اس سال اب تک سندھ میں 4 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،ہربچے تک رسائی حاصل کی جائے، والدین کی ہچکچاہٹ دور کی جائے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت پولیو کے خاتمے سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ سال 2025 میں سندھ سے اب تک پولیو کے چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ 2024 میں 23 اور 2023 میں صرف دو کیسز سامنے آئے تھے۔ انہوں نے اس تناظر میں تمام اضلاع میں بہتر نگرانی اور مؤثر رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا تاکہ 21 سے 27 اپریل 2025 تک ہونے والی قومی انسداد پولیو مہم نیشنل امیونائزیشن ڈیز کو کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ساری توجہ اس سال اس بات پر مرکوز ہونی چاہیے کہ ہر بچہ پولیو کے قطرے ضرور پیے۔اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، سیکریٹری نالج و گورننس خالد حیدر شاہ، سیکریٹری تعلیم زاہد عباسی، سیکریٹری صحت ریحان بلوچ، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید اوڈھو، روٹری کے نمائندے عزیز میمن، سی ای او پی پی ایچ آئی جاوید جاگیرانی، صوبائی ای او سی کوآرڈینیٹر ارشاد سوڈھڑ، ای سی او ڈاکٹر احمد علی شیخ، ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر آصف علی، یونیسیف کے نمائندے ڈاکٹر عظیم خواجہ اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ سندھ میں 2025 کے دوران پولیو کے چار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ تعداد 2024 کے 23 کیسز اور 2023 کے 2 کیسز کے مقابلے میں کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ موجودہ چار کیسز بدین، لاڑکانہ، قمبر اور ٹھٹھہ کے اضلاع میں سامنے آئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے ہر بچے تک رسائی اور والدین کی ہچکچاہٹ پر مؤثر انداز میں قابو پانے کے لیے ضلعی سطح پر قیادت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر انکار کو آگاہی فراہم کرنے اور اعتماد قائم کرنے کا موقع سمجھا جائے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ڈپٹی کمشنرز کو فیلڈ میں فرنٹ لائن پر رہ کر یومیہ نگرانی کو یقینی بنانا ہوگا۔اجلاس میں موجودہ پولیو کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جس کے مطابق پاکستان میں 2025 کے اب تک کے کل چھ پولیو کیسز میں سے چار سندھ میں رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ کراچی کے تمام اضلاع سے ماحولیاتی نمونوں کے نتائج تاحال مثبت آ رہے ہیں۔ مسلسل ویکسینیشن مہم کے باوجود وائرس کا پھیلاؤ اہم شہری علاقوں میں جاری ہے۔ماحولیاتی نگرانی کے نتائج سے شہر کے تمام سات اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ضلع شرقی کے سہراب گوٹھ، مچھر کالونی، چکورہ نالہ اور راشد منہاس؛ ضلع غربی کے خمیسو گوٹھ؛ ملیر ضلع کے محمد خان کالونی اور اورنگی؛ کورنگی اور ضلع وسطی کے بہاولنگر گوٹھ، کورنگی نالہ اور حاجی مرید؛ جبکہ ضلع جنوبی کے حضرت کالونی، پی آئی ڈی سی اور منظور کالونی شامل ہیں۔سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژنز میں بھی ماحولیاتی نگرانی کے نتائج پولیو وائرس کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے باقاعدگی سے اور درست انداز میں ویکسینیشن کروائیں، وزیراعلیٰ نے کہا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ فروری 2025 میں 90,45,863 گھروں کو ہدف بنایا گیا جن میں سے 99 فیصد کا احاطہ کیا گیا۔ تاہم 2,020,959 بچے اب بھی رہ گئے، 1,77,960 گھروں پر کوئی دستیاب نہیں تھا، اور 42,999 نے ویکسینیشن سے انکار کیا۔ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ان کمیونٹیز میں مسلسل فالو اپ کی ضرورت پر زور دیا جہاں غلط معلومات یا تصورات کی وجہ سے مزاحمت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سپروائزرز کے کردار کو مضبوط کرنا ہوگا اور ہر اس گھر پر دو سے تین بار جانا ہوگا جہاں ابتدا میں ویکسین سے انکار کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غذائیت اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کو پولیو مہموں کے ساتھ مربوط رکھنا ہوگا۔چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے تمام انتظامی سربراہوں کو ہدایت دی کہ وہ مہم کی مکمل تیاری، سیکیورٹی کی ہم آہنگی اور ہائی رسک یونین کونسلز کی مانیٹرنگ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ ضلع سطح پر "وار رومز” قائم کریں تاکہ مہم کے دوران ریئل ٹائم ٹریکنگ اور مسائل کے فوری حل ممکن بنائے جا سکیں۔ای او سی سندھ ٹیم نے اجلاس کو مواصلاتی کوششوں پر بریفنگ دی، جس میں میڈیا، مذہبی رہنماؤں اورطبی ماہرین کی شمولیت شامل تھی۔ انہوں نے حالیہ فرکشنل آئی پی وی مہمات کی کامیابی اور آئندہ ہونے والی آئی ایس ڈی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے تمام افسران اور منتخب نمائندوں پر زور دیا کہ وہ اپریل کی پولیو مہم کے دوران پولیو ٹیموں کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وائرس ابھی بھی موجود ہے لیکن ہمارا عزم بھی قائم ہے۔ ہر بچے کا یہ حق ہے کہ ہم اس مہم کو کامیاب بنائیں۔ سندھ کو پولیو فری پاکستان کی قیادت کرنی ہے۔

جواب دیں

Back to top button