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے اسے کہا کہ صوبائی حکومت کے ناعاقبت اندیش اور غیر دانشمندانہ فیصلوں سے بلدیاتی اداروں کے ذرائع آمدن ختم ہو رہے ہیں اور بلدیاتی ادارے دن بدن کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں اور ان اداروں کی بہتری کے لئے ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ان اداروں کے ملازمین کے بچے تنخواہوں اور پنشن کی عدم فراہمی کی وجہ سے فاکوں سے دوچار ہیں۔ فیڈریشن عہدیداران نے صوبائی حکومت ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ، وزیر بلدیات مینا خان آفریدی ، چیف سیکریٹری سید شہاب علی شاہ اور سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی ظفرالاسلام خٹک سے فوری مداخلت کر کے بلدیاتی اداروں کی جائیداد اڈہ جات وغیرہ کے سلسلہ میں غیر منصفانہ ، غیر دانشمندانہ فیصلوں کی منسوخی اور میونسپل پراپرٹیز کے دفاع کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

Back to top button